Tax Malomaat

Tax Malomaat Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tax Malomaat, Tax preparation service, Office # 15 Ehsan Commercial Center, Lahore.

NTN Registration
Filing Tax Returns
FBR / SECP Company Registration
GST Registration
SRB Registration (SNTN)
PRA Registration (PNTN)
Salary Income Tax Return (ITR)
Business Annual Return of Income (ITR)
Companies Annual Return of Income (ITR)

"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشر...
05/08/2026

"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟

یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کے بارے میں موجود ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

لوگ اکثر ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی ریٹرن میں کیا ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، کیا چھوڑا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

میرے پاس اب تک جتنی ریٹرنز ریویو اور درستگی کے لیے آئیں، ان میں اکثر میں بنیادی غلطیاں موجود تھیں۔

کسی کے Assets درست ڈکلیئر نہیں تھے، کسی کے مکمل Assets ظاہر نہیں کیے گئے، کسی کی Wealth Statement میں مطابقت نہیں تھی، کسی کی آمدن اور اخراجات کا حساب درست نہیں تھا، جبکہ بعض کیسز میں گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی صحیح طریقے سے carry forward نہیں کیا گیا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی افراد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا ٹیکس ریکارڈ خراب کر رہے ہیں۔

صرف اس لیے کہ کسی نے پچھلے سال 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریٹرن درست، مکمل یا قانونی طور پر محفوظ بھی تھی۔

Income Tax Return صرف ایک فارم نہیں۔
یہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔

آج چند ہزار روپے کی فیس بچانے کے لیے اگر آپ غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطی Tax Notice، Audit، Wealth Reconciliation یا Assets کے ذرائع کی وضاحت کی صورت میں آپ کے لیے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں فرق سمجھیں۔

ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف ریٹرن submit کرنا نہیں، بلکہ کلائنٹ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے ریٹرن تیار کرنا ہے۔

اپنے ٹیکس ریکارڈ کو چند ہزار روپے کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں۔

کم فیس نہیں، درست اور محفوظ ٹیکس کمپلائنس کو ترجیح
دیں۔
سید ظل رحمان ہاشمی
ٹیکس معلومات
03097700579

31/07/2026

ایف بی آر کا نیا نظام: اصلاحات ضروری، مگر تدریج بھی ضروری

ایف بی آر نے جو نیا اور سخت نظام نافذ کیا ہے، اگر یہی نظام ڈیجیٹل ریٹرن فائلنگ کے آغاز ہی سے مرحلہ وار نافذ کیا جاتا تو آج ٹیکس دہندگان کو اتنی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اگر اس سال نئے نظام کا نفاذ ناگزیر تھا تو کم از کم اس سال رعایت دی جاتی اور مکمل سختی سے عمل درآمد آئندہ سال سے کیا جاتا، تاکہ لوگ نئے طریقۂ کار سے اچھی طرح واقف ہو جاتے۔

بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیکس کا نظام تو امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے معیار تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، مگر اس کے مطابق سہولیات، آگاہی، تکنیکی معاونت اور مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی ہمیشہ نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے۔ پہلے بنیادی سہولیات، تربیت، آگاہی اور مضبوط نظام فراہم کیے جاتے ہیں، پھر قوانین کو سخت کیا جاتا ہے۔ اگر اس کا الٹ کیا جائے تو مسائل ہی جنم لیتے ہیں۔

اس وقت ایف بی آر کا نیا ریٹرن فائلنگ سسٹم پرانے ریکارڈ اور سابقہ نظام کے ساتھ درست انداز میں مطابقت نہیں رکھتا۔ تقریباً ہر ٹیکس دہندہ کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار ہے۔ کسی کو ٹیکس کیلکولیشن میں دشواری پیش آ رہی ہے، کسی کو پراپرٹی کی تفصیلات میں، کسی کو گین ٹیکس، فکسڈ ٹیکس یا فائنل ٹیکس کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں۔

مثال کے طور پر، بہت سے افراد نے پہلے کسی پراپرٹی کی مکمل ادائیگی کرکے قبضہ حاصل کیا، اسی بنیاد پر اسے اپنی ریٹرن میں ظاہر بھی کر دیا۔ بعد میں جب اس کی رجسٹری ہوئی تو نئی پراپرٹی خودکار طور پر ریٹرن میں شامل ہو گئی، لیکن پہلے والی انٹری ڈیلیٹ نہیں ہو رہی۔ اس وجہ سے ایک ہی پراپرٹی کی دو اندراجات نظر آ رہی ہیں اور ٹیکس دہندگان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

