ExperTax

ExperTax Professional tax consultant specialized in tax registration, income and sales tax return submissions

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: کیا Section 161 کے نوٹس کے لیے واقعی کوئی مدت مقرر نہیں؟اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ Section 161 کے ت...
18/07/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: کیا Section 161 کے نوٹس کے لیے واقعی کوئی مدت مقرر نہیں؟
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ Section 161 کے تحت نوٹس جاری کرنے کے لیے قانون میں کوئی مدت مقرر نہیں، اس لیے محکمہ کسی بھی وقت کارروائی کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس قانونی نکتے کو انتہائی اہم انداز میں واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اصل سوال نوٹس جاری کرنے کی مدت کا نہیں بلکہ ٹیکس دہندہ سے ریکارڈ طلب کرنے کے قانونی اختیار کا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ Sections 161، 165 اور Rule 44(4) میں واقعی کوئی الگ limitation period موجود نہیں۔ لیکن یہ کارروائیاں عموماً اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوتی ہیں جسے ٹیکس دہندہ Section 174(3) کے تحت محفوظ رکھنے کا پابند ہوتا ہے، اور قانون اس ذمہ داری کو صرف چھ سال تک محدود کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب قانون خود ٹیکس دہندہ کو چھ سال بعد ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند نہیں رکھتا تو اس کے بعد اسی ریکارڈ کی بنیاد پر نوٹس جاری کرکے اسے ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اگر Section 161، Section 165 یا Rule 44(4) کے تحت ایسا نوٹس جاری کیا جائے جو ٹیکس دہندہ سے چھ سال بعد ریکارڈ طلب کرے تو ایسا نوٹس غیر مؤثر (ineffective) اور ناقابلِ نفاذ (unenforceable) ہوگا اور اس کی عدم تعمیل پر کوئی قانونی یا تعزیری نتیجہ بھی مرتب نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے ایک اور نہایت اہم وضاحت بھی کی کہ یہ فیصلہ محکمہ کے تمام اختیارات ختم نہیں کرتا۔ اگر مطلوبہ ریکارڈ پہلے ہی محکمہ کے پاس موجود ہو یا کارروائی محکمہ کے اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر ہوسکتی ہو تو قانون ایسی کارروائی سے نہیں روکتا۔ پابندی صرف اس حد تک ہے کہ چھ سال گزرنے کے بعد ٹیکس دہندہ کو وہ ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جسے محفوظ رکھنے کی قانونی ذمہ داری ختم ہوچکی ہو۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ Section 214A بھی اس معاملے میں محکمہ کی مدد نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ دفعہ صرف وہاں لاگو ہوتی ہے جہاں قانون کسی مقررہ مدت میں کوئی "act or thing" کرنے کا تقاضا کرتا ہو، جبکہ Section 174(3) کسی کام کی مدت مقرر نہیں کرتی بلکہ ٹیکس دہندہ کو چھ سال بعد ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سے آزاد کرتی ہے۔ اس لیے Section 214A کے ذریعے اس قانونی تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
نتیجتاً سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ چھ سال گزرنے کے بعد ٹیکس دہندہ کو Section 161، Section 165 یا Rule 44(4) کے تحت ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، اور ایسے نوٹس قانوناً غیر مؤثر اور ناقابلِ نفاذ ہیں۔
اہم قانونی اصول
Section 161 کے لیے الگ limitation مقرر نہیں۔
لیکن Section 174(3) کی وجہ سے چھ سال بعد ریکارڈ طلب کرنے والے نوٹس مؤثر نہیں رہتے۔
Section 214A کے ذریعے اس قانونی تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اگر ریکارڈ پہلے ہی محکمہ کے پاس موجود ہو تو کارروائی پر یہ فیصلہ لاگو نہیں ہوگا۔
حوالہ: Commissioner Inland Revenue v. M/s Panther Sports & Rubber Industries (Pvt.) Ltd. — Civil Petition No. 1691-L of 2018، سپریم کورٹ آف پاکستان، فیصلہ مورخہ 21.09.2021۔

Agriculture Income Tax Collection as a share of Reported Agriculture IncomeSource: Dawn News
18/07/2026

Agriculture Income Tax Collection as a share of Reported Agriculture Income
Source: Dawn News

