14/07/2026
پولیس 6 سال سوئی رہی تو سزا ملزم کو نہیں ملے گی! ناقص تفتیش اور چالان میں تاخیر پر لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب پولیس کو ہلا دینے والا تاریخی فیصلہ!
ہمارے ملک میں پولیس کا ایک عام رواج ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد کیس فائلوں میں دبا کر سالوں سوئی رہتی ہے، نہ چالان عدالت جاتا ہے اور نہ تفتیش مکمل ہوتی ہے۔ پھر اچانک برسوں بعد ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے تھانہ کنگن پور، ضلع قصور کے ایک کیس میں نہ صرف ملزم کی ضمانت منظور کی ہے، بلکہ آئی جی پنجاب سمیت پورے تفتیشی نظام کی کلاس لگا دی ہے۔
کیس کی مختصر کہانی کیا ہے؟
لڑائی جھگڑے کے ایک کیس میں ملزم پر کلہاڑی اور ڈنڈے مارنے کا الزام تھا۔ ایف آئی آر وقوعہ کے پورے 7 دن بعد درج ہوئی۔ اس کے بعد پولیس ساڑھے چھ سال تک آرام کرتی رہی۔ نہ کوئی ڈائری لکھی، نہ اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی اور اچانک 2025 میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کی اس غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تاریخی اصول طے کیے ہیں۔
اس فیصلے سے عام آدمی اور ینگ وکلاء کے لیے سیکھنے کے 6 بڑے قانونی سبق:
1۔ تاخیر سے درج ایف آئی آر مشکوک ہوتی ہے
عدالت نے کہا کہ وقوعہ کے 7 دن بعد ایف آئی آر درج کروانا اور تاخیر کی کوئی وجہ نہ بتانا یہ واضع ظاہر کرتا ہے کہ یہ وقت کہانی گھڑنے، مشورے کرنے اور دشمنی نکالنے کے لیے استعمال ہوا۔ سپریم کورٹ کے اصولوں کے مطابق ایسی تاخیر ملزم کو ضمانت کا حقدار بناتی ہے۔
2۔ ضمانت عام اصول ہے، جیل بھیجنا استثنیٰ!
عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ کیس کی دفعات ممنوعہ حد (Prohibitory Clause) میں نہیں آتیں، اور جب تک جرم ثابت نہ ہو ہر شخص بے گناہ ہے۔ مقدمہ چلنے سے پہلے کسی کو جیل میں رکھنا سزا دینے کے مترادف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ آزادی ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
پولیس کی سستی کی سزا ملزم کو نہیں دی جا سکتی
جج صاحب نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس ساڑھے چھ سال تک سوئی رہی، نہ کوئی ضمنی (Case Diary) لکھی، نہ گرفتاری کے وارنٹ لیے، تو پولیس کی اس نااہلی اور سستی کا خمیازہ ملزم جیل کاٹ کر کیوں بھگتے؟
4۔ چالان میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہے
قانون (سیکشن 173 Cr.P.C) کے مطابق پولیس پر لازم ہے کہ وہ 14 دن کے اندر تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں جمع کرائے۔ سالوں تک چالان روک کر رکھنا آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
5۔ کراس ورژن (دوسرے فریق کی کہانی) کو دبا دینا غیر قانونی ہے
پولیس نے مخالف فریق کا مؤقف (Cross Version) صرف ایک ضمنی میں لکھ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے مشہورِ زمانہ "صغراں بی بی کیس" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کا کام صرف ایف آئی آر کو سچا ثابت کرنا نہیں بلکہ اصل سچائی سامنے لانا ہوتا ہے۔ دونوں طرف کی تفتیش برابر ہونی چاہیے۔
6۔ آئی جی پنجاب کو پورے صوبے میں آڈٹ کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کو پورے نظام کی ناکامی (Systemic Failure) قرار دیتے ہوئے فیصلے کی کاپی آئی جی پنجاب کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تمام پرانے زیرِ التواء کیسز کا آڈٹ کریں اور 30 دن کے اندر عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں۔