اسی طرح کہیں ٹیکس ریٹ درج کرنے کا کہا جاتا ہے، کہیں پہلے گین ٹیکس والے حصے میں جانے کی ہدایت ملتی ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر مختلف تقاضے سامنے آتے ہیں۔ اس غیر واضح طریقۂ کار نے صارفین کو مزید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ ایف بی آر کی ویب سائٹ بھی مسلسل تکنیکی مسائل کا شکار رہتی ہے۔ بار بار ہینگ ہونا، بگز آنا، صفحات کا لوڈ نہ ہونا، اور رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود فائلر اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہ ہونا جیسے مسائل روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔

اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں اور ڈیجیٹل نظام بھی خوش آئند ہے، لیکن کامیاب اصلاحات وہی ہوتی ہیں جن میں عوام کی سہولت، مناسب تیاری، مؤثر آگاہی، مضبوط تکنیکی نظام اور مرحلہ وار نفاذ کو ترجیح دی جائے۔ امید ہے کہ ایف بی آر ان عملی مشکلات کا سنجیدگی سے نوٹس لے گا، نظام کو مزید بہتر بنائے گا اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا۔


"ایک بار فائلر بن گیا، اب ہمیشہ فائلر رہوں گا" — یہ سوچ ہر سال نقصان دیتی ہے۔ فائلر اسٹیٹس مستقل نہیں ہوتا؛ ایکٹو ٹیکس پ...
26/07/2026

"ایک بار فائلر بن گیا، اب ہمیشہ فائلر رہوں گا" — یہ سوچ ہر سال نقصان دیتی ہے۔ فائلر اسٹیٹس مستقل نہیں ہوتا؛ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) ہر سال نئی فائل شدہ ریٹرن پر اپڈیٹ ہوتی ہے۔

ایک سال بھی فائلنگ مِس ہو جائے تو نام ATL سے نکل جاتا ہے، اور دوبارہ فائلر بننے میں وقت بھی لگتا ہے اور اضافی جرمانہ بھی۔ اس دوران تمام نان فائلر ریٹس واپس لاگو ہو جاتے ہیں — کم ٹیکس ریٹ، آسان ٹرانزیکشنز، سب کچھ رک جاتا ہے۔

فائلر رہنے کا واحد طریقہ یہی ہے: ہر سال بروقت فائل کریں۔

📞 03097700279 | 03070676579
📩 [email protected]
📘 Facebook / Instagram: Tax Malomaat

#ٹیکس

🚨 ایف بی آر کا بڑا کریک ڈاؤن: نان فائلرز اور غلط ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے وارننگ! 🚨اگر آپ نے بینک میں لاکھوں کروڑوں ...
25/06/2026

🚨 ایف بی آر کا بڑا کریک ڈاؤن: نان فائلرز اور غلط ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے وارننگ! 🚨
اگر آپ نے بینک میں لاکھوں کروڑوں روپے رکھے ہوئے ہیں لیکن اپنے ٹیکس گوشواروں (Tax Returns) میں آمدن 'زیرو' ظاہر کی ہے، تو اب ہوشیار ہو جائیں! **یکم اکتوبر** سے وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) ایک بڑا اور سخت ایکشن شروع کرنے جا رہا ہے۔

# # # 📈 ویڈیو کے اہم اور سنسنی خیز حقائق:
* **8,697 افراد کا ڈیٹا تیار:** ایسے افراد جن کے بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر **750 ارب روپے** سے زائد موجود ہیں، لیکن انہوں نے ریٹرنز میں اپنی آمدن 'زیرو' دکھائی ہے۔

* **99% کا ڈیٹا مشکوک:** ہائی ڈپازٹس رکھنے والے 99 فیصد افراد کی مالی سرگرمیاں ان کے ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت ہی نہیں رکھتیں۔

* **چھوٹے ریٹیلرز پر بھی کڑی نظر:** فکسڈ ٹیکس سکیم سے باہر موجود چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

**یاد رکھیں!**
میٹرک فیل کچہری کے پھٹے والوں، پٹواریوں، بینک عملے یا غیر قانونی وثیقہ نویسوں سے سستے اور عارضی فائدے کے لیے ریٹرنز فائل کرانا اب آپ کو بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ غلط یا ادھوری معلومات کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ منجمد (Freeze) ہو سکتا ہے اور بھاری جرمانے بھی لگ سکتے ہیں۔
>
⚖️ اب وقت ہے ایک پروفیشنل اور تجربہ کار ٹیکس کنسلٹنٹ سے رجوع کرنے کا!