ایک دن کے ریٹ۔۔۔ اب روز نئے ریٹس کے انتظار کی اذیت
17/07/2026

ایک دن کے ریٹ۔۔۔ اب روز نئے ریٹس کے انتظار کی اذیت

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن
17/07/2026

چھوٹے دکانداروں کے لئے آسان ریٹرن

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیںکیا فیکٹ...
17/07/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیں
کیا فیکٹری، گودام یا دیگر غیر منقولہ عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ادا کیا گیا Input Tax ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں اس سوال کا واضح جواب "نہیں" میں دیا ہے اور محکمۂ ان لینڈ ریونیو کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے ATIR اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیے ہیں۔
اس مقدمے میں ٹیکس دہندہ نے جولائی تا دسمبر 2013 کے دوران فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax کا دعویٰ کیا تھا۔ محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سامان غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) کا حصہ بن جاتا ہے، اس لیے اس پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ قانوناً دستیاب نہیں۔ مزید یہ کہ ٹیکس دہندہ مطلوبہ ریکارڈ، بینکنگ دستاویزات اور دیگر شواہد بھی پیش نہ کرسکا، جس کے باعث دعویٰ مسترد کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Sales Tax Act, 1990 کے تحت سیلز ٹیکس بنیادی طور پر Taxable Goods پر عائد ہوتا ہے۔ جبکہ فیکٹری کی عمارت، دفاتر یا دیگر Immovable Property ایسی قابلِ ٹیکس سپلائی نہیں جو Output Tax پیدا کرے۔ اسی لیے ایسی تعمیر میں استعمال ہونے والا سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر تعمیراتی سامان Input Tax Adjustment کے لیے اہل نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ Section 8(1)(h) اس سلسلے میں واضح پابندی عائد کرتا ہے، جبکہ متعلقہ S.R.O. 450(I)/2013 بھی اسی قانونی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
عدالت نے Section 73 کی قانونی حیثیت پر بھی اہم اصول بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقررہ Banking Channel کے ذریعے ادائیگی Input Tax کے دعوے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ اگر قانون میں مقررہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو صرف یہ مؤقف کافی نہیں کہ لین دین حقیقی تھا؛ ایسی صورت میں بھی Input Tax کا دعویٰ قانون کے مطابق ناقابلِ قبول ہوسکتا ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور نہایت اہم قانونی اصول یہ ہے کہ "قانون کے خلاف کوئی Estoppel نہیں ہوتا۔" سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں محکمہ کا نمائندہ یا وکیل کسی قانونی نکتے پر کوئی رعایت (Concession) دے بھی دے، تب بھی عدالت اس رعایت کی پابند نہیں ہوتی۔ قانون کی درست تشریح کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ فریقین کی قانونی رائے کی پیروی کرنا۔
نتیجتاً سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ATIR کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کا Order-in-Original بحال کردیا اور دونوں قانونی سوالات کا جواب محکمۂ ان لینڈ ریونیو کے حق میں دیا۔
اہم قانونی اصول
غیر منقولہ جائیداد کی تعمیر میں استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیں۔
Section 73 کی پابندی لازمی ہے؛ Banking Channel کی شرط نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔
قانون کے خلاف کوئی Estoppel نہیں ہوتا؛ کسی وکیل یا نمائندے کی قانونی رعایت عدالت کو پابند نہیں کرتی۔
حوالہ: Commissioner Inland Revenue, LTU Karachi v. M/s Bawany Sugar Mills Ltd. — Civil Appeal No. 939 of 2018، سپریم کورٹ آف پاکستان، فیصلہ مورخہ 17.07.2026

STGO 11 of 2026
17/07/2026

STGO 11 of 2026

"صرف میرٹ کافی نہیں، پہلے Limitation عبور کرنا ضروری ہے" — سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہاکثر ٹیکس دہندگان یہ سمجھتے ہیں کہ...
16/07/2026

