08/08/2024
ہمارا دین "دینِ اسلام" دوسرے ادیان سے کئی امتیازات اور خصائص کی وجہ سے ممتاز وبرتر ہے۔ ان میں سے ایک بڑی خاصیت اتحاد، اتفاق، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا، دکھ،درد اور غمی خوشی میں شریک ہونا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بیشتر عبادات کو اجتماعی شکل میں نازل فرمایا ہیں، اس کی زندہ وجاوید مثال دین اسلام کے اہم ترین رکن نماز کو دن میں پانچ مرتبہ اجتماعیت کے ساتھ ادا کرنا ہے، جس کیلئے ہر جنس، قوم، نسل، رنگ اور شعبہ کے لوگ ایک مقام میں جمع ہوکر ایک صف میں ایک ہی امام کی اقتدا میں کھڑے ہوکر ادا کرتے ہیں، اس طریقے سے یہ فریضہ انجام دے کر اتحاد و اتفاق کا بہترین منظر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
"وقس علیہا صلوٰۃ العیدین و الجنازۃ والحج"
اللّٰہ وحدہ لاشریک نےقرآن مجید میں کئی مقامات پروحدت کی تلقین اور تشتت وتفرق سے منع فرمایا ہےجیسا کہ ارشاد ہے:
"واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا"
"ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم"
"انما المؤمنون اخوۃ"
آقاء نامدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی امت کو یہی درس دیا ہیں۔
فرمایا: "مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمہم و تعاطہم مثل الجسد الواحد اذا اشتکیٰ منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد با السھر والحمیٰ"
"المؤمن للمؤمن کا البنیان یشد بعضہ بعضاً"
"انما اھلک من کان قبلکم سؤالہم واختلافہم علیٰ انبیاءھم"
شیخ الہند رحمہ اللّٰہ کو جب مالٹا سے رہائی مل گئی تو علماء کرام کی مجلس میں وعظ کرتے ہوئے فرمایا:
"بڑی سوچ وبچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کی مغلوبیت کی دو ہی وجوہات ہیں۔
اول: قرآن مجید سے دوری، دوم: آپس کے اختلافات"
علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ نے بھی شعر کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی ہیں۔
فرمایا:
بتانِ رنگ وبو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی!
مسلمان قرونِ اولیٰ میں باجود داخلی چھوٹے موٹے اختلافات کے بیرونی دشمنوں کیلئے بنیان مرصوص کی طرح متفق و متحد تھے، اسلئے تو عزت، رعب اور دبدبہ تھا، دشمن میں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں تھی، ہمیشہ مرعوب ومقہور رہتا تھا، مسلم خطہ پر چھڑائی کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، لیکن جب سے مسلمانوں میں اختلافات شروع ہوگئے، فرقے بن گئے ہیں، کپر وارتداد کے فتوے جھاڑنے لگے اس وقت سے لیکر آج تک مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مسلسل مار پڑ رہی ہے، کشمیر سے لیکر فلسطین اور کابل سے لیکر برما تک ہر جگہ مسلمان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، کیونکہ ہم تقسیم ہیں، ملک وبارڈر جدا جدا ہیں، ہر ایک کو بس اپنی فکر ہے، کہ میں عافیت میں رہوں، باقی امت جائے بھاڑ میں!
دیکھے نا ہم صرف پاکستان میں کس درجہ تقسیم در تقسیم ہیں، پہلے آزادی کے نام "متحدہ ہند" کو تقسیم کرکے مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے، پھر باقیات برطانیہ "کرایہ دار فوج" اور کاروباری سیاہ ست دانوں کے ظلم وجور کے نتیجہ میں مسلمانانِ بنگال جدا ہوگئے، پھر ملک کے اندر فرقوں کی صورت میں تقسیم سامنے آئی: "دیوبندی، بریلوی، اور وہابی" پھر بریلویوں میں کئی فرقے بن گئے، اسی طرح دیوبندیوں میں "حیات و ممات" کے نام پر دو فرقے وجود میں آئے، وہابی/اہل حدیث تو ویسے بھی آزاد ہیں گویا ان کی ہر مسجد ومدرسہ الگ الگ فرقہ کی شکل اختیار کرگئے، اسی طرح استاذ مودوی رحمہ اللّٰہ سے رہا نہ گیا انہوں نے بھی اس دوڑ میں حصہ لیکر ایک فرقہ اپنے نام کرگئے، فی زمانہ تجدد کے نام پر کئی فرقے وجود میں آئے ہیں، جن سے آپ بخوبی واقف ہیں، اگر میں ذکر کروں تو ایسا نہ ہو کہ تشہیر کی وجہ سے گنہگار ٹہر جاؤں!
پھر جمہوریت کے ذریعے امت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا، بے شمار پارٹیاں بن گئیں، جن میں صرف مذہبی پارٹیوں کی تعداد تقریباً درجن ہے، ہر پارٹی والوں کو اپنے علاوہ لوگ کاپروں سے بھی بدتر لگتے ہیں، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں،بہتان تراشیوں اور الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔
پھر "قوم، رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کی گئی:
"پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتون"
سندھی کو بلوچ پسند نہیں تو پشتون کو پنجابی اور پنجابی کو پشتون، اسی طرح بلوچ کو پنجابی بس خوامخواہ ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی پر تُلے ہوئے ہیں، آجکل تو یہ دشمنی مزید شدت اختیار کرگئی ہے، شائد مستقبل میں وطنِ عزیز مزید ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے!
ایک عجیب تقسیم "ملا ومسٹر" کے نام پر بھی وجود رکھتی ہے، مولوی مسٹر کو برداشت نہیں کرسکتا تو مسٹر مولوی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ جب سے فیس بُک استعمال کرنا شروع کیا ہے، آئے روز اس موضوع سے متعلق کوئی نہ کوئی منفی پوسٹ سامنے آتی ہے۔ ایک دوسرے پر طرح طرح جملے کستے جارہے ہیں، سنجیدگی کا نام ونشان نہیں، اگر مسٹر کہتا ہے مدارس خام مال تیار کررہے ہیں تو مولوی دو قدم آگے بڑھ کر جواب دیتا ہے کالج و یونیورسٹی میں ملحد ین تیار ہورہے ہیں، مغربی پیداوار وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
نوٹ اس اتحاد سے مراد روافض کے علاوہ تمام اہل سنت گروہوں کا اتحاد ہے جس میں بریلوی دیوبندی اہل حدیث سب شامل ہیں اور اگر کوئی عوام میں معتدل اہل تشیع ہیں جو غالی قسم کے شیعہ نہیں ہیں تو وہ بھی شامل ہیں۔