Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants

Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants Certified Public Accountants, QuickBooks Resellers, QSP
Financial, Management & Tax Consultants

کیا Commissioner 60 دن گزرنے کے بعد Section 114(6) کی درخواست مسترد کرسکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہاگر کوئی taxpayer ...
11/07/2026

کیا Commissioner 60 دن گزرنے کے بعد Section 114(6) کی درخواست مسترد کرسکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ
اگر کوئی taxpayer Section 114(6) کے تحت return revise کرنے کے لیے Commissioner سے approval مانگتا ہے اور Commissioner 60 دن کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتا، تو کیا بعد میں وہ درخواست مسترد کرسکتا ہے؟
Appellate Tribunal Inland Revenue (Special Division Bench), Karachi نے اس اہم سوال کا جواب "نہیں" میں دیا ہے۔
کیس میں taxpayer نے 27.04.2024 کو Section 114(6) کے تحت return revise کرنے کی درخواست دی تاکہ property income کے خلاف markup/interest expense claim کیا جا سکے۔ قانون کے مطابق Commissioner کو اس درخواست پر 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا تھا، مگر مقررہ مدت کے دوران نہ approval دیا گیا اور نہ rejection۔ پہلی مرتبہ Commissioner نے 13.08.2024 کو، یعنی درخواست دائر ہونے کے تقریباً 108 دن بعد، taxpayer سے مزید documents طلب کیے، جبکہ باقاعدہ rejection order 12.09.2024 کو جاری کیا گیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ Section 114(6) کے Third Proviso کے مطابق اگر Commissioner 60 دن کے اندر تحریری طور پر approval یا rejection کا فیصلہ نہیں کرتا تو approval قانوناً (deemed approval) خود بخود حاصل ہوجاتی ہے۔ Tribunal نے واضح کیا کہ 60 دن کی مدت mandatory ہے، directory نہیں۔ ایک مرتبہ deemed approval وجود میں آجائے تو Commissioner کی بعد میں approval روکنے یا application reject کرنے کی jurisdiction ختم ہوجاتی ہے۔
Tribunal نے مزید قرار دیا کہ 60 دن گزرنے کے بعد Commissioner "functus officio" بن جاتا ہے، یعنی اس معاملے میں مزید کوئی فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار نہیں رہتا۔ اس لیے 12.09.2024 کا rejection order without lawful authority قرار دے کر annul کردیا گیا۔ Tribunal نے یہ بھی واضح کیا کہ Third Proviso میں استعمال ہونے والا لفظ "OR" disjunctive ہے، اس لیے Commissioner بعد میں کسی دوسری proviso کا سہارا لے کر deemed approval کے قانونی اثر کو ختم نہیں کرسکتا۔
نتیجتاً ATIR نے Commissioner کا rejection order کالعدم قرار دیتے ہوئے taxpayer کی appeal منظور کرلی۔
Case Reference: Muhammad Dawood Jan Muhammad v. Commissioner Inland Revenue, Zone-V, MTO Karachi — ITA No. 2039/KB/2024, Tax Year 2023, Order dated 09.06.2026, 2026 SLD 2928, ATIR (Special Division Bench), Karachi.

Someone share the copy of order at03333043020 plz
11/07/2026

Someone share the copy of order at
03333043020 plz

پرانے ظاہر شدہ اثاثوں پر دوبارہ Section 111 کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔Atir multan ۔Section 122(5A) کے تحت محکمہ کو پہلے غلطی...
10/07/2026

پرانے ظاہر شدہ اثاثوں پر دوبارہ Section 111 کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
Atir multan
۔Section 122(5A) کے تحت محکمہ کو پہلے غلطی ثابت کرنا ہوگی، صرف تحقیقات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

۔Appellate Tribunal Inland Revenue (ATIR)، ملتان بینچ نے ایک اہم ٹیکس فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جو اثاثے ٹیکس دہندہ کی سابقہ Wealth Statements اور Wealth Reconciliation میں پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہوں، انہیں کئی سال بعد دوبارہ Unexplained Assets قرار دے کر Section 111(1)(b) کے تحت ٹیکس نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ
Chaudhry Raheel Akram
Vs
Commissioner Inland Revenue, RTO Sahiwal
کے مقدمے میں جاری کیا گیا۔

۔Appeal No: ITA No. 92/MB/2026
۔Tax Year: 2016
۔Decision Date: 22-06-2026

مقدمے کا پس منظر
ٹیکس دہندہ کی ٹیکس سال 2016 کی ریٹرن Section 120(1) کے تحت Deemed Assessment Order تصور ہوئی۔