"صرف میرٹ کافی نہیں، پہلے Limitation عبور کرنا ضروری ہے" — سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
اکثر ٹیکس دہندگان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کا کیس مضبوط ہو تو عدالت تاخیر کو نظر انداز کرکے مقدمہ میرٹ پر سن لے گی۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں اس تصور کو واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قانونِ Limitation محض ایک تکنیکی ضابطہ نہیں بلکہ انصاف کے نظام کا بنیادی حصہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس مقدمے میں ٹیکس دہندہ نے 968 دن کی تاخیر سے Appellate Tribunal میں اپیل دائر کی۔ تاخیر کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ غیر تعلیم یافتہ تھا، اس کا سابق Authorized Representative انتقال کر گیا تھا، اور بعد میں بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے پر اسے اپیل دائر کرنے کی ضرورت کا علم ہوا۔ تاہم Tribunal نے قرار دیا کہ یہ وجوہات اتنی مضبوط اور قابلِ اعتماد نہیں کہ تقریباً تین سال کی تاخیر کو معاف کیا جاسکے، چنانچہ تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی۔
جب معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے سامنے آیا تو عدالت نے بھی Tribunal کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانونِ Limitation صرف ایک رسمی یا تکنیکی تقاضا نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر قانونی کارروائی نہ کی جائے تو دوسری فریق کے حق میں ایک vested right پیدا ہوجاتا ہے، جسے بلاجواز ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ تاخیر کا ہر دن معقول اور قابلِ اعتماد وجوہات کے ساتھ واضح کرنا ضروری ہے، ورنہ تاخیر معاف نہیں کی جاسکتی۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی مقدمہ Limitation کی وجہ سے ناقابلِ سماعت ہو جائے تو عدالت پہلے اسی سوال کا فیصلہ کرے گی، نہ کہ مقدمے کے میرٹ پر جائے گی۔ عدالت کے مطابق ایک دن کی بلاجواز تاخیر بھی کارروائی کو ناقابلِ سماعت بنا سکتی ہے، کیونکہ Limitation کے قواعد انصاف کی فراہمی میں قطعیت (finality) اور قانونی یقین (legal certainty) پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔.
نتیجتاً سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ چونکہ ٹیکس دہندہ 968 دن کی تاخیر کی کوئی معقول اور قانونی طور پر قابلِ قبول وضاحت پیش نہیں کرسکا، اس لیے نہ صرف تاخیر معاف کرنے کی درخواست بلکہ Income Tax Reference بھی مسترد کردی گئی۔
اہم قانونی اصول
قانونِ Limitation محض تکنیکی اعتراض نہیں۔ اگر مقررہ مدت گزر جائے تو ہر دن کی تاخیر کی معقول وضاحت دینا ضروری ہے، بصورت دیگر عدالت مقدمہ میرٹ پر سنے بغیر بھی مسترد کرسکتی ہے۔
Case Reference: Income Tax Reference Application No. 386 of 2025, High Court of Sindh at Karachi, Order dated 16.12.2025.

لاڈ پیار سے پلے بچے کو چوتھے سال میں پیرنٹس نے بڑے اہتمام کے ساتھ سکول میں داخل کردیا ۔ ٹیچر نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ کی ، بچہ ڈ...
16/07/2026

لاڈ پیار سے پلے بچے کو چوتھے سال میں پیرنٹس نے بڑے اہتمام کے ساتھ سکول میں داخل کردیا ۔ ٹیچر نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ کی ، بچہ ڈر گیا ۔۔۔ اس کے بعد جب بھی بچے کے سامنے سکول کا نام لیا جاتا وہ خوف سے کانپنا اور رونا شروع کردیتا
۔
والدین بچے کی حالت سے کافی پریشان تھے ۔ کافی سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بچے کو ماہر نفسیات کے پاس لیکر جانا پڑے گا تاکہ اس کے اندر کا خوف کسی طرح نکل جائے
۔
پیرنٹس نے ماہر نفسیات سے وقت لیا اور مقررہ وقت پر ماہر نفسیات کے پاس پہنچ گئے
۔
جیسے ہی وہاں پہنچے ماہر نفسیات نے انتہائی پیار اور نرمی سے کہا
۔
بچے ڈرنا نہیں ہم اچھے دوست ہیں۔ چلیں مجھے ایک سے لیکر دس تک گنتی سنائیں
۔
یہ سننا تھا کہ بچے نے ایک دلدوز چیخ ماری اور پیرنٹس کو مخاطب کرکے کہنے لگا
۔
تم لوگ پھر مجھے سکول لیکر آ گئے ہو؟
۔۔۔۔
ایف بی آر نے شاپ کیپرز کے لئے ایک اور سمپلیفائیڈ ریٹرن جاری کردیا ۔
۔

