27/10/2025
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، عالیہ نیلم نے عدالتی تاخیر کو کم کرنے اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے ٹائم فریم پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف قسم کے مقدمات کے لیے مقرر کردہ وقت کی حد 2 ماہ سے لے کر 24 ماہ تک ہے۔ اس پالیسی کا مقصد عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو بروقت انصاف فراہم
کرنا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر ہے جس میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (NJPMC) کی 54ویں میٹنگ مورخہ 18 اگست 2025 کے فیصلے کے مطابق مختلف نوعیت کے مقدمات کے لیے مقررہ ٹائم لائنز دی گئی ہیں۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
مختلف مقدمات کے لیے مقررہ مدت (Timelines)
1. ڈیکلیریٹری سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 24 ماہ
2. ڈیکلیریٹری سوٹ (وراثتی تنازعات) → 12 ماہ
3. انجکشن سوٹ (زمین سے متعلق تنازعات) → 6 ماہ
4. ریکوری سوٹ (محصولات/مالی معاملات) → 12 ماہ
5. اسپیسفک پرفارمنس (کنٹریکٹ انفورسمنٹ) → 18 ماہ
6. کرایہ داری مقدمات → 6 ماہ
7. فیملی مقدمات (خلع، حق مہر، نان و نفقہ، سرپرستی وغیرہ) → 6 ماہ
8. وراثتی سرٹیفکیٹ (بلا اعتراض کیسز) → 2 ماہ
9. فیملی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ
10. بینکنگ کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 12 ماہ
11. سول کورٹ کی ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 3 ماہ
12. کرایہ داری ڈگریز کی ایکزیکیوشن → 6 ماہ
13. فوجداری مقدمات (کم عمر ملزمان، JJSA 2018 کے تحت) → 12 ماہ
14. فوجداری مقدمات (سات سال تک کی سزا والے) → 12 ماہ
15. فوجداری مقدمات (سات سال سے زائد سزا والے) → 18 ماہ
16. فوجداری مقدمات (قتل) → 24 ماہ
17. مزدور مقدمات → 6 ماہ
ہدایات
تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور اسپیشل ٹریبونلز کے ججز کو یہ ٹائم لائنز فراہم کر دی گئی ہیں۔
سختی سے ان پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماتحت عدالتی افسران میں اس سرکلر کو گردش کرائیں۔