Akbar Law Associates

Akbar Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Akbar Law Associates, Accountant, Office No. 17, Rehman Plaza, Opposite HBL, Bosan Road, Multan.

Bookkeeping , Accounts Payable / Receivable, Payroll, Invoices, Accounts Reconciliation, Audit, Income Tax, Sales Tax, SECP Matters, Company & PEC Registration, Trade Mark, Accounting Software, Financial Reports, etc.

پراپرٹی رینٹل انکم ٹیکس - سیکشن 155           ゚viralシ
05/05/2026

پراپرٹی رینٹل انکم ٹیکس - سیکشن 155

゚viralシ

05/05/2026

ٹربیونل کا تاریخی فیصلہ: پولٹری فیڈ مینوفیکچررز کو ان پٹ ٹیکس میں بڑا ریلیف، SRO 1035 کی حد مقرر۔

لاہور، 5 مئی 2026 —
اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (ATIR) نے پولٹری فیڈ انڈسٹری کے حق میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ SRO 1035(I)/2017 کا اطلاق ہر مینوفیکچرر پر نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں انڈسٹری کو اربوں روپے کے ممکنہ ریلیف کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

کیس کا پس منظر
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (Federal Board of Revenue) نے 2017 میں SRO 1035(I)/2017 کے تحت پولٹری فیڈ پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی تھی۔ تاہم اس کے ساتھ ایک شرط عائد کی گئی کہ manufacturer-cum-supplier اپنی ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو آؤٹ پٹ ٹیکس کے 90 فیصد تک محدود رکھے گا۔

اس شرط کی بنیاد پر ملک بھر میں پولٹری فیڈ مینوفیکچررز کی بڑی تعداد کی ان پٹ ایڈجسٹمنٹس کو disallow کیا جا رہا تھا، کیونکہ خام مال پر 17 فیصد جبکہ تیار مال پر 10 فیصد ٹیکس لاگو تھا۔

ٹربیونل کا فیصلہ (مورخہ 26 جنوری 2026)
اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے تفصیلی فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا، SRO کا محدود اطلاق یہ SRO صرف manufacturer-cum-supplier پر لاگو ہوتا ہے، یعنی وہ ادارے جو خود مینوفیکچرنگ کے ساتھ براہِ راست سپلائی بھی کرتے ہیں۔

مینوفیکچررز کو ریلیف
وہ کمپنیاں جو صرف پیداوار کر کے ڈیلرز کے ذریعے فروخت کرتی ہیں، اس پابندی کے دائرے میں نہیں آتیں۔

ان پٹ ٹیکس کا بنیادی حق برقرار
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 7 کے تحت ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا حق ایک بنیادی قانونی حق ہے، جسے SRO کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

۔Section 8B کی وضاحت
صرف 90 فیصد ایڈجسٹمنٹ کی حد لاگو ہوگی، جبکہ باقی 10 فیصد اگلے ٹیکس پیریڈ میں carry forward ہوگا۔ مکمل disallowance غیر قانونی قرار دی گئی۔

انڈسٹری پر اثرات
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے پولٹری فیڈ انڈسٹری کو سالانہ اربوں روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ ملک بھر میں متعدد کیسز آڈٹ اور اپیلوں میں زیر التوا تھے، جو اب اس فیصلے کی روشنی میں حل ہونے کی توقع ہے۔

لاہور چیمبر سے وابستہ ایک سابق عہدیدار کے مطابق:
"محکمہ SRO 1035 کی غلط تشریح کر کے انڈسٹری پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہا تھا۔ اس فیصلے سے خالص مینوفیکچررز کو واضح ریلیف ملے گا۔"

ذرائع کے مطابق Federal Board of Revenue اس فیصلے کے خلاف Lahore High Court میں ریفرنس دائر کر سکتا ہے۔ تاہم جب تک کوئی اسٹے آرڈر جاری نہیں ہوتا، یہ فیصلہ فیلڈ فارمیشنز کے لیے binding precedent کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید یہ کہ آئندہ بجٹ 2026-27 میں SRO 1035 میں ترمیم کر کے manufacturer-cum-supplier کی تعریف مزید واضح کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سورس / ریفرنس
اپیلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو کا آرڈر مورخہ 26-01-2026
SRO 1035(I)/2017 مورخہ 16-10-2017
سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 (سیکشن 7 اور 8B)

بیٹری نے ہلا دیا ٹیکس سسٹم فیصلہ آیا… اور 𝟏.𝟐𝟓% بدل کر 𝟎.𝟐% ہوگیا!یہ کیس ایک عام ٹیکس تنازعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں ایک د...
04/05/2026

بیٹری نے ہلا دیا ٹیکس سسٹم فیصلہ آیا… اور 𝟏.𝟐𝟓% بدل کر 𝟎.𝟐% ہوگیا!

