GTPA Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from GTPA, Tax preparation service, B-4, Gujranwala Business Center, Trust Plaza, G. T Road, Gujranwala.

15/05/2026

پریس ریلیز
جی ٹی پی اے کا وفاقی بجٹ 2026–27 کے لیے وائٹ پیپر جاری
ٹیکس نظام میں سادگی، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور معیشت کی دستاویزیت پر زور

گوجرانوالہ — [15-05-2026]
گوجرانوالہ ٹیکس پریکٹیشنرز ایسوسی ایشن (GTPA) نے وفاقی بجٹ 2026–27 کے لیے اپنی جامع سفارشات پر مبنی ایک وائٹ پیپر جاری کر دیا ہے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام کو سادہ، منصفانہ اور معاشی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کا مالیاتی نظام اس وقت کئی ساختی چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں محدود ٹیکس بیس، بالواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار، پیچیدہ قوانین، بڑھتی ہوئی مقدمہ بازی اور مہنگائی کے باعث عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی شامل ہیں۔ وائٹ پیپر میں ایسی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں جو نہ صرف محصولات میں پائیدار اضافہ کریں بلکہ ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری بوجھ بھی کم کریں۔

تنخواہ دار اور مقررہ آمدنی والے طبقات کے لیے ریلیف

جی ٹی پی اے نے تجویز دی ہے کہ انکم ٹیکس کی بنیادی استثنیٰ حد میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور اسے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) سے منسلک کیا جائے تاکہ ہر سال خودکار بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ ممکن ہو سکے۔

ایسوسی ایشن نے بزرگ شہریوں، کل وقتی اساتذہ اور محققین کے لیے سابقہ ٹیکس ریبیٹ بحال کرنے کی بھی سفارش کی ہے، کیونکہ یہ طبقات قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید برآں، منافع بر قرض (Section 151) کے تحت نارمل ٹیکس ریجیم میں شمولیت کی حد پانچ ملین روپے سے بڑھا کر دس ملین روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے بچت کنندگان کو ریلیف مل سکے۔

انکم ٹیکس نظام میں سادگی اور بہتری

وائٹ پیپر میں انکم ٹیکس کے موجودہ سلیب سسٹم کو سادہ اور معتدل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ جی ٹی پی اے کے مطابق معتدل ٹیکس شرحیں رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دیں گی اور معیشت کی دستاویزیت میں اضافہ کریں گی۔

ایسوسی ایشن نے حالیہ نافذ کردہ انکم ٹیکس سرچارج کو 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حوالے سے سفارش کی گئی ہے کہ سالانہ 12 لاکھ روپے تک کرایہ آمدن کو “علیحدہ بلاک آف انکم” کے تحت ٹیکس کیا جائے، بجائے اس کے کہ اسے نارمل ٹیکسیبل انکم میں شامل کیا جائے۔

کاروباری ترقی کے لیے ایس ایم ای (SME) کی حد 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے کاروباروں کو مزید سہولت میسر آئے۔

انتظامی و قانونی اصلاحات

جی ٹی پی اے نے غیر ضروری مقدمہ بازی کم کرنے کے لیے شفاف کمپیوٹرائزڈ آڈٹ سسٹم متعارف کرانے، نوٹسز کی بروقت اور قانونی طریقے سے ترسیل کو یقینی بنانے اور سیکشن 111 کے تحت اضافوں کو عدالتی نظائر کے مطابق بنانے کی سفارش کی ہے۔

اسی طرح آئی آر آئی ایس سسٹم میں ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے بعد پروفائل اور کیپیٹل اپ ڈیٹ خودکار بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سیلز ٹیکس میں اصلاحات

ایسوسی ایشن نے 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی شرح پر نظرثانی اور اسے بتدریج کم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

ضروری اشیائے زندگی پر سیلز ٹیکس کو صفر یا 5 فیصد تک محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقات کو مہنگائی سے تحفظ دیا جا سکے۔

سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 73 کے تحت بینکنگ چینل کی حد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کاروباری لین دین کو موجودہ معاشی حالات کے مطابق بنایا جا سکے۔

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جس کے تحت 10 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والے ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو سادہ شرحوں پر ٹیکس ادا کرنے کی سہولت دی جائے۔

فلور ملز کو بجلی کے بلوں پر “فردر اور ایکسٹرا سیلز ٹیکس” کی وصولی فوری بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہ قانوناً مستثنیٰ ہیں۔

شعبہ جاتی اصلاحات

برآمدات: فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی، برآمدی خام مال پر ڈیوٹی میں کمی اور ایکسپورٹ کلسٹرز کی تشکیل۔

زراعت: زرعی آمدنی کی استثنیٰ حد میں اضافہ، سادہ ٹیکس نظام، اور جدید مشینری و آبپاشی کے لیے سہولیات۔

تعلیم: تعلیمی بجٹ میں اضافہ، میرٹ و ضرورت پر مبنی اسکالرشپس، اور کم آمدنی والے طلبہ کے لیے فیس سبسڈی۔

ڈیجیٹل معیشت: موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر ڈیجیٹل آلات پر ٹیکس میں کمی تاکہ ڈیجیٹل شمولیت بڑھے۔

شمسی توانائی: نیٹ میٹرنگ نظام برقرار رکھا جائے اور چھوٹے سولر سسٹمز کے لیے لائسنس فیس ختم کی جائے۔

مالیاتی نظم و ضبط

جی ٹی پی اے نے غیر ہدفی سبسڈیز کے خاتمے اور وسائل کو مستحق طبقات تک محدود کرنے پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مالیاتی خسارہ کم ہو۔

مشاورتی عمل کی پیشکش

اپنے اختتامی بیان میں جی ٹی پی اے نے کہا کہ محصولات میں پائیدار اضافہ صرف ٹیکس شرحیں بڑھانے سے ممکن نہیں بلکہ نظام کو سادہ، شفاف اور منصفانہ بنانا ضروری ہے۔

ایسوسی ایشن نے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کے ساتھ تکنیکی مشاورت کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور امید ظاہر کی کہ یہ تجاویز آئندہ وفاقی بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔

22/04/2026

Introductory Meeting of GTPA Executive Committee 2026-2027 with Hon’ble Chief Commissioner along with senior officials dated 16th April, 20265, took recognition in main stream media as well.

Address

B-4, Gujranwala Business Center, Trust Plaza, G. T Road
Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GTPA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share