Sahito Asad Advocate & Tax Consultant

Sahito Asad Advocate & Tax Consultant Legal Counsel and Tax Advisor

06/05/2026

پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت کسی بھی ملازم کی قابلِ ٹیکس تنخواہ کا حساب لگانا ایک باقاعدہ اور تفصیلی عمل ہے۔ اس عمل کا آغاز آپ کی بنیادی آمدنی سے ہوتا ہے۔ جب آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، تو سب سے پہلے اس میں وہ تمام اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جن پر سو فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ ان میں آپ کی بنیادی تنخواہ، مہنگائی الاؤنس (Dearness Allowance اور COLA)، بونس، کمیشن، اوور ٹائم اور یوٹیلیٹی بلز (جیسے گیس، پانی اور بجلی) شامل ہیں۔ پرائیویٹ ملازمین کی جانب سے چھٹیوں کے بدلے لی جانے والی رقم (Leave Encashment) بھی مکمل طور پر اسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔
صرف نقد تنخواہ ہی نہیں، بلکہ (Employer) کی طرف سے دی جانے والی دیگر مراعات اور سہولیات کو بھی آپ کی آمدنی کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی کمپنی آپ کو گھریلو ملازمین (مثلاً ڈرائیور یا چوکیدار)، کرائے کے بغیر رہائش، یا دس لاکھ روپے سے زائد کا بلاسود قرض فراہم کرتی ہے، تو قانون کی نظر میں یہ سب قابلِ ٹیکس مراعات ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کمپنی آپ کی طرف سے ٹیکس ادا کرتی ہے یا آپ کے ذمے کوئی واجب الادا رقم معاف کر دیتی ہے، تو یہ فوائد بھی آپ کی کل آمدنی میں جمع کر لیے جاتے ہیں۔ اسی طرح ملازمت ختم ہونے پر ملنے والی خصوصی رقوم، جیسے کہ گولڈن ہینڈ شیک، پچھلے سالوں کی تنخواہ کے بقایا جات اور ایمپلائی شیئر آپشنز (ESOS) کو بھی رسید والے سال کی آمدنی میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
تاہم، ٹیکس کا یہ نظام صرف آمدنی کو جمع نہیں کرتا، بلکہ کچھ مخصوص شرائط کے تحت رعایتیں (Exemptions) بھی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، سرکاری پروویڈنٹ فنڈ (GPF) مکمل طور پر ٹیکس سے پاک ہے۔ اگر آپ کسی منظور شدہ پروویڈنٹ فنڈ کا حصہ ہیں، تو کمپنی کی جانب سے جمع کروائی گئی رقم پر تنخواہ کے 10 فیصد یا 150,000 روپے (جو بھی کم ہو) تک چھوٹ دی جاتی ہے۔ میڈیکل الاؤنس کے حوالے سے بھی آپ کو رعایت ملتی ہے؛ اگر کمپنی آپ کو علاج کی کوئی اور سہولت (ہسپتال وغیرہ) نہیں دے رہی، تو آپ کی بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک کا میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ منظور شدہ گریجویٹی سکیم کے تحت بھی 3 لاکھ روپے تک کی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔
رہائش، گاڑی، پینشن اور قرضوں کے حوالے سے ٹیکس کے قوانین مزید مخصوص ہیں۔ اگر کمپنی آپ کو رہائش دیتی ہے تو اس کی مالیت کو کرائے کی رقم یا بنیادی تنخواہ کے 45 فیصد (جو بھی زیادہ ہو) کے برابر مان کر آمدنی میں شامل کیا جاتا ہے۔ گاڑی اگر دفتری اور ذاتی دونوں کاموں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، تو گاڑی کی قیمت کا 5 فیصد، اور اگر صرف ذاتی استعمال کے لیے ہے تو 10 فیصد آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی کا حصہ بنتا ہے۔ دوسری جانب، دس لاکھ روپے سے کم کے قرض پر کوئی ٹیکس نہیں ہوتا، جبکہ دس لاکھ سے زائد قرض پر 10 فیصد بینچ مارک ریٹ سے حساب لگایا جاتا ہے۔ پینشن کے حوالے سے، اگر سالانہ پینشن ایک کروڑ روپے سے کم ہے یا پینشنر کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے، تو وہ بھی ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ ہوتی ہے۔
ان تمام مراحل کو سمجھنے کے بعد، ٹیکس کے حساب کتاب کا حتمی مرحلہ ایک سیدھے سادے کلیے (Formula) پر مبنی ہے۔ آپ کی تمام تنخواہ، مراعات، اور خصوصی وصولیوں کی مالیت کو آپس میں جمع کیا جاتا ہے، اور پھر اس مجموعی رقم میں سے وہ تمام رعایتیں (Exemptions) تفریق کر دی جاتی ہیں جن کی قانون اجازت دیتا ہے۔ کٹوتی کے بعد بچ جانے والی یہی حتمی رقم دراصل آپ کی 'کل قابلِ ٹیکس تنخواہ' کہلاتی ہے، جس کی بنیاد پر آپ کی حتمی ٹیکس کی ذمہ داری کا تعین ہوتا ہے۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں.
Copied text fromTax Partner f.b wall