یہ کیس ایک عام ٹیکس تنازعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں ایک دلچسپ قانونی سوال چھپا ہوا تھا:
کیا بیٹریاں فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی ) میں آتی ہیں یا نہیں؟
کہانی شروع ہوتی ہے مسٹر سعید احمد سے، جو سرگودھا میں بیٹریوں کے ڈسٹریبیوٹر تھے۔ انہوں نے ٹیکس سال 2017 کے لیے اپنی آمدنی ظاہر کی، لیکن انہوں نے اپنے ٹرن اوور پر مینیمم ٹیکس ادا نہیں کیا جو قانون کے مطابق بنتا تھا۔ ٹیکس حکام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ان کا کاروبار 10 ملین روپے سے زیادہ کا تھا، اس لیے انہیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 113 کے تحت 1.25% کے حساب سے ٹیکس دینا چاہیے تھا۔ چنانچہ اس بنیاد پر ان کا اسسمنٹ آرڈر تبدیل کر دیا گیا۔
تاہم، ٹیکس دہندہ کا مؤقف مختلف تھا۔ ان کے وکیل نے بڑی مہارت سے یہ نکتہ اٹھایا کہ بیٹریاں دراصل کنزیومر گڈز ہیں، اور چونکہ وہ انہیں بطور ڈسٹریبیوٹر فروخت کرتے ہیں، اس لیے وہ فرسٹ شیڈول کے مطابق صرف 0.2% کم از کم ٹیکس کے اہل ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ بیٹریاں ایسی اشیاء ہیں جو عام صارف روزمرہ استعمال کے لیے خریدتا ہے، ان کی ایک محدود زندگی ہوتی ہے، اور یہ کسی اور چیز کی پیداوار کے لیے استعمال نہیں ہوتیں۔
دوسری جانب، محکمہ ٹیکس نے اس مؤقف کو رد کیا اور کہا کہ بیٹریاں ایف ایم سی جی میں شامل نہیں ہوتیں، اور نہ ہی ٹیکس دہندہ اپنی بات کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت دے سکا ہے۔ ان کے مطابق، پہلے دونوں فورمز نے قانون کے مطابق درست فیصلہ دیا تھا۔
جب معاملہ اپیلیٹ ٹریبونل کے سامنے آیا، تو بینچ نے نہایت باریک بینی سے قانون کا جائزہ لیا، خاص طور پر دفعہ 2(13AA) اور 2(22A) کی تعریفات کو سامنے رکھتے ہوئے۔ ٹریبونل نے یہ دیکھا کہ “کنزیومر گڈز” وہ اشیاء ہیں جو براہ راست صارف استعمال کرتا ہے، جبکہ ایف ایم سی جی وہ کنزیومر گڈز ہیں جو روزمرہ کی بنیاد پر مارکیٹ میں گردش کرتی ہیں۔
فیصلہ کن لمحہ وہ تھا جب ٹریبونل نے بیٹریوں کی نوعیت کو پرکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیٹریاں:

◀️ براہ راست صارف استعمال کرتا ہے
◀️ ان کی زندگی محدود ہوتی ہے (عام طور پر 6 ماہ سے 2 سال)
◀️ یہ کسی اور چیز کی تیاری میں استعمال نہیں ہوتیں
◀️ مارکیٹ میں ان کی طلب مسلسل اور تیز ہوتی ہے