اپنے اثاثوں کو محفوظ بنائیں اور قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہیں
🚨 ایف بی آر کا بڑا کریک ڈاؤن: نان فائلرز اور غلط ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے وارننگ! 🚨
مزید معلومات کیلئے ابھی رابطہ کریں
ٹیکس معلومات ۔
03097700579


15/06/2026

15 جون 2026 کی اہم ٹیکس نیوز۔۔۔

افسران اور ٹیکس گزار کا براہِ راست رابطہ ختم۔۔۔۔

فنانس بل 2026-27 کے تحت ایف بی آر ایک "نیشنل فیس لیس سینٹر" قائم کر رہا ہے، جس کے ذریعے ٹیکس کیسز اور آڈٹ خودکار کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت افسران کو تفویض کیے جائیں گے۔ افسران کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی تاکہ صوابدیدی اختیارات میں کمی اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔

ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں دوبارہ شمولیت مہنگی
لیٹ ریٹرن فائل کرنے کے بعد ATL میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے فیس میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

• افراد کے لیے فیس 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے

• کمپنیوں کے لیے فیس 20,000 روپے سے بڑھا کر 100,000 روپے

بینک اکاؤنٹس اور ٹیکس چوری پر سخت اقدامات
فنانس بل میں ٹیکس چوری اور نان کمپلائنس کے خلاف سزاؤں کو مزید سخت بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

• مطلوبہ بینک ریکارڈ یا آڈٹ دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے تک جرمانہ

• آمدن یا بینک ڈپازٹس چھپانے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا ٹیکس شارٹ فال کے برابر جرمانہ

• مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں کاروباری دفاتر یا دکانیں سیل کرنے کے اختیارات

ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ آج
تمام کمپنیوں، کارپوریٹ اداروں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز (AOPs) کے لیے سیکشن 147 کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ آج 15 جون 2026 ہے۔ ادائیگی IRIS سسٹم کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ریلیف۔۔۔

پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

• سیکشن 236C کے تحت شرح 2.75 فیصد
• سیکشن 236K کے تحت شرح 1.5 فیصد

آئی ٹی برآمدات کے لیے رعایت برقرار۔۔۔۔

آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس شرح کو ٹیکس سال 2029 تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

نوٹ: مذکورہ اقدامات فنانس بل 2026-27 کا حصہ ہیں اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد حتمی قانونی حیثیت اختیار کریں گے۔
For more information contact
TAX MALOMAAT
03097700579

توجہ فرمائیےانکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر ٹیکس  ریٹرن آج  ہی  جمع کروائیں اور جرمانے سے ...
15/06/2026

توجہ فرمائیے
انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی
آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر ٹیکس ریٹرن آج ہی جمع کروائیں اور جرمانے سے بچیں۔ گھر بیٹھے ہمارے ٹیکس ماہرین کی خدمات حاصل کریں اور اضافی ٹیکسز کے بوجھ سے بچیں۔

پراپرٹی اور تنخواہ دار افراد کے لئے سب سے بڑا ٹیکس ریلیف1۔ تنخواہ دار افراد کا انکم ٹیکس کم کیا گیانئے مجوزہ سالانہ سلیب...
13/06/2026

پراپرٹی اور تنخواہ دار افراد کے لئے سب سے بڑا ٹیکس ریلیف

1۔ تنخواہ دار افراد کا انکم ٹیکس کم کیا گیا

نئے مجوزہ سالانہ سلیب یہ ہیں:

سالانہ قابلِ ٹیکس آمدن مجوزہ ٹیکس
6 لاکھ روپے تک کوئی ٹیکس نہیں
6 لاکھ سے 12 لاکھ زائد رقم کا 1%
12 لاکھ سے 22 لاکھ 6,000 روپے + زائد رقم کا 11%
22 لاکھ سے 32 لاکھ 116,000 روپے + زائد رقم کا 20%
32 لاکھ سے 41 لاکھ 316,000 روپے + زائد رقم کا 25%
41 لاکھ سے 56 لاکھ 541,000 روپے + زائد رقم کا 29%
56 لاکھ سے 70 لاکھ 976,000 روپے + زائد رقم کا 32%
70 لاکھ سے زیادہ 1,424,000 روپے + زائد رقم کا 35%

