e Tax Service

e Tax Service Tax Service

12/11/2024

**پراپرٹی خریدتے وقت کیش میں ادائیگی سے پرہیز کریں!**

پراپرٹی کی خرید و فروخت میں کی جانے والی ایک چھوٹی سی غلطی آپ پر غیر ضروری ٹیکس کا بوجھ ڈال سکتی ہے۔ اس پوسٹ میں ہم ان نکات کا جائزہ لیں گے جو پراپرٹی خریدتے وقت مدنظر رکھنا لازمی ہیں۔ ایک خاص نکتہ ایسا ہے جس پر توجہ دے کر آپ تقریباً 20 فیصد ٹیکس بچا سکتے ہیں۔ نیز، جانیں گے کہ خرید و فروخت میں کتنی ادائیگی کیش میں کرنے کی اجازت ہے۔

جولائی 2024 سے پہلے، پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس (CGT) مختلف سلیبز میں لاگو تھا اور اگر کوئی شخص پراپرٹی کو چھے سال تک ہولڈ کرتا تھا تو CGT کی چھوٹ دی جاتی تھی۔ تاہم، جولائی 2024 کے بعد خریدی گئی پراپرٹی پر آپ کو 15 فیصد CGT دینا ہوگا، چاہے آپ پراپرٹی اگلے ہی دن بیچیں یا دس سال بعد۔ اس نئی شق کے باعث پراپرٹی کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ یہاں ہم دیکھیں گے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2024 کے بعد پراپرٹی خریدتے وقت کن امور کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 75-A کے مطابق، اگر آپ 5 ملین (پچاس لاکھ) یا اس سے کم قیمت کی پراپرٹی خرید رہے ہیں تو آپ اس کی قیمت کیش میں ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی پراپرٹی کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی، اس کی رقم کیش میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس صورت میں، خریدار کو بینک کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی، چاہے چیک ہو یا پے آرڈر۔ اکثر لوگوں کو اس قانون کا علم نہیں ہوتا، جس کے باعث ایف بی آر کے نوٹسز اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئیے ایک مثال سے اس بات کو سمجھتے ہیں۔

فرض کریں آپ نے 40 لاکھ کی پراپرٹی X خریدی اور اس کی رقم کیش میں ادا کردی۔ دو سال بعد اسے 60 لاکھ میں بیچ دیا۔ اب خرید و فروخت کے درمیان 20 لاکھ کا فرق آیا، جسے کیپٹل گین کہا جاتا ہے۔ اس 20 لاکھ پر آپ نے 15 فیصد CGT ادا کر دیا، اور چونکہ خرید و فروخت کی مکمل تفصیلات قانونی ہیں، تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

دوسری مثال میں ایک پراپرٹی Y ہے، جسے آپ نے 70 لاکھ میں خریدا اور کیش میں ادائیگی کی۔ کچھ وقت بعد اسے 90 لاکھ میں بیچ دیا اور 20 لاکھ کے کیپٹل گین پر 15 فیصد ٹیکس بھی ادا کر دیا۔ مگر یہاں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ چونکہ آپ نے 70 لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی تھی اور ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، اس لیے ایف بی آر آپ کو نوٹس بھیجے گا اور اس پر ٹیکس عائد کرے گا۔ اگر آپ کے پاس اس کیش ٹرانزیکشن کا بینک ریکارڈ نہیں ہے، تو ایف بی آر اس پراپرٹی کو 70 لاکھ کا کیپٹل گین تصور کرے گا اور آپ کو اس پوری رقم پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے آپ نے جائز کام کو بھی مسئلہ بنا لیا۔

یاد رکھیں، 50 لاکھ سے زائد کی پراپرٹی کی خریداری ہمیشہ بینک کے ذریعے کریں تاکہ آپ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہو اور غیر ضروری ٹیکس سے بچ سکیں۔

یہاں بات ختم نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے پچاس لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی، تو نہ صرف 15 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ مزید 5 فیصد جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں آپ کا سارا منافع ٹیکس اور جرمانے میں جا سکتا ہے۔ متعدد افراد کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ لہٰذا، اپنی ٹیکس ریٹرنز اور مالی امور ہمیشہ ایک پروفیشنل ٹیکس کنسلٹنٹ کی رہنمائی سے مکمل کریں تاکہ بڑی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when e Tax Service posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share