بعد ازاں Additional Commissioner Inland۔ Revenue، RTO Sahiwal نے Section 122(5A) کے تحت کارروائی شروع کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس دہندہ کی Wealth Statement اور متعلقہ ریکارڈ مکمل نہیں تھا۔

محکمہ نے ابتدائی طور پر:

۔Rs.121,819,932
کی Net Wealth کو سوالیہ بنایا، تاہم وضاحت کے بعد معاملہ:
۔Rs.3,500,000
کی Addition تک محدود رہا۔

متنازعہ اثاثے
محکمہ نے درج ذیل اثاثوں پر اعتراض کیا:
۔Equipment — Rs.200,000
۔Animals — Rs.300,000
۔Jewellery — Rs.3,000,000

کل Addition: Rs.3,500,000

ٹیکس دہندہ کا مؤقف
ٹیکس دہندہ نے ATIR کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ:

* وہ 2009 سے ٹیکس ریٹرنز فائل کر رہا ہے۔
*2009 سے Wealth Reconciliation ریکارڈ پر موجود ہے۔
*ٹیکس سال 2014 اور 2015 کی Wealth Statements میں اثاثے پہلے ہی ظاہر تھے۔
* متنازعہ اثاثے 2016 میں نئے پیدا نہیں ہوئے بلکہ سابقہ سالوں سے Brought Forward تھے۔

۔ATIR ملتان بینچ نے قرار دیا کہ:
سابقہ Wealth Statements اور Wealth Reconciliation سے اثاثوں کی موجودگی واضح تھی۔

محکمہ نے دستیاب ریکارڈ کو مناسب اہمیت نہیں دی۔
۔ Brought Forward Assets کو صرف بعد کے سال میں ظاہر ہونے کی بنیاد پر Section 111 کے تحت ٹیکس نہیں کیا جا سکتا۔

اہم قانونی اصول
۔"Assets are creature of income"
یعنی اثاثے آمدنی یا کسی قانونی ذریعے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
اگر آمدنی:

ظاہر شدہ ہو،
ٹیکس شدہ ہو،
یا
قانون کے تحت Exempt ہو،
تو اس سے بننے والے اثاثوں کو دوبارہ غیر وضاحت شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

۔Section 122(5A) پر ATIR کی وضاحت

ٹربیونل نے قرار دیا کہ Section 122(5A):
تحقیقات شروع کرنے کا عام اختیار نہیں ہے۔
ریکارڈ طلب کرکے غلطی تلاش کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔
بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ

۔ Assessment Order Erroneous ہو۔
وہ Revenue کے مفاد کے خلاف بھی ہو۔
یہ دونوں شرائط بیک وقت ثابت ہونا لازم ہیں۔

فیصلہ
۔ATIR ملتان بینچ نے:
۔Rs.3,500,000 کی Addition ختم کر دی۔
محکمہ ان لینڈ ریونیو اور CIR(A) کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔

قانونی اہمیت
یہ فیصلہ ٹیکس دہندگان کے لیے اہم رہنمائی رکھتا ہے کہ:

سابقہ سالوں میں ظاہر شدہ اور ریکارڈ پر موجود اثاثوں کو بعد کے سال میں Section 111 کے تحت دوبارہ ٹیکس نہیں کیا جا سکتا، جبکہ Section 122(5A) ایک محدود قانونی اختیار ہے، کھلی تحقیقات کا اختیار نہیں۔

سیکشن 236H کو Double Taxation قرار دینے کی کوشش ناکام — AJK High Court نے اہم فیصلہ سنا دیاکیا retailers کو سامان فروخت ...
10/07/2026

