18/07/2026
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: کیا Section 161 کے نوٹس کے لیے واقعی کوئی مدت مقرر نہیں؟
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ Section 161 کے تحت نوٹس جاری کرنے کے لیے قانون میں کوئی مدت مقرر نہیں، اس لیے محکمہ کسی بھی وقت کارروائی کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس قانونی نکتے کو انتہائی اہم انداز میں واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اصل سوال نوٹس جاری کرنے کی مدت کا نہیں بلکہ ٹیکس دہندہ سے ریکارڈ طلب کرنے کے قانونی اختیار کا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ Sections 161، 165 اور Rule 44(4) میں واقعی کوئی الگ limitation period موجود نہیں۔ لیکن یہ کارروائیاں عموماً اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوتی ہیں جسے ٹیکس دہندہ Section 174(3) کے تحت محفوظ رکھنے کا پابند ہوتا ہے، اور قانون اس ذمہ داری کو صرف چھ سال تک محدود کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب قانون خود ٹیکس دہندہ کو چھ سال بعد ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند نہیں رکھتا تو اس کے بعد اسی ریکارڈ کی بنیاد پر نوٹس جاری کرکے اسے ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اگر Section 161، Section 165 یا Rule 44(4) کے تحت ایسا نوٹس جاری کیا جائے جو ٹیکس دہندہ سے چھ سال بعد ریکارڈ طلب کرے تو ایسا نوٹس غیر مؤثر (ineffective) اور ناقابلِ نفاذ (unenforceable) ہوگا اور اس کی عدم تعمیل پر کوئی قانونی یا تعزیری نتیجہ بھی مرتب نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے ایک اور نہایت اہم وضاحت بھی کی کہ یہ فیصلہ محکمہ کے تمام اختیارات ختم نہیں کرتا۔ اگر مطلوبہ ریکارڈ پہلے ہی محکمہ کے پاس موجود ہو یا کارروائی محکمہ کے اپنے ریکارڈ کی بنیاد پر ہوسکتی ہو تو قانون ایسی کارروائی سے نہیں روکتا۔ پابندی صرف اس حد تک ہے کہ چھ سال گزرنے کے بعد ٹیکس دہندہ کو وہ ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا جسے محفوظ رکھنے کی قانونی ذمہ داری ختم ہوچکی ہو۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ Section 214A بھی اس معاملے میں محکمہ کی مدد نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ دفعہ صرف وہاں لاگو ہوتی ہے جہاں قانون کسی مقررہ مدت میں کوئی "act or thing" کرنے کا تقاضا کرتا ہو، جبکہ Section 174(3) کسی کام کی مدت مقرر نہیں کرتی بلکہ ٹیکس دہندہ کو چھ سال بعد ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سے آزاد کرتی ہے۔ اس لیے Section 214A کے ذریعے اس قانونی تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
نتیجتاً سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ چھ سال گزرنے کے بعد ٹیکس دہندہ کو Section 161، Section 165 یا Rule 44(4) کے تحت ریکارڈ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، اور ایسے نوٹس قانوناً غیر مؤثر اور ناقابلِ نفاذ ہیں۔
اہم قانونی اصول
Section 161 کے لیے الگ limitation مقرر نہیں۔
لیکن Section 174(3) کی وجہ سے چھ سال بعد ریکارڈ طلب کرنے والے نوٹس مؤثر نہیں رہتے۔
Section 214A کے ذریعے اس قانونی تحفظ کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اگر ریکارڈ پہلے ہی محکمہ کے پاس موجود ہو تو کارروائی پر یہ فیصلہ لاگو نہیں ہوگا۔
حوالہ: Commissioner Inland Revenue v. M/s Panther Sports & Rubber Industries (Pvt.) Ltd. — Civil Petition No. 1691-L of 2018، سپریم کورٹ آف پاکستان، فیصلہ مورخہ 21.09.2021۔