Tax Solution Desk

Tax Solution Desk We will provide you income tax and sales tax services

21/04/2025

پہلی بار جائیداد فروخت کرنے والوں پر ایڈوانس ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے پہلی بار جائیداد فروخت کرنے والوں کو ایڈوانس انکم ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو پہلی مرتبہ بیچنے والوں سے یہ ٹیکس وصول کرنے سے روک دیا ہے۔

جسٹس جواد حسن نے یہ عبوری حکم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 236C (4)(b) کی روشنی میں جاری کیا۔

واضح رہے کہ دفعہ 236C کے تحت جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی کٹوتی لازمی قرار دی گئی ہے، جو کہ افراد اور اداروں دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔ تاہم، مذکورہ شق کے مطابق اگر کوئی اصل الاٹی (Allottee) اپنی جائیداد پہلی بار فروخت کر رہا ہو، تو اسے اس ٹیکس سے قانونی طور پر استثنیٰ حاصل ہے۔

19/02/2025

*سپریم کورٹ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی*

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کمشنر ان لینڈ ریونیو (IR) کی لاہور ہائیکورٹ (LHC) کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی، جس میں ایگل کیبلز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔

کیس کی اہم تفصیلات:
ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ: ایگل کیبلز نے I.J. ٹریڈرز اور DAG انٹرپرائزز کے جاری کردہ انوائسز کی بنیاد پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا، جو بعد میں بلیک لسٹ کر دیے گئے۔

الزامات: ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو نے الزام لگایا کہ ایگل کیبلز نے جعلی انوائسز پر ٹیکس چھوٹ حاصل کی۔

دفاع: کمپنی کا مؤقف تھا کہ لین دین کے وقت سپلائرز ایف بی آر کی ویب سائٹ پر متحرک اور رجسٹرڈ تھے، لہذا وہ قانونی تقاضے پورے کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:

بینچ کی تشکیل: جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ایگل کیبلز کے حق میں فیصلہ دیا۔

انوائسز کی حیثیت: عدالت نے کہا کہ اگر سپلائرز رجسٹرڈ اور فعال ہوں تو بعد میں ان کی بلیک لسٹنگ یا معطلی کے باوجود جاری کردہ انوائسز کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ثبوت کی عدم موجودگی: درخواست گزار (کمشنر IR) یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ انوائسز سپلائرز کے بلیک لسٹ ہونے کے بعد جاری کی گئی تھیں۔

ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا حق: وہ خریدار جنہوں نے سپلائرز کے رجسٹریشن معطل ہونے یا بلیک لسٹ ہونے سے پہلے خریداری کی، اور ادائیگی بینکنگ چینلز کے ذریعے کی، وہ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے مستحق ہیں۔

فیصلے کی اہمیت:
کاروباری تحفظ: یہ فیصلہ کاروباری اداروں کو ریٹرو ایکٹیو بلیک لسٹنگ کے نتیجے میں غیر منصفانہ ٹیکس کے مطالبات سے بچانے کے لیے اہم ہے۔

قانونی وضاحت: عدالت نے ایف بی آر کے ویری فکیشن سسٹم اور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے اصولوں کو واضح کر دیا۔

مثال قائم کرنا: اس فیصلے سے ایک مثالی نظیر قائم ہوئی ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی کاروبار کو بعد میں بلیک لسٹ ہونے والے سپلائرز کی بنیاد پر سزا نہیں دے سکتے، اگر سپلائرز خریداری کے وقت قانونی طور پر رجسٹرڈ اور فعال تھے۔
یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط کرتا ہے اور ٹیکس قوانین کے منصفانہ نفاذ کو یقینی بناتا ہے۔

29/12/2024

انکم ٹیکس کا ترمیمی بل پاس ہوچکا ہے، ایسے مسودے کے اندر صرف وہ مین پوانٹس ہوتے ہیں جن کی اجازت مانگی گئی ہو پھر منظوری ملنے کے بعد ہر سیکشن کے رُولز مرتب ہوتے ہیں کہ کونسے پوائنٹ پر کس طرح سے عملدرآمد ہوگا۔

آئندہ چند روز میں جب یہ چیزیں قانون کا حصہ بن جائیں گے تب میں آپ کو تفصیلی آگاہی بھی دے دوں گا فی الحال وہ چند پوائنٹس بتا رہا ہوں جن کی منظوری دی گئی ہے۔