سیکشن 236H کو Double Taxation قرار دینے کی کوشش ناکام — AJK High Court نے اہم فیصلہ سنا دیا
کیا retailers کو سامان فروخت کرتے وقت Section 236H کے تحت advance tax collection اس وجہ سے double taxation بن جاتی ہے کہ supply chain میں پہلے ہی Sections 153 اور 236G کے تحت tax mechanisms موجود ہیں؟ High Court of Azad Jammu & Kashmir کے سامنے distributors اور wholesalers نے یہی مؤقف اختیار کرتے ہوئے Section 236H کی آئینی حیثیت کو challenge کیا اور استدعا کی کہ اسے ultra vires، unconstitutional اور void ab initio قرار دیا جائے۔ Petitioners کا کہنا تھا کہ manufacturers کی جانب سے supply کے مختلف مراحل پر پہلے ہی tax deduction/collection موجود ہے، لہٰذا Section 236H ایک ہی transaction پر اضافی اور repeated taxation کے مترادف ہے۔
High Court نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ Section 236H کے تحت tax retailer سے collect کیا جاتا ہے، جبکہ distributor یا wholesaler محض collection/withholding agent کا کردار ادا کرتا ہے؛ اس لیے اس levy کا اصل burden distributor یا wholesaler پر نہیں بلکہ retailer پر ہے۔ عدالت نے یہ دلیل بھی قبول نہیں کی کہ Sections 153، 236G اور 236H ایک ہی نوعیت کی repeated provisions ہیں۔ Court کے مطابق تینوں کا دائرہ الگ ہے: Section 153 payments for goods and services سے متعلق ہے، Section 236G sales to distributors, dealers and wholesalers پر apply ہوتا ہے، جبکہ Section 236H sales to retailers کو deal کرتا ہے۔ یوں مختلف stages اور مختلف persons سے متعلق tax collection mechanisms کو محض اس بنیاد پر double taxation نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ایک ہی supply chain میں موجود ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ tax عائد کرنا اور اس کی collection کا mechanism طے کرنا legislature کا اختیار ہے، جبکہ withholding اور advance tax کی collection کئی دہائیوں سے Inland Revenue Department کے علاوہ دیگر persons کے ذریعے بھی کی جاتی رہی ہے۔ Judgment میں petitioners کے dual/double taxation کے مؤقف کو واضح طور پر “seemingly misconceived” قرار دے کر رد کردیا گیا۔ Court نے یہ بھی کہا کہ Section 236H کے تحت tax retailer کی income سے متعلق ہے اور اسے consumer پر منتقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اس scheme کا مقصد economy کی documentation اور tax base کو broaden کرنا بھی ہے۔
نتیجتاً AJK High Court نے Section 236H کو unconstitutional قرار دینے سے انکار کردیا، petitioners کا double taxation والا اعتراض مسترد کردیا اور writ petition بے بنیاد قرار دے کر dismiss کردی۔ اس فیصلے کا اہم قانونی پیغام یہ ہے کہ Section 236H کے تحت distributor/wholesaler پر tax کا اصل burden نہیں بلکہ tax collection کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؛ اصل advance tax retailer سے collect ہوتا ہے، اور Court کے مطابق Sections 153، 236G اور 236H مختلف transactions اور مختلف stages کو cover کرتے ہیں۔
Case Reference: Imran Ashraf & others v. Government of Azad Jammu & Kashmir & others — Writ Petition No. 2338/2025, decided on 10.11.2025, High Court of Azad Jammu & Kashmir.

مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے دوران جائیداد خریدنے والا بھی عدالتی فیصلے کا پابند ہوگا — لاہور ہائیکورٹلاہور ہائیکورٹ، ملتان ...
10/07/2026

مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے دوران جائیداد خریدنے والا بھی عدالتی فیصلے کا پابند ہوگا — لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ، ملتان بینچ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی جائیداد کے متعلق عدالت میں مقدمہ پہلے سے زیرِ سماعت ہو تو اس دوران اس جائیداد کی خرید و فروخت خریدار کو مقدمے کے نتائج سے آزاد نہیں کرتی۔ ایسا خریدار Doctrine of Lis Pendens (اصولِ مقدمہ زیرِ التواء) کے تحت اسی حیثیت میں شمار ہوتا ہے جس حیثیت میں اس کا فروخت کنندہ (Vendor) تھا، لہٰذا مقدمے کا حتمی فیصلہ اس پر بھی اسی طرح نافذ ہوگا۔

اس مقدمہ میں مدعیان نے 1999 میں مستقل اور لازمی حکمِ امتناعی (Permanent and Mandatory Injunction) اور قبضہ کی واپسی کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ مدعا علیہان عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوئی اور 5 اپریل 2010 کو مدعیان کے حق میں یکطرفہ ڈگری جاری ہوگئی۔ بعد ازاں ایک خاتون نے، جنہوں نے 2004 میں یعنی مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے دوران متنازع جائیداد کا ایک حصہ خریدا تھا، سیکشن 12(2) ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت درخواست دائر کی کہ انہیں مقدمہ میں فریق نہیں بنایا گیا، اس لیے ڈگری دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی ہے اور ان پر نافذ نہیں ہوتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ خاتون نے جائیداد اس وقت خریدی جب مقدمہ پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت تھا اور مزید یہ کہ عدالت کی جانب سے حکمِ امتناعی بھی جاری ہو چکا تھا۔ اس لیے سیکشن 52 ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ، 1882 کے تحت ایسی منتقلی Lis Pendens کے اصول کی زد میں آتی ہے۔ قانون کے مطابق زیرِ سماعت جائیداد کی منتقلی سے مقدمہ یا فریقین کے حقوق متاثر نہیں ہوتے، بلکہ خریدار وہی حقوق حاصل کرتا ہے جو فروخت کنندہ کے تھے اور وہ مقدمے کے نتیجے کا پابند ہوتا ہے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ عدالت کے جاری کردہ حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی خرید و فروخت کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ایسا خریدار خود کو بونا فائیڈ پرچیزر (Bona Fide Purchaser) بھی قرار نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ایسے حقوق حاصل نہیں کر سکتا جو فروخت کنندہ کے پاس خود موجود نہ ہوں۔