FBR Notices and Orders with Section
30/04/2026

FBR Notices and Orders with Section

28/04/2026

ایف بی آر کا نوٹس آیا تو سمجھیں معاملہ سنجیدہ ہو چکا ہے…خاموشی اب مہنگی پڑ سکتی ہے

پاکستان میں ٹیکس کا نظام بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر جب Federal Board of Revenue (FBR) کی طرف سے نوٹس یا آرڈر آتا ہے تو اکثر لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیکشن ایک خاص مقصد کے تحت جاری کیا جاتا ہے، اور اگر آپ اسے صحیح سمجھ لیں تو نہ صرف مسئلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ بڑے نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

کہانی عام طور پر وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں کسی فرد یا بزنس نے ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا ہوتا۔ ایسے میں سیکشن 114 کے تحت Non-Filer نوٹس جاری ہوتا ہے، جو دراصل ایک وارننگ ہوتی ہے کہ فوراً اپنی ریٹرن فائل کریں۔ اس کے ساتھ ہی سیکشن 116 کا نوٹس آ سکتا ہے جس میں آپ سے آپ کے اثاثوں اور آمدن کی مکمل تفصیل (Wealth Statement) مانگی جاتی ہے۔ اگر آپ ان نوٹسز کو نظرانداز کریں تو پھر معاملہ سخت ہو جاتا ہے، اور سیکشن 121 کے تحت Best Judgment Assessment جاری ہو جاتا ہے، جہاں FBR خود اندازے سے ٹیکس لگا دیتا ہے—جو اکثر زیادہ ہوتا ہے۔

دوسری طرف، اگر آپ نے ریٹرن فائل کر دی ہو اور وہ بغیر اعتراض کے قبول ہو جائے تو سیکشن 120 کے تحت Deemed Assessment بن جاتا ہے، جو ایک مثبت صورتحال ہے۔ لیکن اگر بعد میں کوئی غلطی، فرق یا مشکوک ٹرانزیکشن سامنے آ جائے تو سیکشن 122 کے تحت Amendment نوٹس آتا ہے، جس میں آپ کو وضاحت اور ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اگر آپ کی وضاحت تسلی بخش نہ ہو تو سیکشن 122B کے تحت اسی آرڈر کی تصدیق کر دی جاتی ہے، جس کے بعد اپیل کا راستہ رہ جاتا ہے۔

مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب FBR آپ سے ریکارڈ طلب کرے۔ سیکشن 176 کے تحت بینک اسٹیٹمنٹس، بزنس ریکارڈ اور دیگر دستاویزات مانگی جاتی ہیں، جبکہ سیکشن 177 کے تحت Audit Notice جاری ہو سکتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا کیس تفصیل سے جانچا جائے گا۔ اگر اس دوران کوئی خلاف ورزی سامنے آئے تو سیکشن 182 کے تحت Penalty اور سیکشن 205 کے تحت Default Surcharge بھی لگ سکتا ہے، جو مالی بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