کیا محکمہ چھ سال گزرنے کے بعد بھی Section 177 کے تحت آڈٹ کرسکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہاکثر یہ سوال سامنے آتا ہے...
16/07/2026

کیا محکمہ چھ سال گزرنے کے بعد بھی Section 177 کے تحت آڈٹ کرسکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر کسی ٹیکس سال کو گزرے کئی سال ہو جائیں تو کیا محکمہ پھر بھی Section 177 کے تحت آڈٹ کے لیے ریکارڈ طلب کرسکتا ہے؟ یا Section 214A کے ذریعے مدت میں توسیع لے کر قانون میں دی گئی حد کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں ان سوالات کا واضح جواب دے دیا ہے۔

اس مقدمے میں ٹیکس سال 2013 کے لیے درخواست گزار کا آڈٹ پہلے ہی ہوچکا تھا۔ آڈٹ مکمل ہونے کے بعد محکمہ نے خود یہ تسلیم کرتے ہوئے کارروائی ختم کردی کہ ٹیکس کریڈٹ درست طور پر حاصل کیا گیا تھا۔ لیکن چند سال بعد اسی ٹیکس سال اور تقریباً اسی معاملے پر دوبارہ آڈٹ کا انتخاب کیا گیا اور ٹیکس دہندہ سے دوبارہ ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔ چونکہ اس وقت تک چھ سال کی قانونی مدت بھی ختم ہوچکی تھی، اس لیے محکمہ نے Section 214A کے تحت مدت میں توسیع کا سہارا لیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ قانون ٹیکس دہندہ کو صرف چھ سال تک ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ جب یہ مدت ختم ہوجائے تو محکمہ اسے وہی ریکارڈ دوبارہ پیش کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے Panther Sports (2022 SCMR 1135) پر انحصار کرتے ہوئے واضح کیا کہ چھ سال گزرنے کے بعد ایسے نوٹس غیر مؤثر (ineffective) اور ناقابلِ نفاذ (unenforceable) ہوجاتے ہیں۔

عدالت نے ایک اور اہم اصول بھی دہرایا کہ ایک ہی ٹیکس سال کے لیے کسی ٹیکس دہندہ کا دوبارہ آڈٹ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی ٹیکس سال کا آڈٹ مکمل ہوچکا ہو یا محکمہ اس کارروائی کو ختم کرچکا ہو تو اسی ٹیکس سال کے لیے دوبارہ آڈٹ شروع کرنا قانون کی منشا کے خلاف ہے۔
فیصلے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے واضح کردیا کہ Section 214A کے ذریعے اس قانونی تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دفعہ وہاں استعمال ہوسکتی ہے جہاں قانون کسی کام کو مقررہ مدت میں کرنے کی بات کرتا ہو، لیکن Section 174(3) ٹیکس دہندہ کو ایک قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے کہ چھ سال بعد وہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند نہیں رہتا۔ اس لیے Section 214A کی بنیاد پر اس تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
نتیجتاً سندھ ہائی کورٹ نے تمام نوٹس کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کردیا کہ چھ سال گزرنے کے بعد Section 177 کے تحت ریکارڈ طلب نہیں کیا جاسکتا، Section 214A کے ذریعے اس مدت کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا، اور ایک ہی ٹیکس سال کے لیے دوسری مرتبہ آڈٹ بھی قانون کے مطابق نہیں۔
حوالہ: M/s Mujahid Oil Refinery (Pvt.) Ltd. v. Federation of Pakistan & others — C.P. No. D-1532 of 2021، سندھ ہائی کورٹ کراچی، فیصلہ مورخہ 08.04.2026۔

16/07/2026

ابن انشاء نے " اردو کی آخری کتاب" کے دیباچے میں لکھا تھا کہ ملک بھر کے لائبریریوں کی طرف سے یہ کتاب نہ بھیجنے کی مجھے اتنی درخواستیں موصول ہوئیں کہ ان پر عمل درآمد کرنا میرے لئے ممکن نہیں رہا
۔
بالکل اسی طرح ٹیکس ائیر 2026 کی ریٹرن میں آنے والی انقلابی تبدیلیوں پر مجھ سے مزید نہ لکھنے کی اتنی درخواستیں موصول ہوئیں کہ میرے لئے عمل درآمد مشکل ہوگیا
۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ExperTax posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share