ہائی کورٹ نے یہ قانونی اصول بھی دہرایا کہ سیکشن 12(2) سی پی سی صرف اس صورت میں قابلِ اطلاق ہوتی ہے جب عدالت کے ساتھ دھوکہ، فراڈ یا غلط بیانی کی گئی ہو۔ اگر مبینہ فراڈ صرف فریقین کے درمیان ہو اور عدالت کو گمراہ نہ کیا گیا ہو تو اس بنیاد پر اس دفعہ کے تحت فیصلہ کالعدم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ کے دوران جائیداد خریدنے والی خاتون مقدمہ کی ضروری فریق (Necessary Party) نہیں تھیں، کیونکہ انہوں نے جائیداد مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے دوران خریدی تھی۔ لہٰذا انہیں صرف اس بنیاد پر یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ بعد میں سیکشن 12(2) سی پی سی کے ذریعے پہلے سے جاری شدہ ڈگری کو منسوخ کرا سکیں۔

ان تمام قانونی وجوہات کی بنا پر لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سول جج کا اصل فیصلہ بحال کر دیا، جس میں سیکشن 12(2) سی پی سی کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔

📍قانونی اصول (Legal Principle):

اگر کوئی شخص ایسی جائیداد خریدتا ہے جس کے متعلق پہلے سے عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہو، تو وہ مقدمہ کے حتمی فیصلے کا پابند ہوگا۔ وہ بعد میں یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ چونکہ اسے مقدمہ میں فریق نہیں بنایا گیا، اس لیے عدالتی فیصلہ اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ عدالت کے حکمِ امتناعی کی خلاف ورزی میں کی گئی خرید و فروخت قانوناً مؤثر تحفظ حاصل نہیں کرتی۔

10/07/2026
گزشتہ دس دنوں سے سیلز ٹیکس بائیو میٹرک سسٹم عملاً غیر فعال ہے، جس کے باعث ہزاروں ٹیکس دہندگان شدید مشکلات، کاروباری رکاو...
10/07/2026

گزشتہ دس دنوں سے سیلز ٹیکس بائیو میٹرک سسٹم عملاً غیر فعال ہے، جس کے باعث ہزاروں ٹیکس دہندگان شدید مشکلات، کاروباری رکاوٹوں اور مالی نقصان کا شکار ہیں۔

سب سے زیادہ متاثر فاٹا/پاٹا کے نئے ٹیکس دہندگان ہیں، جنہیں ٹیکس نیٹ میں تو شامل کر دیا گیا، مگر انہیں ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد نظام فراہم نہیں کیا جا سکا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹیکس کی شرح، جرمانے اور قانونی تقاضے تو انتہائی سخت ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کے لیے درکار سرکاری نظام بار بار ناکام ہو جاتا ہے۔

مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ٹیکس سال 2026 کا انکم ٹیکس ریٹرن تاحال اوپن نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے ٹیکس دہندگان ٹیکس سال 2025 کی بنیاد پر ہی فائلر بن رہے ہیں اور ATL Surcharge کی مد میں تقریباً 25,000 روپے اضافی ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

خدارا! ٹیکس سال 2026 کا ریٹرن فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان بروقت اپنی ریٹرن فائل کر سکیں، ٹیکس سال 2025 کی تاخیر سے فائلنگ سے بچ سکیں اور ATL Surcharge جیسے اضافی مالی بوجھ سے نجات حاصل کر سکیں۔

جب تک ٹیکس سال 2026 کا ریٹرن فعال نہیں کیا جاتا، بروقت کمپلائنس کرنے کے خواہشمند ٹیکس دہندگان بلاوجہ اضافی سرچارج اور مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سے مطالبہ ہے کہ:

سیلز ٹیکس بائیو میٹرک سسٹم فوری طور پر مکمل فعال کیا جائے۔

ٹیکس سال 2026 کا ریٹرن بلا تاخیر اوپن کیا جائے۔

جب تک نظام مکمل طور پر فعال نہ ہو، متاثرہ ٹیکس دہندگان کو مناسب ریلیف دیا جائے۔

منیب احمد، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
صدر، نوشہرہ ٹیکس بار ایسوسی ایشن