اہم بات یہ ہے کہ 35% کی سب سے زیادہ شرح پہلے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن سے شروع ہوتی تھی، اب 70 لاکھ روپے سے شروع ہوگی۔

2۔ پراپرٹی پر سیکشن 7E ختم

پاکستان میں موجود غیر منقولہ جائیداد پر deemed income tax یعنی سیکشن 7E ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

3۔ پراپرٹی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کم
• جائیداد فروخت کرنے والے کا ٹیکس: مختلف 4.5% سے 5.5% شرحوں کے بجائے 2.75% فلیٹ
• جائیداد خریدنے والے کا ٹیکس: مختلف 1.5% سے 2.5% شرحوں کے بجائے 1.5% فلیٹ

یہ پراپرٹی مارکیٹ کے لیے بڑا ریلیف ہے۔

4۔ سپر ٹیکس میں کمی
• 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس ختم
• 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر شرح 10% سے کم کرکے 8%
• البتہ بینکنگ، فرٹیلائزر اور بعض توانائی/قدرتی وسائل کے شعبوں کو یہ رعایت حاصل نہیں ہوگی۔

5۔ ایکسپورٹرز کا ٹیکس کم

ایکسپورٹ آمدن پر مجموعی کٹوتی 2% سے کم کرکے 1.25% کرنے کی تجویز ہے۔

6۔ بیرونِ ملک کارڈ ادائیگی پر ٹیکس بہت کم

ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈ کے ذریعے بیرونِ ملک ادائیگی پر ایڈوانس ٹیکس:

5% سے کم کرکے 0.5%

یہ بیرونِ ملک خریداری، ہوٹل، ٹکٹنگ اور آن لائن ادائیگیوں والوں کے لیے نمایاں ریلیف ہے۔

7۔ آئی ٹی ایکسپورٹرز

آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کے ایکسپورٹرز کے لیے 0.25% رعایتی شرح کو ٹیکس سال 2029 تک بڑھانے کی تجویز ہے۔

8۔ بیرونِ ملک اثاثوں پر CVT ختم

ریزیڈنٹ پاکستانیوں کے بیرونِ ملک منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں پر لگنے والا Capital Value Tax ختم کرنے کی تجویز ہے۔



جہاں ٹیکس بڑھایا یا نیا لگایا گیا ہے

1۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب آمدن

یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک وغیرہ سے ملنے والی آمدن پر نیا withholding tax نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ بینک یا مالی ادارہ رقم وصول ہونے پر ٹیکس کاٹے گا۔

2۔ ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز

مخصوص شعبوں کے ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور ہول سیلرز کا کم از کم ٹیکس:

0.25% سے بڑھا کر 0.5%

یعنی یہ شرح دگنی کی گئی ہے۔

3۔ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس

مختلف خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق:
• بعض مخصوص سروسز کی شرح بڑھے گی
• آزاد پیشہ ور افراد یعنی independent professionals کی الگ کیٹیگری بنے گی
• مختلف سروسز کی شرحیں دوبارہ مقرر ہوں گی

4۔ ای سگریٹ کا ای لیکوئڈ

ای سگریٹ کے e-liquid پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی:

10,000 روپے فی کلو سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلو

5۔ لگژری گاڑیاں

لگژری الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر درآمدی لگژری گاڑیوں پر نئی یا اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے۔

6۔ پٹرولیم سے متعلق بعض مصنوعات

نفتھا، سالوینٹ آئل، تارپین، بیس آئل اور بیس لبریکیٹنگ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔



سیلز ٹیکس کی اہم تبدیلیاں

ریلیف
• میگزینز کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ
• خواتین کے sanitary tampons پر ٹیکس ختم
• الیکٹرک گاڑیوں کے CKD پر رعایت 30 جون 2027 تک
• ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے درآمدی capital goods پر استثنیٰ
• شپنگ سیکٹر کی بعض strategic investments پر استثنیٰ
• بعض aircraft parts پر رعایت کا دائرہ وسیع

ٹیکس بڑھانے یا وصولی سخت کرنے کے اقدامات
• مزید اشیا کو Third Schedule میں شامل کرکے سیلز ٹیکس ریٹیل/کنزیومر قیمت پر وصول کیا جائے گا
• toll manufacturers غیر رجسٹرڈ خریداروں سے سیلز ٹیکس روکیں گے
• AOPs اور افراد کی جانب سے غیر رجسٹرڈ افراد سے withholding sales tax کا دائرہ بڑھے گا
• صنعت کار درآمدی خام مال کو بغیر پروسیسنگ اسی حالت میں فروخت کرے تو 3% value addition tax وصول ہوگا
• 20 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ سالانہ ٹرن اوور والا ریٹیلر Tier-1 retailer شمار ہوگا