اگر بات ادائیگی تک پہنچ جائے تو سیکشن 137 اور 138 کے تحت باقاعدہ ٹیکس ڈیمانڈ اور ادائیگی کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر پھر بھی ادائیگی نہ کی جائے تو سیکشن 140 کے تحت بینک اکاؤنٹ اٹیچ ہو سکتا ہے، اور سیکشن 146 کے تحت قانونی کارروائی شروع ہو جاتی ہے، جو انتہائی سنجیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ FBR کے نوٹسز کو نظرانداز کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ بروقت جواب دینا، مکمل ریکارڈ رکھنا اور قانونی حق کو سمجھنا نہ صرف آپ کو جرمانوں سے بچاتا ہے بلکہ آپ کو ایک ذمہ دار ٹیکس دہندہ بھی بناتا ہے۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں.

28/04/2026

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تقریباً 350 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ ریونیو میں اضافہ کیا جا سکے اور مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدامات زیادہ تر ایسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر مرکوز ہوں گے جو اب تک کم یا بالکل ٹیکس نہیں دے رہے، خصوصاً ڈیجیٹل معیشت، جائیداد اور غیر دستاویزی کاروبار۔

رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ممکنہ طور پر درج ذیل اہم اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:

ڈیجیٹل سروسز ٹیکس:
آن لائن پلیٹ فارمز، ایپس اور اسٹریمنگ سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز۔

اضافی رہائشی جائیداد پر ٹیکس:
دوسری یا سرمایہ کاری والی پراپرٹی پر نیا ٹیکس
فنانشل ٹرانزیکشن ٹیکس (FTT): اسٹاک، ڈیجیٹل اثاثوں اور دیگر لین دین پر ٹیکس

کارپوریٹ اشتہارات پر لیوی:
بڑی کمپنیوں کے اشتہاری اخراجات پر ٹیکس
گرین اور ماحولیاتی ٹیکسز: صنعتی آلودگی، کاربن اخراج اور ویسٹ مینجمنٹ پر نئی لیویز۔

چھوٹے کاروبار کے لیے سادہ ٹیکس نظام:
مائیکرو ٹریڈرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے آسان اسکیم

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ریونیو بڑھانا ہے بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانا بھی ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو کچھ ریلیف دینے اور سپر ٹیکس میں بتدریج کمی جیسے اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ ٹیکس بوجھ کو متوازن رکھا جا سکے۔

27/04/2026

*May 2026 Holidays*.
1st May. Friday Labour Day
2 and 3 (Sat- Sunday)
9 and 10 Sat - Sunday
16 and 17 Sat Sunday
23 and 24 Sat Sunday
27,28,29 Eid ul Azha
30 and 31 Sat Sunday
Means 1,2,3, 9,10, 16,17, 23,24, 27,28,29,30,31.

Total *14 days* holidays.

25/04/2026

سپر ٹیکس لگانا اتنا آسان نہیں!
پہلے Income Tax Ordinance 2001 سیکشن 122 لازمی… ورنہ Income Tax Ordinance 2001 Section 4C بھی ناکام!

یہ فیصلہ Appellate Tribunal Inland Revenue لاہور کا ایک نہایت اہم اور اصولی نوعیت کا فیصلہ ہے، جس میں سپر ٹیکس کے نفاذ کے طریقۂ کار کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ معاملہ دراصل اس وقت پیدا ہوا جب ٹیکس دہندگان اپنی ریٹرنز فائل کر چکے تھے اور وہ قانون کے تحت Income Tax Ordinance 2001 Section 120 کے مطابق “deemed assessment” بن چکی تھیں، یعنی وہ ایک مکمل اور مؤثر اسیسمنٹ آرڈر کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ اس کے باوجود محکمہ ان لینڈ ریونیو نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ٹیکس دہندگان نے Income Tax Ordinance 2001 Section 4C کے تحت سپر ٹیکس ادا نہیں کیا، اس لیے وہ براہِ راست اسی سیکشن کے تحت ٹیکس کا تعین اور وصولی کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ پہلے اس اسیسمنٹ کو قانون کے مطابق تبدیل کیا جائے۔