ان تمام خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ٹریبونل اس نتیجے پر پہنچا کہ بیٹریاں واقعی فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز کے زمرے میں آتی ہیں۔ یوں، ٹیکس دہندہ نہ صرف ڈسٹریبیوٹر کی شرط پوری کرتا تھا بلکہ ایف ایم سی جی کی تعریف پر بھی پورا اترتا تھا۔
آخرکار، ٹریبونل نے ایک واضح اور دو ٹوک فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نچلے دونوں فورمز کے فیصلے قانونی طور پر درست نہیں تھے۔ انہیں کالعدم قرار دے دیا گیا، اور ٹیکس دہندہ کو 0.2% کی کم شرح کا فائدہ دے دیا گیا۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک فرد کے لیے ریلیف کا باعث بنا بلکہ ایک اہم قانونی اصول بھی واضح کر گیا: کسی چیز کی درجہ بندی صرف اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کی اصل نوعیت، استعمال، اور مارکیٹ میں رویے سے طے ہوتی ہے۔

03/05/2026

03/05/2026

02/05/2026
⚠️ ایس ای سی پی تعمیل الرٹ — یو بی او فارم-19 جمع کرانا لازمی🚨 آخری تاریخ: 30 اپریل 2026اگر آپ کی کمپنی نے ابھی تک یو بی...
25/04/2026

⚠️ ایس ای سی پی تعمیل الرٹ — یو بی او فارم-19 جمع کرانا لازمی
🚨 آخری تاریخ: 30 اپریل 2026
اگر آپ کی کمپنی نے ابھی تک یو بی او (حتمی فائدہ اٹھانے والے مالک) فارم-19 جمع نہیں کرایا، تو فوری طور پر تعمیل کی سختی سے ہدایت کی جاتی ہے۔

⚖ قانونی کارروائی کا نوٹس
01 مئی 2026 سے، تمام غیر تعمیل کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

📌 اطلاق ہوتا ہے:
تمام رجسٹرڈ کمپنیوں پر، بشمول ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ

💰 عدم تعمیل کی صورت میں جرمانے:
• ڈائریکٹر / افسر — زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے
• کمپنی — زیادہ سے زیادہ 1 کروڑ روپے

*SECP has warned — ignorance of the law is no excuse.**Your company's compliance is your responsibility — act now.**Dire...
22/04/2026

*SECP has warned — ignorance of the law is no excuse.*
*Your company's compliance is your responsibility — act now.*
*Directors are personally liable — protect yourself and your company.*
*All companies must file Form-19 immediately before the deadline to avoid penalties.*

21/04/2026

یہ کیس **STA No. 58/MB/2026 (M/s Batala Kissan Industries Pvt. Ltd. v. CIR, RTO Sahiwal)** اپیلیٹ ٹربیونل اِن لینڈ ریونیو، ملتان بینچ کا ایک اہم فیصلہ ہے جس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا پہلی اپیل کے دوران، جب ٹیکس دہندہ نے قانون کے مطابق مطلوبہ رقم جمع کرا دی ہو، محکمہ زبردستی ریکوری کر سکتا ہے یا نہیں۔ ٹربیونل کے سامنے معاملہ اس لیے آیا کیونکہ CIR(A) نے اگرچہ یہ تسلیم کیا کہ ٹیکس دہندہ نے قانون کے مطابق ادائیگی کر دی ہے اور ریکوری نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس کے باوجود صرف **7 دن کا محدود اسٹے** دے دیا، جسے ٹیکس دہندہ نے چیلنج کیا۔

حقائق کے مطابق، ٹیکس دہندہ کے خلاف ایک بڑا سیلز ٹیکس ڈیمانڈ آرڈر (Order-in-Original) پاس کیا گیا جس کے خلاف اس نے بروقت **سیکشن 45B کے تحت پہلی اپیل** دائر کر دی، جو ابھی زیر التواء تھی۔ اس دوران محکمہ نے ریکوری کے نوٹسز جاری کیے اور نہ صرف کمپنی بلکہ اس کے ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس بھی اٹیچ کر دیے۔ اہم بات یہ تھی کہ ٹیکس دہندہ پہلے ہی **50 ملین روپے بطور احتجاج (under protest)** جمع کرا چکا تھا، جو کہ متنازعہ ٹیکس کے 10% سے زیادہ تھا، اس لیے اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے قانون کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے اور ریکوری غیر قانونی ہے۔