خاندانی منصوبہ بندی کے آلات پر موجود سیلز ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، یعنی ان پر ٹیکس لگ سکتا ہے۔



کسٹمز ڈیوٹی میں بڑی کمی

بجٹ میں درآمدی خام مال اور صنعتی inputs پر بڑے پیمانے پر کسٹمز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے:
• 20% ڈیوٹی کو مختلف اشیا پر 15% یا 10%
• 15% اور 10% کو 10% یا 5%
• 5% کو بعض اشیا پر صفر
• یہ کمی تقریباً 92 tariff lines پر ہے

Additional Customs Duty
• 449 اشیا پر 6% سے 4%
• 2,107 اشیا پر 4% سے 2%
• 569 اشیا پر 2% سے صفر

Regulatory Duty
• 20% سے زیادہ ریگولیٹری ڈیوٹی کو زیادہ سے زیادہ 20% تک محدود کیا جائے گا
• 2.5% سے 20% والی RD شرحوں میں عمومی طور پر 20% کمی
• بعض کم شرحیں مکمل ختم بھی کی جائیں گی

خاص شعبوں کے لیے ریلیف
• زرعی مشینری پر CD، ACD اور RD ختم
• کینسر کی ادویات کے اہم خام مال APIs پر کسٹمز ڈیوٹی ختم
• مخصوص تعمیراتی گاڑیوں کی کسٹمز ڈیوٹی 20% سے 10%
• بعض دفاعی درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی استثنیٰ



دیگر اہم نکات
• بیرونِ ملک سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔
• WHO معیار کے مطابق sports/electrolyte drinks پر FED ختم کیا جائے گا۔
• acetate tow کی FED 44,000 روپے سے کم کرکے 10,000 روپے کی جا رہی ہے۔
• بینکوں سے بڑی deposits اور withdrawals کا ڈیٹا ٹیکس گوشواروں سے خودکار طور پر ملایا جائے گا۔
• کاروباروں کی FBR نظام کے ساتھ electronic integration سخت ہوگی۔
• کمپنیوں کو financial statements مشین کے ذریعے پڑھے جانے والے الیکٹرانک فارمیٹ میں دینا ہوں گے۔
• ٹیکس آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل کے لیے faceless system متعارف کیا جا رہا ہے۔
• FBR کے نظام کے ساتھ انٹیگریشن پر کی گئی سرمایہ کاری کا ٹیکس کریڈٹ مل سکتا ھے 10%

مزید معلومات کیلئے ابھی رابطہ کریں
ٹیکس معلومات، 03097700579
سید ظل رحمان ہاشمی
ٹیکس کنسلٹنٹ


04/06/2026

*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے نیا مجوزہ الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ ڈرافٹ فارم *SRO 835(I)/2026* کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز، ٹیکس پریکٹیشنرز، بزنس کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں سے سات دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ یہ فارم ابھی حتمی نہیں بلکہ مجوزہ مرحلے میں ہے، مگر اس کے خدوخال یہ بتا رہے ہیں کہ ایف بی آر اب ریٹرن کو صرف آمدنی کے ایک سادہ بیان کے بجائے مکمل مالی سرگرمیوں کی سالانہ سمری بنانا چاہتا ہے۔

اس نئے فارم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو اب اپنی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل زیادہ منظم انداز میں دینی ہوگی۔ ایف بی آر کے ڈرافٹ انسٹرکشنز کے مطابق سسٹم میں موجود معاشی لین دین کا ڈیٹا اشارتی ہوگا اور وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا رہے گا، مگر درست آمدنی اور درست ٹیکس رپورٹ کرنا پھر بھی ٹیکس گزار کی اپنی ذمہ داری رہے گی۔

*تنخواہ دار طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوگا*

نئے فارم میں تنخواہ دار افراد کو صرف سالانہ تنخواہ لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں اپنے ایمپلائر کا نام، رجسٹریشن نمبر اور سال بھر میں کاٹے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا عملی اثر یہ ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس نہیں کاٹ رہی تو ریٹرن فائل کرنے والے ملازمین کے ڈیٹا سے ایف بی آر کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں ایمپلائر نے تنخواہ دی مگر ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرایا۔

