RBA Associates

RBA Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from RBA Associates, Tax preparation service, RBA ASSOCIATES LG-136, LOWER GROUND FLOOR, SIDDIQ TRADE CENTRE, GULBERG-II, LAHORE, Lahore.

RBA ASSOCIATES is a Pakistan based Tax & Corporate consultant firm providing, Tax , Audits , Accounts ,Corporate and technical business solutions through highly experienced and efficient Certified Accountants, Lawyers, & Corporate consultants.

⚠️ ATL Surcharge کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمی دور کریںکچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دو تین دن کے اندر ریٹرن فا...
28/06/2026

⚠️ ATL Surcharge کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمی دور کریں

کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دو تین دن کے اندر ریٹرن فائل کر کے ATL Surcharge جمع کروانا لازمی ہے، ورنہ فائلر نہیں بن سکیں گے۔ یہ بات درست نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس ایئر 2026، 30 جون 2026 کو مکمل ہوگا۔ اگر آپ 30 ستمبر 2026 تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرن بروقت فائل کر دیتے ہیں تو فائلر (Active Taxpayer List) بننے کے لیے کسی ATL Surcharge کی ضرورت نہیں ہوگی۔

البتہ اگر آپ 30 ستمبر 2026 کے بعد ریٹرن فائل کرتے ہیں تو پھر ATL Surcharge ادا کرنے کے بعد ہی آپ کا نام Active Taxpayer List (ATL) میں شامل کیا جا سکے گا۔

لہٰذا افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے درست معلومات حاصل کریں اور مقررہ وقت کے اندر اپنی ریٹرن فائل کریں۔












16/06/2026

Tax Return 2026 Alert.
جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2026 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.
2) 2025-26 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.
3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.
4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.
5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.
7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.
😎 اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.
9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.
10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.
11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.
12) اگر بیرون ممالک سے Foreign remittance وصول کیے ہیں تو اسکا (FOREIGN REMITENCE CERTIFICA

Looking for tax assistance? RBA Associates has your back! 📊 From tax services to business registration, we've got the ex...
11/06/2026

Looking for tax assistance? RBA Associates has your back! 📊 From tax services to business registration, we've got the expertise you require. Reach out to us today! 💼 Contact us today! 💼

📢 Potential Tax Relief for Salaried Individuals in Budget 2026–27According to circulating budget proposals and media rep...
10/06/2026

📢 Potential Tax Relief for Salaried Individuals in Budget 2026–27

According to circulating budget proposals and media reports, the government is considering a reduction in income tax rates for salaried individuals.

The expected tax rates are as follows:

✅ 3% on annual salary income of Rs. 1.2 million
✅ 5% on annual salary income of Rs. 2.2 million
✅ 10% on annual salary income of Rs. 3.2 million

If these proposals are approved, they could provide meaningful relief to the salaried class, allowing taxpayers to retain a larger portion of their income at a time when inflation and living expenses continue to place pressure on household budgets.

⚠️ Important: These rates are currently based on expected budget proposals and have not yet been officially enacted. The final tax structure will only be confirmed after the announcement and approval of the Finance Bill 2026–27.

Do you think these proposed tax rates will provide sufficient relief to Pakistan’s salaried class?

RBA Associates
Tax Accountants | Income Tax Practitioners | Corporate & Legal Consultants
FinanceBill2026 RBAAssociates

حکومت پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرا دی ہے، جس کا بنیادی مقصد...
05/06/2026

حکومت پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرا دی ہے، جس کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے۔ یہ سکیم تاجر و دکاندار تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت اور ان کے مطالبات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

اس سکیم کے تحت وہ دکاندار اور تاجر رجسٹریشن کرا سکیں گے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہو۔ سکیم میں شامل افراد اپنی قابلِ ٹیکس آمدن پر صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔

دکاندار اپنے ادا کردہ ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی ایڈجسٹ کر سکیں گے، تاہم گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25,000 روپے بطور ٹیکس جمع کرانا لازمی ہوگا۔

رجسٹریشن کے لیے اردو اور علاقائی زبانوں میں ایک سادہ ایک صفحے پر مشتمل فارم تیار کیا گیا ہے، جسے ایک آسان موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔

سکیم میں رجسٹرڈ ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی رجسٹریشن پلیٹ جاری کی جائے گی، جسے وہ اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کریں گے۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کسی بھی ٹیکس اہلکار کو معمول کی جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس سکیم کے تحت اردو میں تیار کردہ سادہ فارم، ایف بی آر رجسٹریشن پلیٹ اور دیگر متعلقہ تفصیلات جلد عوام کے لیے دستیاب کر دی جائیں گی۔

RBA ASSOCIATES Wishing you joy, prosperity, and countless moments of happiness this Eid.
27/05/2026

RBA ASSOCIATES
Wishing you joy, prosperity, and countless moments of happiness this Eid.