1۔ نان فائلرز اب موٹرسائیکل، رکشہ اور ٹریکٹر کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔

2۔ نان فائلرز کسی کار کمپنی یا ڈیلر سے نئی گاڑی نہیں بک کرا سکیں گے۔

3۔ نان فائلرز اگر اوپن مارکیٹ سے گاڑی لے لیں گے تو اپنے نام پر رجسٹر یا ٹرانسفر نہیں کرا سکیں گے۔

4۔ ٹرانسپورٹ کمپنیز اپنے لئے بس یا ٹرک خریدنا چاہیں تو اس کیلئے اجازت لینی پڑے گی۔

5۔ ٹیکس ریٹرن میں اپنی مالی حیثیت ظاہر کئے بغیر جائیداد لیں گے تو اس کی رجسٹری نہیں ہو سکے گی، مالی حیثیت ظاہر کی ہے لیکن جائیداد خریدنے کیلئے بینک ٹو بینک پیمنٹ نہیں کریں گے تو اس جائیداد کی کل مالیت پر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جائیداد ضبط بھی ہو سکتی ہے۔

6۔ اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آپ کے بینک اکاؤنٹس کو ڈائریکٹ دیکھ سکے گا کہ اس میں کتنی رقم آئی گئی ہے اور آپ نے ریٹرن میں کتنی انکم دکھائی ہے اور کتنی ٹرانزیکشن چھپائی ہے۔

7۔ نان فائلرز اب بیسک بینک اکاؤنٹ یا آسان اکاؤنٹ کے علاوہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے، بیسک یا آسان اکاؤنٹ میں آپ سال بھر کے اندر تقریباً پانچ لاکھ سے زیادہ رقم کریڈٹ نہیں کر سکتے۔

8۔ نان فائلرز کے موجودہ سیلریڈ اینڈ بزنس اکاؤنٹس جن میں ٹیکس ایبل سطح کا کریڈٹ آتا ہے یہ فائلر نہیں ہوں گے تو ان کے اکاؤنٹس فریز ہو سکتے ہیں۔

9۔ اب ہر قسم کے بینک اکاؤنٹ سے رقم جمع کرانے اور نکالنے پر ایک لمٹ نافذ ہوگی، اس کی وجہ یہ کہ لاکھوں لوگ انکم ٹیکس میں مائینر سی انکم دکھاتے ہیں جبکہ ان کے اکاؤنٹ میں کئی گنا زیادہ رقم آئی گئی ہوتی ہے لہذا کسی فارمولے سے اس کو لمیٹائز کیا جائے گا تاکہ لوگ صحیح انکم بتائیں اور اس سے سوا گنا یا ڈیڑھ گنا تک کریڈٹ کی لمٹ لے لیں۔

10۔ سیلزٹیکس ایبل دکاندار، ٹریڈرز اینڈ ریٹیلرز، جو سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ان کے بینک اکاؤنٹس اور پراپرٹیز فریز یا سِیل کی جا سکتی ہیں۔

اب کونسا کام کیسے ہوگا ان سب باتوں کی تفصیلات قانون کی کتاب اپڈیٹ ہونے کے بعد پتا چلیں گی۔

19/12/2024

حکومت کا نان فائلرز کے گرد شکنجہ مزید سخت کرنے کی تیاری

ٹیکس لاء ترمیمی بل 2024-25 قومی اسمبلی میں پیش

نان فائلرز پر آٹھ سو سی سی سے زائد گاڑیاں خریدنے پر پابندی ہوگی، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز مخصوص حد سے زیادہ جائیداد نہیں خرید سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز پر مخصوص حد سے زیادہ شئیرز کی خریداری پر بھی پابند ہوگی، مجوزہ ترمیم

نان فائلر بینک اکاؤنٹ اوپن نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلز ایک حد سے زیادہ بیکنگ ٹرانزیکشنز نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

نان فائلرز کو موٹر سائکل، رکشہ اور ٹریکٹر خریدنے کی اجازت ہوگی، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹرڈ کاروباری افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹررڈ کاروباری افراد جائیداد ٹرانسفر نہیں کر سکیں گے، مجوزہ ترمیم