یہاں سے *سیکشن 161* کے تحت ایمپلائر کے خلاف کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاں ودہولڈنگ ایجنٹ ٹیکس کاٹنے کا پابند تھا مگر اس نے ٹیکس نہیں کاٹا، وہاں محکمہ اس واجب الادا رقم کا مطالبہ ودہولڈنگ ایجنٹ سے کر سکتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار افراد اور ایمپلائرز دونوں کو جون 2026 کے اختتام سے پہلے اپنی ودہولڈنگ پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔

*کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر آمدنی میں بھی تفصیل لازمی ہوگی*

پہلے کئی ٹیکس گزار پراپرٹی انکم، دیگر آمدنی یا زرعی آمدنی کو ایک ہی مجموعی رقم کے طور پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اب رجحان یہ ہے کہ ہر پراپرٹی، ہر ادارے، ہر ذریعہ آمدنی اور زرعی زمین کی تفصیلات الگ الگ مانگی جائیں گی۔ پراپرٹی رینٹ کی صورت میں یہ بتایا جائے گا کہ کس پراپرٹی سے کتنا کرایہ آیا، اس کے خلاف کون سے قابل قبول اخراجات کلیم کیے گئے، اور خالص آمدنی کیا بنی۔

اسی طرح زرعی آمدنی میں صرف ایک رقم لکھ دینا کافی نہیں رہے گا۔ زرعی زمین کی جگہ، کھاتہ یا سروے نمبر، رقبہ، فصل، آمدنی اور متعلقہ صوبائی ریکارڈ سے مطابقت اہم ہو سکتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں زرعی آمدنی کے صوبائی قوانین کے تحت پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔

*کاروباری طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ودہولڈنگ ٹیکس کی کراس میچنگ*

نئے فارم کا اصل مقصد صرف آمدنی پوچھنا نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو کراس میچ کرنا ہے۔ کاروباری ادائیگیاں، وصولیاں، ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنز، سپلائرز اور کسٹمرز کا ڈیٹا ایک دوسرے سے ملایا جا سکے گا۔ اگر ایک شخص اپنے ریٹرن میں کسی کمپنی سے آمدنی یا ادائیگی ظاہر کرتا ہے، مگر دوسری طرف کمپنی نے اس پر ٹیکس نہیں کاٹا یا جمع نہیں کرایا، تو ایف بی آر کے لیے سیکشن 161 کے تحت سوال اٹھانا آسان ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ صرف “آمدنی لکھنے” کا کام نہیں رہے گا بلکہ ہر رقم کے پیچھے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کاروباری ہے یا نان بزنس، قابل ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر ٹیکس کٹنا چاہیے تھا یا نہیں، اور اگر کٹا ہے تو CPR یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے اس کا ثبوت موجود ہے یا نہیں۔

*ریفنڈ سسٹم میں ممکنہ بہتری*

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ نئے فارم میں ریفنڈ کے لیے بینک اکاؤنٹ اور ودہولڈنگ ڈیٹا کو زیادہ منظم طریقے سے شامل کرنے کا تصور نظر آتا ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر درست کام کرے تو ٹیکس گزار کو ریفنڈ کے لیے بار بار ٹیکس آفس جانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت کارآمد ہوگی جب ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، بینک اکاؤنٹ، CNIC/NTN اور ریٹرن کا ڈیٹا آپس میں مکمل طور پر میچ کر رہا ہو۔

*فارم مئی میں جاری ہونا ایک بڑا اشارہ ہے*

عام طور پر ریٹرن فارم جولائی کے قریب آتے رہے ہیں، لیکن اس سال مئی میں ڈرافٹ فارم سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر فائلنگ سیزن کو یکم جولائی 2026 سے منظم طریقے سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکس ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جلد ڈرافٹ جاری کرنے کا مقصد ٹیکس گزاروں کو یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک مکمل فائلنگ وقت دینا ہو سکتا ہے۔

*ٹیکس گزاروں کے لیے عملی احتیاط*

ٹیکس سال 2026 کے لیے ہر ٹیکس گزار کو 30 جون کے بعد فوراً اپنا مکمل ڈیٹا ترتیب دینا چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ سرٹیفکیٹ، کرایہ نامہ، پراپرٹی تفصیل، زرعی آمدنی کا ریکارڈ، خرید و فروخت، ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کی مکمل تفصیل پہلے سے تیار رکھی جائے۔