26/05/2026
15 کروڑ سے زائد آمدن… لیکن Super Tax صفر!کبھی کبھی ٹیکس قوانین میں ایک درست قانونی نکتہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے ...
08/05/2026

15 کروڑ سے زائد آمدن… لیکن Super Tax صفر!

کبھی کبھی ٹیکس قوانین میں ایک درست قانونی نکتہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کے ٹیکس کو ختم کر دیتا ہے۔ حال ہی میں Appellate Tribunal Inland Revenue (ATIR) لاہور بینچ کے ایک اہم فیصلے نے یہی ثابت کیا۔

یہ معاملہ فیصل آباد کے ایک ٹیکس دہندہ محمد شفیق سے متعلق تھا، جن پر Section 4C کے تحت Super Tax عائد کیا گیا تھا۔ محکمہ ان لینڈ ریونیو کے مطابق ان کی کل آمدن 15 کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد تھی، جس کی وجہ سے وہ Super Tax کے دائرے میں آتے تھے۔

لیکن اصل سوال یہ تھا کہ:
کیا یہ تمام آمدن واقعی قانون کے مطابق “Taxable Income” تھی؟

محکمہ نے آمدن میں دو اہم چیزیں شامل کی تھیں:

• AOP (Association of Persons) سے حاصل ہونے والا منافع
• غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر حاصل ہونے والا Capital Gain

ظاہری طور پر یہ دونوں آمدن کا حصہ تھے، مگر قانونی حیثیت مختلف تھی۔

ٹریبیونل نے Capital Gain کے معاملے میں سپریم کورٹ کے معروف DG Khan Cement کیس کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کوئی Capital Gain قانون کے تحت Exempt یا Zero Rated ہو، تو اسے کسی اور شق کے ذریعے دوبارہ ٹیکس کے دائرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

یعنی جس آمدن کو قانون پہلے ہی استثنیٰ دے چکا ہو، اسے دوبارہ قابلِ ٹیکس نہیں بنایا جا سکتا۔

اسی بنیاد پر Capital Gain کو Super Tax کی Calculation سے مکمل طور پر نکال دیا گیا۔

اس کے بعد AOP سے حاصل ہونے والے حصے کا جائزہ لیا گیا۔ Section 92 کے مطابق اگر AOP خود ٹیکس ادا کر چکی ہو، تو اس کے ممبر کو ملنے والا منافع Exempt تصور ہوتا ہے۔

ٹریبیونل نے واضح کیا کہ Section 4C کے تحت صرف وہی آمدن شمار کی جا سکتی ہے جو حقیقتاً Taxable ہو۔ چونکہ AOP سے حاصل شدہ منافع پہلے ہی Exempt تھا، اس لیے اسے Super Tax کی بنیاد بنانا درست نہیں تھا۔

جب یہ دونوں رقمیں نکالی گئیں تو آمدن 15 کروڑ سے کم ہو کر تقریباً 7 کروڑ 50 لاکھ رہ گئی، یعنی Super Tax کی مقررہ حد سے کافی نیچے۔

نتیجتاً:
✔️ Super Tax ختم کر دیا گیا
✔️ Default Surcharge بھی کالعدم قرار دے دیا گیا

یہ فیصلہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ٹیکس قوانین میں صرف رقم نہیں بلکہ قانون کی درست تشریح بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

اگر معلومات مفید لگے تو پوسٹ کو لائک اور شیئر ضرور کریں 👍
ٹیکس سے متعلق آسان معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔

📞 رابطہ نمبر:
03124590510
03002678444
03219998826
RBA ASSOCIATES

07/05/2026

سیکشن 7E آخرکار غیر آئینی قرار

وفاقی آئینی عدالت نے Income Tax Ordinance کے متنازع سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

یہ وہ قانون تھا جس کے تحت:
اگر کسی شخص کے پاس اضافی جائیداد یا خالی پلاٹ ہو تو حکومت “فرض” کر لیتی تھی کہ اس سے آمدن حاصل ہو رہی ہے، چاہے حقیقت میں کوئی آمدن نہ بھی ہو۔ پھر اسی فرضی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔

عدالت نے واضح کہا:
“صرف جائیداد کا مالک ہونا آمدن نہیں کہلا سکتا۔”

اس فیصلے کے بعد:
✔️ سیکشن 7E کالعدم
✔️ اس کے تحت نوٹسز اور مطالبات غیر قانونی
✔️ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے بڑا ریلیف

یہ فیصلہ صرف ایک ٹیکس قانون کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ اصول بھی واضح کرتا ہے کہ
ٹیکس ہمیشہ حقیقی آمدن پر ہونا چاہیے، فرضی آمدن پر نہیں۔

Address

RBA ASSOCIATES LG-136, LOWER GROUND FLOOR, SIDDIQ TRADE CENTRE, GULBERG-II, LAHORE
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 10:00 - 19:00
Tuesday 10:00 - 19:00
Wednesday 10:00 - 19:00
Thursday 10:00 - 19:00
Friday 10:00 - 19:00
Saturday 10:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RBA Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share