ٹریبونل نے اس پورے معاملے کو نہایت باریک بینی سے دیکھتے ہوئے یہ اصول واضح کیا کہ ٹیکس قانون ایک منظم نظام کے تحت چلتا ہے، جس میں چارج، اسیسمنٹ اور ریکوری کے مراحل الگ مگر آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اگرچہ سیکشن 4C ٹیکس لگانے کا اختیار دیتا ہے، لیکن جب ایک ریٹرن پہلے ہی سیکشن 120 کے تحت اسیسمنٹ بن چکی ہو، تو اس میں کسی بھی نئی ذمہ داری کو شامل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ پہلے Income Tax Ordinance 2001 Section 122 کے تحت اس میں ترمیم کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف انکم کا ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ٹیکس دہندہ نے سپر ٹیکس کی ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، کیونکہ قانون میں تسلیم شدہ ذمہ داری وہی ہوتی ہے جو باقاعدہ طور پر calculate اور declare کی گئی ہو۔

مزید برآں، ٹریبونل نے محکمہ کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ سیکشن 4C ایک خود مختار راستہ فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے وہ بغیر کسی اور قانونی کارروائی کے ٹیکس نافذ کر سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ایسا مان لینا نہ صرف اسیسمنٹ کے پورے نظام کو غیر مؤثر بنا دے گا بلکہ قانون میں موجود وقت کی پابندیوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کو بھی ختم کر دے گا۔ اسی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب تک سیکشن 122 کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم نہیں کی جاتی، اس وقت تک سپر ٹیکس کا تعین اور اس کی وصولی قانونی طور پر ممکن نہیں۔

آخرکار، ٹریبونل نے یہ فیصلہ دیا کہ سیکشن 4C کے تحت براہِ راست جاری کیے گئے تمام آرڈرز دائرہ اختیار سے باہر، غیر قانونی اور ابتدا ہی سے کالعدم ہیں، لہٰذا انہیں ختم کیا جاتا ہے۔ تاہم، محکمہ کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اگر چاہے تو قانون کے مطابق درست طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل اس بنیادی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ قانون میں صرف حق ہونا کافی نہیں، بلکہ اس حق کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی اتنا ہی اہم ہے، اور اگر طریقہ کار کی خلاف ورزی ہو تو پورا اقدام غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔

Today Vice Chairman SBC and Chairman Executive SBC have again requested the Pakistan Bar Council in Joint meeting in Isl...
14/04/2026

Today Vice Chairman SBC and Chairman Executive SBC have again requested the Pakistan Bar Council in Joint meeting in Islamabad for 50% concession in railway tickets for Learned Advocates & families

13/04/2026

ٹیکس سال 2026 کیلئے اہم ہدایات — ابھی اقدام کریں، اپنی سیلری محفوظ بنائیں!

اگر آپ ایک سیلریڈ پروفیشنل ہیں تو یہ بہترین وقت ہے کہ آپ فوری ایکشن لیں۔ اپنی کمپنی کے Finance یا HR ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ کریں تاکہ آپ کے ادا شدہ ایڈوانس ٹیکس کو اپریل، مئی اور جون 2026 کی تنخواہوں میں مناسب طور پر ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ افراد اپنی اصل ٹیکس لائیبیلٹی سے زیادہ ایڈوانس ٹیکس ادا کر دیتے ہیں۔ جبکہ Federal Board of Revenue (FBR) سے ریفنڈ حاصل کرنا ایک مشکل اور وقت طلب عمل ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ بروقت دستاویزات فراہم کر کے ٹیکس کو سورس پر ہی ایڈجسٹ کروا لیا جائے۔

کیا آپ ان ایڈجسٹ ہونے والے سیکشنز کو ٹریک کر رہے ہیں؟

سیکشن 236Y
بین الاقوامی اخراجات (کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ جیسے Netflix، AWS، Spotify وغیرہ) پر کٹنے والا 5% ٹیکس.