تنخواہ دار افراد خاص طور پر اپنے ایمپلائر سے یہ تصدیق کریں کہ ان کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس کاٹا اور جمع کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ایمپلائر نے ٹیکس نہیں کاٹا اور ملازم نے ریٹرن میں تنخواہ ظاہر کر دی تو بعد میں ایمپلائر پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کا معاملہ بن سکتا ہے۔ پھر ایمپلائر ملازم سے رقم مانگے گا، جبکہ ملازم یہ کہے گا کہ اس نے اپنی طرف سے ریٹرن کے ساتھ ٹیکس ادا کر دیا تھا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جون کے اندر اندر سالانہ ٹیکس کی پوزیشن صاف کر لی جائے۔

نیا ریٹرن فارم بظاہر مشکل، تفصیلی اور عام آدمی کے لیے پیچیدہ ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: اب ایف بی آر صرف اعلان کردہ آمدنی نہیں دیکھے گا بلکہ بینک، ودہولڈنگ، کاروباری لین دین، تنخواہ، کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے گا۔

لہٰذا اس سال ریٹرن فائلنگ میں جلد بازی، اندازے، غیر مکمل بینک سمری، یا بغیر قانونی سمجھ بوجھ کے فارم جمع کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ٹیکس گزار کو چاہیے کہ وہ اپنا ریٹرن کسی ایسے ماہر سے تیار کرائے جو صرف فارم بھرنا نہ جانتا ہو بلکہ قانون، اکاؤنٹس، بینکنگ ٹرانزیکشنز، ودہولڈنگ ٹیکس اور قابل قبول اخراجات کی مکمل سمجھ رکھتا ہو۔

ٹیکس ریٹرن اب صرف ایک سالانہ رسم نہیں رہا، بلکہ آپ کی مکمل مالی پروفائل کا قانونی بیان بن چکا ہے۔ اس لیے احتیاط، تیاری اور درست مشاورت ہی بہترین تحفظ ہے.
For more info: 03097700579

اگر یہ سمارٹ سسٹم منظور ہوگیا تو کچھ بھی چھپانا آسان نہیں ہوگا... ٹیکس ریٹرن 2026 ڈرافٹ ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن 2026 کیل...
16/05/2026

اگر یہ سمارٹ سسٹم منظور ہوگیا تو کچھ بھی چھپانا آسان نہیں ہوگا... ٹیکس ریٹرن 2026 ڈرافٹ
ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن 2026 کیلئے جو نیا مجوزہ ڈرافٹ تیار کیا ہے، وہ صرف ایک عام اپڈیٹ نہیں بلکہ پورے ٹیکس سسٹم کو بدلنے کی کوشش لگ رہا ہے۔ پہلے مختلف لوگوں اور کاروباروں کیلئے الگ الگ ریٹرن فارم ہوتے تھے، جیسے ٹریڈرز، مینوفیکچررز، SMEs، نان ریزیڈنٹس وغیرہ۔ لیکن اب ایف بی آر تقریباً سب کو ایک ہی مرکزی سسٹم میں لانا چاہتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی آسانی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی تمام معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے زیادہ مؤثر نگرانی کرنا ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی “Withholding Summary Dashboard” ہے۔ اب ریٹرن فائل کرتے وقت سب سے پہلے وہ معلومات سامنے آئیں گی جو ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ یعنی بینک ٹرانزیکشنز، پراپرٹی خرید و فروخت، ودہولڈنگ ٹیکس، حتیٰ کہ کچھ سیلز ٹیکس ریکارڈ بھی۔ پہلے لوگ اپنی معلومات خود درج کرتے تھے، مگر اب سسٹم پہلے ہی کافی چیزیں جانتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی جائیداد، آمدن یا ٹرانزیکشن ظاہر نہ کی تو اسے چھپانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا سے کمانے والے افراد بھی ایف بی آر کی خاص توجہ میں آ گئے ہیں۔ نئے ریٹرن میں پہلی بار “Social Media Content Income” کا الگ سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ اس میں پوسٹس کی تعداد، ویوز، کمائی اور دیگر تفصیلات پوچھی جائیں گی۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل اکانومی اب باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