غیر رجسٹرڈ افراد کی پراپرٹی کاروبار حکومت سیل کرنے کی مجاز ہوگی، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہ کرانے پر بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہ کرانے پراپرٹی ٹرانسفر پر پابندی ہوگی، مجوزہ ترمیم

سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے دو دن بعد ان فریز کر دیئے جائیں گے، مجوزہ ترمیم

فائلر کے والدین اور اولاد 25 سال تک کی عمر کے بچے اور بیوی فائلرز تصور ہونگے، مجوزہ ترمیم

اگر آپ نے اپنے دوست یا رشتہ دار سے قرض (Loan) لیا ہے تو اس کی تین اہم شرائط ہیں جن کو پورا کرنا لازمی ہے۔ اگر آپ ان شرائ...
17/12/2024

اگر آپ نے اپنے دوست یا رشتہ دار سے قرض (Loan) لیا ہے تو اس کی تین اہم شرائط ہیں جن کو پورا کرنا لازمی ہے۔ اگر آپ ان شرائط پر عمل نہیں کرتے تو ایف بی آر (Federal Board of Revenue) آپ کے اس قرض کو آپ کی انکم کا حصہ تصور کر سکتا ہے، اور اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ان شرائط کی وضاحت کی گئی ہے:

1. پہلی شرط:- قرض دینے والے کا NTN (نیشنل ٹیکس نمبر) ہونا ضروری ہے.
- جس شخص سے آپ قرض لے رہے ہیں، اس کا NTN ہونا لازمی ہے۔
- یہاں یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص ٹیکس فائلر ہو یا نان فائلر؛ اہم بات یہ ہے کہ اس کا NTN موجود ہو۔

2. دوسری شرط:- قرض بینکنگ چینل کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو
- قرض کی ادائیگی اور وصولی "بینکنگ چینل" کے ذریعے ہونی چاہیے تاکہ اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہو۔
- قابل قبول ذرائع درج ذیل ہیں:
- آن لائن ٹرانزیکشن(Bank Transfer)
- پے آرڈر (Pay Order)
- چیک(Cheque)
- ڈیمانڈ ڈرافٹ (Demand Draft)
- یہ ذرائع قرض کی شفافیت کو یقینی بناتے ہیں، اور بغیر بینکنگ چینل کے قرض ناقابل قبول تصور ہو سکتا ہے۔

3. تیسری شرط: قرض کی دستاویزات (Evidence) کا موجود ہونا ضروری ہے.
- قرض لینے والے کے پاس قرض کی وصولی کے "شواہد" (Evidence) موجود ہونے چاہئیں۔
- ریٹرن فائلنگ کے وقت یہ شواہد اپلوڈ کرنا لازمی ہوتا ہے۔
- قابل قبول شواہد میں شامل ہیں:
- چیک یا بینکنگ ٹرانزیکشن کی کاپی
- پے آرڈر یا ڈیمانڈ ڈرافٹ کی رسید
- اضافی دستاویز (Optional):
- قرض دینے اور لینے والے کے درمیان "Loan Agreement" (قرض کا معاہدہ) بھی رکھا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مضبوط ثبوت فراہم کرتا ہے۔

اگر ان شرائط پر عمل کیے بغیر کسی دوست یا رشتہ دار سے قرض لیا جاتا ہے تو ایف بی آر اس قرض کو آپ کی انکم کا حصہ تصور کرے گا اور اس پر ٹیکس عائد کر دے گا۔ لہذا، قرض لینے کے لیے ان تمام شرائط کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ آپ ٹیکس کی پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔

مزید رہنمائی کے لیے آپ رابطہ کر سکتے ہیں:
0300 6201332

08/11/2024

‏**پراپرٹی خریدتے وقت کیش میں ادائیگی سے پرہیز کریں!**

پراپرٹی کی خرید و فروخت میں کی جانے والی ایک چھوٹی سی غلطی آپ پر غیر ضروری ٹیکس کا بوجھ ڈال سکتی ہے۔ اس پوسٹ میں ہم ان نکات کا جائزہ لیں گے جو پراپرٹی خریدتے وقت مدنظر رکھنا لازمی ہیں۔ ایک خاص نکتہ ایسا ہے جس پر توجہ دے کر آپ تقریباً 20 فیصد ٹیکس بچا سکتے ہیں۔ نیز، جانیں گے کہ خرید و فروخت میں کتنی ادائیگی کیش میں کرنے کی اجازت ہے۔