سیکشن 236CB
شادی، سیمینارز، ورکشاپس یا کمرشل ایونٹس پر ادا کیا گیا ٹیکس.

سیکشن 236
موبائل اور انٹرنیٹ بلز پر ایڈوانس ٹیکس.

سیکشن 231B & 234
گاڑی کی خریداری، ٹرانسفر یا سالانہ ٹوکن ٹیکس پر ادا شدہ ٹیکس.

سیکشن 151
بینک اکاؤنٹ کے منافع پر کٹنے والا ودہولڈنگ ٹیکس.

سیکشن 236K
جائیداد کی خرید و فروخت پر ادا کیا گیا ایڈوانس ٹیکس.

ستمبر کے فائلنگ رش کا انتظار نہ کریں!
آج ہی اپنے بینک، ٹیلی کام کمپنیز اور دیگر پلیٹ فارمز سے سالانہ ٹیکس سرٹیفیکیٹس حاصل کریں اور اپنے ایمپلائر کو فراہم کریں تاکہ آئندہ تین مہینوں میں آپ کی نیٹ سیلری بہتر ہو سکے۔
(Copied taxt F.B wall)

11/04/2026

سپر ٹیکس، منیمم ٹیکس اور ریفنڈز پر نیا قانونی تنازع
پاکستان میں سپر ٹیکس، منیمم ٹیکس اور ٹیکس ریفنڈز کے حوالے سے ایک نیا قانونی تنازع سامنے آ گیا ہے، جس نے ٹیکس نظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔
حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد اس معاملے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جس کے باعث ٹیکس دہندگان اور محکمہ ان لینڈ ریونیو کے درمیان اختلافات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

منیمم اور سپر ٹیکس کا بوجھ.

موجودہ نظام کے تحت بعض کاروباری ادارے اور افراد نقصان میں ہونے کے باوجود بھی ٹرن اوور کی بنیاد پر منیمم ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر سپر ٹیکس بھی عائد کیا جا رہا ہے، جس سے مجموعی مالی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ کا تنازع.

اہم مسئلہ یہ ہے کہ قانون کے مطابق اگر کوئی ٹیکس زائد ادا ہو جائے تو اسے دیگر واجب الادا ٹیکسز کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں سپر ٹیکس کے خلاف ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس پر قانونی ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔

قانونی و آئینی بحث.

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس کو "ٹیکس" کی تعریف میں شامل سمجھا جاتا ہے، اس لیے اسے دیگر ٹیکسز سے الگ رکھ کر ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ سے روکنا قانونی طور پر درست نہیں۔ ان کے مطابق نقصان میں ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی اور ریفنڈ کی عدم دستیابی آئینی اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔

مستقبل کی صورتحال.

ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کو واضح قانون سازی یا اعلیٰ عدالتی تشریح کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو ٹیکس نظام میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے اور نئے مقدمات سامنے آنے کا امکان ہے۔

نتیجہ:
سپر ٹیکس اور منیمم ٹیکس کے موجودہ ڈھانچے نے کاروباری طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں اور اس مسئلے کے فوری قانونی حل کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
(Copied Text Facebook)

پاکستان میں کرپٹو کا نیا قانون — اب Bitcoin کا کیا ہوگا ?پاکستان میں پہلی بار Bitcoin، Crypto اور Blockchain کے لیے باقا...
12/03/2026

پاکستان میں کرپٹو کا نیا قانون — اب Bitcoin کا کیا ہوگا ?
پاکستان میں پہلی بار Bitcoin، Crypto اور Blockchain کے لیے باقاعدہ قانون آ گیا ہے۔
5 مارچ 2026 کو نافذ ہونے والا یہ قانون
Virtual Assets Act 2026
کہلاتا ہے-