پراپرٹی سے متعلق نظام بھی پہلے سے کافی سخت اور جدید بنایا جا رہا ہے۔ اب صرف ایک سادہ انٹری کافی نہیں ہوگی بلکہ ہر پراپرٹی کی مکمل تفصیل دینی پڑے گی، جیسے مکمل ایڈریس، پراپرٹی کی نوعیت، خریداری کی تاریخ، رقبہ اور فروخت کی معلومات۔ اگر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کسی پراپرٹی پر ٹیکس کٹ چکا ہو لیکن وہ ریٹرن میں ظاہر نہ کی گئی ہو تو سسٹم خود وارننگ دے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب جائیداد کے معاملات پر سخت ڈیٹا میچنگ ہونے والی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے صرف مجموعی تنخواہ درج کی جاتی تھی، مگر اب ہر employer کی الگ تفصیل دینی ہوگی۔ اگر کسی نے سال کے دوران نوکری بدلی ہو یا ایک سے زیادہ اداروں میں کام کیا ہو تو سب کی الگ انٹری کرنا پڑے گی۔ اس سے ایف بی آر کیلئے مختلف اداروں سے موصول ہونے والا ڈیٹا چیک کرنا آسان ہو جائے گا۔

اسی طرح غیر ملکی اثاثوں اور آمدن سے متعلق بھی بڑا فرق آیا ہے۔ پہلے اس کیلئے الگ declaration فائل کرنا پڑتی تھی، مگر اب تمام foreign assets اور liabilities کو مین ریٹرن کے اندر ہی شامل کر دیا گیا ہے۔ یعنی بیرونِ ملک جائیداد، سرمایہ یا بینک بیلنس سب ایک ہی ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا۔

چھوٹے کاروباروں کیلئے شاید یہ تبدیلی کچھ مشکل ثابت ہو، کیونکہ ٹریڈر، SME اور مینوفیکچرر جیسے سادہ ریٹرنز ختم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ان کیلئے نسبتاً آسان فارم موجود تھے، لیکن اب انہیں مکمل unified ریٹرن سسٹم استعمال کرنا ہوگا، جس سے compliance کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایف بی آر اب ایک ایسے سسٹم کی طرف جا رہا ہے جہاں ہر چیز زیادہ digital، connected اور automated ہوگی۔ مقصد یہی لگتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی معاشی سرگرمیوں، پراپرٹی، بینکنگ اور آن لائن آمدن کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر cross-check کیا جا سکے۔ نئے نظام میں معلومات چھپانا یا غلط تفصیلات دینا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں TAX MALOMAAT MOB. 03097700579


بڑا فیصلہ: ایف بی آر کی 7E پالیسی زمین بوس، تمام نوٹسز غیر قانونی قرار  Federal Constitutional Court of Pakistan  نے انک...
07/05/2026

بڑا فیصلہ:
ایف بی آر کی 7E پالیسی زمین بوس، تمام نوٹسز غیر قانونی قرار
Federal Constitutional Court of Pakistan
نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متنازعہ دفعہ 7E کے بارے میں ایک نہایت اہم اور دور رس قانونی اثر رکھنے والا فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالت نے اس شق کو آئینِ پاکستان کے خلاف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر کالعدم کر دیا ہے۔
چیف جسٹس Amin-ud-Din Khan نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس شق کی ابتداء ہی غلط تھی، یعنی اس کا قانونی وجود شروع سے ہی غیر مؤثر اور غیر آئینی تھا۔
اس مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے دفعہ 7E کو ٹیکس قانون کا حصہ بنایا گیا تو اس کے خلاف ملک بھر میں آئینی درخواستیں دائر ہوئیں۔ مختلف ہائی کورٹس نے اس معاملے پر مختلف فیصلے دیے۔ پشاور ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ آف بلوچستان نے اس شق کو غیر آئینی قرار دیا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جزوی طور پر اسے کالعدم کیا۔ اس کے برعکس لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے بعض درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جس سے قانونی ابہام پیدا ہوا۔
بعد ازاں یہ تمام مقدمات فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کے سامنے یکجا سماعت کے لیے پیش کیے گئے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دفعہ 7E آئین کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ اس لیے اسے مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید قانونی طور پر یہ قرار دیا کہ دفعہ 7E کے تحت Federal Board of Revenue یا دیگر متعلقہ ٹیکس حکام کی جانب سے جاری کیے گئے تمام نوٹسز، کارروائیاں اور وصولیاں غیر قانونی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت باقی نہیں رہی۔
اس فیصلے کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ اب دفعہ 7E کے تحت کوئی بھی ٹیکس وصولی یا کارروائی جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک اہم مثال ہے اور یہ اصول مضبوط کرتا ہے کہ ریاستی ادارے صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ٹیکس نافذ کر سکتے ہیں۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
03097700579

Your Trusted Tax Partner

Address

Office # 15 Ehsan Commercial Center
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tax Malomaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share