07/07/2025
فنانس بل 2025 کے تحت اہم تبدیلی نافذ کر دی گئی ہے۔
اب اگر کسی ایک رسید (Invoice) کی مالیت 200,000 روپے سے زائد ہو تو اس کی ادائیگی لازمی طور پر مناسب بینکنگ یا ڈیجیٹل ذرائع (جیسے IBFT، RTGS، آن لائن ٹرانسفرز، کراس چیک، یا پے آرڈر) کے ذریعے ہی وصول کی جائے گی۔
اگر ایسی ادائیگی نقد وصول کی جائے، یا نقد رقم براہ راست بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائی جائے، تو اس کے نتیجے میں اس سے متعلقہ خرچ کا 50 فیصد حصہ ٹیکس مقاصد کے لیے مسترد کر دیا جائے گا۔
البتہ 200,000 روپے یا اس سے کم مالیت کی رسیدیں اب بھی نقد یا نقد رقم بینک میں جمع کروا کر کلیئر کی جا سکتی ہیں۔
📌 مثال:
اگر کوئی کاروبار 400,000 روپے کی رسید جاری کرتا ہے اور اس کی ادائیگی نقد وصول کرتا ہے، اور متعلقہ دعویٰ کردہ خرچ 300,000 روپے ہو، تو اس خرچ کا 50 فیصد یعنی 150,000 روپے مسترد کر دیا جائے گا۔
یوں، قابلِ ٹیکس آمدنی میں اتنی ہی رقم کا اضافہ ہو جائے گا۔
📌 ہدایات:
ہم تمام کاروباری حضرات کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اندرونی پالیسیوں کو فوری طور پر اپڈیٹ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ 200,000 روپے سے زائد مالیت کی رسیدوں کی ادائیگیاں لازمی طور پر قابلِ تصدیق بینکنگ یا ڈیجیٹل ذرائع سے وصول کی جائیں۔
بہتر یہ ہے کہ ادائیگی اسی کسٹمر کے اکاؤنٹ سے کی جائے جس کے نام رسید جاری کی گئی ہو۔
RAAD & CO