ٹربیونل نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ قرار دیا کہ **سیکشن 48(1) کے پہلے پروویزو** کے مطابق اگر ٹیکس دہندہ اپیل دائر کر دے اور کم از کم 10% ٹیکس جمع کرا دے تو محکمہ اس دوران کوئی coercive recovery نہیں کر سکتا۔ یہ تحفظ خودکار (automatic) ہے اور اسے کسی افسر کی صوابدید (discretion) پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مزید یہ کہ CIR(A) کی جانب سے 7 دن کا محدود اسٹے دینا ایک خود متضاد اور غیر قانونی عمل تھا کیونکہ جب وہ خود تسلیم کر رہا تھا کہ ریکوری نہیں ہونی چاہیے تو اسے مکمل تحفظ دینا چاہیے تھا، نہ کہ وقتی ریلیف۔

ٹربیونل نے یہ بھی قرار دیا کہ کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس کو اٹیچ کرنا نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق، جیسے **منصفانہ ٹرائل (Article 10A)، کاروبار کی آزادی (Article 18) اور جائیداد کا تحفظ (Article 23)** کی بھی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے سپیریئر کورٹس کے متعدد فیصلوں پر بھی انحصار کیا جن میں یہ اصول طے ہو چکا ہے کہ جب تک ٹیکس کا معاملہ کم از کم ایک آزاد اپیلیٹ فورم سے نہ گزر جائے، اس وقت تک زبردستی ریکوری نہیں کی جا سکتی۔

آخر میں، ٹربیونل نے CIR(A) کا حکم **کالعدم قرار دے دیا**، تمام ریکوری کارروائیاں **معطل کر دیں**، محکمہ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر **ریکوری نوٹسز واپس لے اور بینک اکاؤنٹس ڈی اٹیچ کرے**، اور CIR(A) کو حکم دیا کہ وہ زیر التواء اپیل کو **60 دن کے اندر فیصلہ کرے**۔ اس فیصلے کا بنیادی اصول (ratio) یہ ہے کہ جب ٹیکس دہندہ 10% ٹیکس ادا کر دیتا ہے تو اسے اپیل کے دوران مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور محکمہ کسی بھی صورت میں اس تحفظ کو نظر انداز کرتے ہوئے ریکوری نہیں کر سکتا۔

ایف بی آر سرکلر اپڈیٹ: سیکشن 236C سے استثنیٰ برائے سیکشن 7F ٹیکس دہندگانفیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے سرکلر نمبر 08 برائ...
20/04/2026

ایف بی آر سرکلر اپڈیٹ: سیکشن 236C سے استثنیٰ برائے سیکشن 7F ٹیکس دہندگان

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے سرکلر نمبر 08 برائے مالی سال 2025-26 (آئی آر پالیسی) مؤرخہ 15 اپریل 2026 جاری کیا ہے، جو کہ سرکلر نمبر 7 برائے مالی سال 2025-26 مؤرخہ 31 مارچ 2026 کی جگہ لے گا۔ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ بلڈرز/ڈیولپرز جن پر سیکشن 7F کے تحت ٹیکس عائد ہوتا ہے اور ان کی کوئی دیگر قابلِ ٹیکس آمدن نہیں ہے، وہ غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر سیکشن 236C کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کر سکتے ہیں۔

اہل ٹیکس دہندگان سیکشن 159 کے تحت کمشنر کو درخواست دے سکتے ہیں، اور اگر 7 ورکنگ دنوں کے اندر کوئی کارروائی نہ کی جائے تو آئی رس (IRIS) خودکار طور پر استثنیٰ سرٹیفکیٹ جاری کر دے گا۔

ڈیجیٹل انٹیگریشن میں ٹیکس پئیرز کو جو مسائل درپیش تھے ان کو دیکھتے ہوئے ایف بی آر نے تیس مارچ کو ایک سیلز ٹیکس جنرل آرڈر...
20/04/2026

ڈیجیٹل انٹیگریشن میں ٹیکس پئیرز کو جو مسائل درپیش تھے ان کو دیکھتے ہوئے ایف بی آر نے تیس مارچ کو ایک سیلز ٹیکس جنرل آرڈر ایشو کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ جو انوائس اپلوڈ ہوگی اس میں غلطی کی صورت وہ بہتر گھنٹوں تک ایڈٹ یا ڈیلیٹ ہوسکتی ہے
۔
یہ چیز پہلے سسٹم میں موجود نہیں تھی اب یہ آپشن دستیاب کردیا گیا
۔

Address

Office No. 17, Rehman Plaza, Opposite HBL, Bosan Road
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akbar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akbar Law Associates:

Share

Category