جولائی 2024 سے پہلے، پراپرٹی پر کیپٹل گین ٹیکس (CGT) مختلف سلیبز میں لاگو تھا اور اگر کوئی شخص پراپرٹی کو چھے سال تک ہولڈ کرتا تھا تو CGT کی چھوٹ دی جاتی تھی۔ تاہم، جولائی 2024 کے بعد خریدی گئی پراپرٹی پر آپ کو 15 فیصد CGT دینا ہوگا، چاہے آپ پراپرٹی اگلے ہی دن بیچیں یا دس سال بعد۔ اس نئی شق کے باعث پراپرٹی کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ یہاں ہم دیکھیں گے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2024 کے بعد پراپرٹی خریدتے وقت کن امور کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 75-A کے مطابق، اگر آپ 5 ملین (پچاس لاکھ) یا اس سے کم قیمت کی پراپرٹی خرید رہے ہیں تو آپ اس کی قیمت کیش میں ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی پراپرٹی کی قیمت 50 لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی، اس کی رقم کیش میں ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس صورت میں، خریدار کو بینک کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی، چاہے چیک ہو یا پے آرڈر۔ اکثر لوگوں کو اس قانون کا علم نہیں ہوتا، جس کے باعث ایف بی آر کے نوٹسز اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئیے ایک مثال سے اس بات کو سمجھتے ہیں۔

فرض کریں آپ نے 40 لاکھ کی پراپرٹی X خریدی اور اس کی رقم کیش میں ادا کردی۔ دو سال بعد اسے 60 لاکھ میں بیچ دیا۔ اب خرید و فروخت کے درمیان 20 لاکھ کا فرق آیا، جسے کیپٹل گین کہا جاتا ہے۔ اس 20 لاکھ پر آپ نے 15 فیصد CGT ادا کر دیا، اور چونکہ خرید و فروخت کی مکمل تفصیلات قانونی ہیں، تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

دوسری مثال میں ایک پراپرٹی Y ہے، جسے آپ نے 70 لاکھ میں خریدا اور کیش میں ادائیگی کی۔ کچھ وقت بعد اسے 90 لاکھ میں بیچ دیا اور 20 لاکھ کے کیپٹل گین پر 15 فیصد ٹیکس بھی ادا کر دیا۔ مگر یہاں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ چونکہ آپ نے 70 لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی تھی اور ٹرانزیکشن کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا، اس لیے ایف بی آر آپ کو نوٹس بھیجے گا اور اس پر ٹیکس عائد کرے گا۔ اگر آپ کے پاس اس کیش ٹرانزیکشن کا بینک ریکارڈ نہیں ہے، تو ایف بی آر اس پراپرٹی کو 70 لاکھ کا کیپٹل گین تصور کرے گا اور آپ کو اس پوری رقم پر ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے آپ نے جائز کام کو بھی مسئلہ بنا لیا۔

یاد رکھیں، 50 لاکھ سے زائد کی پراپرٹی کی خریداری ہمیشہ بینک کے ذریعے کریں تاکہ آپ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہو اور غیر ضروری ٹیکس سے بچ سکیں۔

یہاں بات ختم نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے پچاس لاکھ کی پراپرٹی کیش میں خریدی، تو نہ صرف 15 فیصد ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ مزید 5 فیصد جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں آپ کا سارا منافع ٹیکس اور جرمانے میں جا سکتا ہے۔ متعدد افراد کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ لہٰذا، اپنی ٹیکس ریٹرنز اور مالی امور ہمیشہ ایک پروفیشنل ٹیکس کنسلٹنٹ کی رہنمائی سے مکمل کریں تاکہ بڑی مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔

04/10/2024

FBR to Freeze Bank Accounts and Cut Electricity Meters of Unregistered Businesses

Address

City Gujrat
Gujrat
50700

Opening Hours

Monday 08:00 - 22:00
Tuesday 08:00 - 22:00
Wednesday 08:00 - 22:00
Thursday 08:00 - 22:00
Friday 08:00 - 22:00
Saturday 08:00 - 22:00
Sunday 08:00 - 22:00

Telephone

+923006201332

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tax Solution Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tax Solution Desk:

Share