اس قانون کے بعد اب پاکستان میں:

کرپٹو کمپنیوں کو لائسنس لینا ہوگی ,صارفین کے پیسے کمپنی کے پیسوں سے الگ رکھنا لازمی ہوگا
فراڈ، insider trading اور market manipulation جرم ہوگا
مشکوک ٹرانزیکشن Financial Monitoring Unit کو رپورٹ ہوں گی

اگر کوئی شخص بغیر لائسنس crypto کاروبار کرے تو اسے:

5 سال تک قید
یا
5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

Crypto پاکستان میں:

سرکاری کرنسی نہیں
مگر اب قانون کے دائرے میں آ گئی ہے۔

یعنی اب پاکستان ڈیجیٹل فنانس کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
(Copied text)

عقلمند لوگ "الفاظ" کے بجائے "نشانات" کیوں دیکھتے ہیں؟ 🦊🦁​شیر، جو کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، اب بوڑھا ہو چکا تھا اور اس میں...
26/02/2026

عقلمند لوگ "الفاظ" کے بجائے "نشانات" کیوں دیکھتے ہیں؟ 🦊🦁
​شیر، جو کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، اب بوڑھا ہو چکا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ تیز رفتار شکار کا پیچھا کر سکے۔ اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی: وہ اپنی غار کے اندر لیٹ گیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے۔
​جنگل کے جانوروں نے یہ افواہ سنی۔ اس کی پرانی ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ ایک ایک کر کے اس کی عیادت (خیریت دریافت کرنے) کے لیے آنے لگے۔ لیکن ایک بات عجیب تھی:
جو بھی جانور غار کے اندر جاتا... وہ کبھی باہر آتا ہوا دکھائی نہ دیتا۔
​پھر لومڑی کی باری آئی۔ لومڑی بھی آئی، لیکن وہ غار سے باہر ہی رک گئی اور وہیں سے شیر کی خیریت دریافت کی۔
​اندر سے شیر ایک کمزور آواز میں بولا:
"اوہ، تو یہ تم ہو لومڑی؟ تم اتنی دور کیوں کھڑی ہو؟ اندر آؤ—قریب آؤ—تاکہ میں تمہارا چہرہ صاف دیکھ سکوں اور تمہاری تسلی بخش باتیں سن سکوں۔"
​لومڑی نے سکون سے جواب دیا:
"میرے آقا، میں ضرور اندر آتی۔ لیکن میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی ہے:
آپ کی غار کے اندر جانے والے قدموں کے نشانات تو بہت ہیں... لیکن باہر آنے والا ایک بھی نشان موجود نہیں ہے۔
اس لیے، براہِ کرم مجھے باہر رہنے کی اجازت دیں۔"
​💡 عملی زندگی کے لیے ایک سبق
​یہ محض چالاکی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ٹھوس شواہد (Evidence) کے مشاہدے کا سبق ہے:
​صرف لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں—ثبوت دیکھیں: الفاظ سننے میں بہت نرم اور میٹھے ہو سکتے ہیں، لیکن حقائق ہی اصل سچائی ظاہر کرتے ہیں۔
​داخل ہونے سے پہلے "باہر نکلنے کا راستہ" ضرور چیک کریں: چاہے وہ نوکری ہو یا سرمایہ کاری، اگر آپ دیکھیں کہ بہت سے لوگ اس میں شامل تو ہو رہے ہیں لیکن کسی کے پاس واضح نتائج موجود نہیں، تو قدم اٹھانے سے پہلے رکیں اور گہرائی سے جائزہ لیں۔
​ہجوم میں بھی اپنے دماغ کو حاضر رکھیں: ایک عام فرد اور ایک ذہین انسان میں فرق یہی ہے کہ ذہین انسان جذبات میں بہنے کے بجائے آزادانہ طور پر مشاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Copied Text

Address

S-49 2nd Floor Glass Tower Near Teen Talwar Clifton Karachi
Karachi
75600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahito Asad Advocate & Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share