10/07/2026

# ⚖️ فاٹا / پاٹا کے ٹیکس دہندگان کے لیے پہلی بار انکم ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ فائل کرتے وقت اہم پیشہ ورانہ نکات

پہلی مرتبہ انکم ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ فائل کرنا آپ کے مستقبل کے ٹیکس پروفائل کی بنیاد ہے۔ فاٹا/پاٹا کے بہت سے افراد ٹیکس سے مستثنیٰ نظام سے باقاعدہ ٹیکس نظام میں داخل ہو رہے ہیں، اس لیے پہلی ویلتھ اسٹیٹمنٹ نہایت احتیاط، منصوبہ بندی اور درست معلومات کے ساتھ تیار کی جانی چاہیے۔

# # ✅ 1. اوپننگ ویلتھ (Opening Wealth) سب سے اہم مرحلہ ہے

پہلی ویلتھ اسٹیٹمنٹ آئندہ تمام ٹیکس سالوں کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر ابتدا درست اور مکمل ہو تو مستقبل میں ٹیکس معاملات نسبتاً آسان رہتے ہیں۔

# # ✅ 2. گزشتہ آمدن، بچت اور ذاتی اخراجات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں

ٹیکس سے مستثنیٰ دور میں حاصل ہونے والی اپنی گزشتہ آمدن، کاروباری منافع، زرعی آمدن، تنخواہ، تحائف، وراثت اور دیگر جائز ذرائع سے حاصل شدہ دولت کا جائزہ لیں۔

اسی طرح اپنے گزشتہ ذاتی اخراجات کا بھی حقیقت پسندانہ اندازہ لگائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آپ کے پاس کتنی **حقیقی بچت (Past Savings)** موجود تھی۔ یہی جائز بچت آپ کی **اوپننگ کیش بیلنس (Cash in Hand)** اور اوپننگ ویلتھ کی بنیاد بن سکتی ہے۔

**یاد رکھیں:** صرف اتنی ہی بچت ظاہر کریں جس کی ضرورت پڑنے پر آپ معقول وضاحت اور ثبوت پیش کر سکیں۔

# # ✅ 3. تمام جائز اثاثے ضرور ظاہر کریں

زمین، مکان، پلاٹ، دکان، گاڑی، زیورات، کاروباری سرمایہ، نقد رقم، بینک بیلنس، سرمایہ کاری، شیئرز اور دیگر تمام اثاثے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں شامل کریں۔

# # ✅ 4. تمام واجبات (Liabilities) بھی ظاہر کریں

اگر آپ پر بینک، مالیاتی ادارے یا کسی فرد کا حقیقی قرض موجود ہے تو اسے بھی درست طور پر ظاہر کریں تاکہ نیٹ ویلتھ درست بن سکے۔

# # ✅ 5. جائیدادیں اصل خریداری لاگت (Historical Cost) پر ظاہر کریں

غیر منقولہ جائیدادیں عمومی طور پر ان کی اصل خریداری لاگت (Cost of Acquisition) پر ظاہر کی جاتی ہیں، نہ کہ موجودہ مارکیٹ ویلیو پر۔

# # ✅ 6. ہر اثاثے کا ذریعہ (Source of Investment) واضح رکھیں

ہر بڑے اثاثے کے لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس جائز ذریعہ سے حاصل کیا گیا، مثلاً کاروباری آمدن، ملازمت، زرعی آمدن، تحفہ، وراثت یا سابقہ بچت۔

# # ✅ 7. بینکنگ چینل کو ترجیح دیں

آئندہ بڑی سرمایہ کاری اور مالی لین دین حتیٰ الامکان بینکنگ چینل کے ذریعے کریں تاکہ مناسب ریکارڈ موجود رہے۔

# # ✅ 8. کاروباری سرمایہ حقیقت کے مطابق ظاہر کریں

اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو کاروبار میں لگایا گیا اصل سرمایہ (Capital Introduced) ضرور ظاہر کریں تاکہ مستقبل میں سرمایہ کاری اور منافع کی وضاحت آسان ہو۔

# # ✅ 9. خاندانی اثاثوں کی ملکیت واضح رکھیں

جو اثاثہ جس شخص کی قانونی ملکیت ہے، وہ اسی شخص کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر کریں۔ خاندان کے افراد کے اثاثے بلاوجہ ایک دوسرے کی ویلتھ میں شامل نہ کریں۔

# # ✅ 10. آمدن، اخراجات اور طرزِ زندگی میں مطابقت رکھیں

آپ کی ظاہر کردہ آمدن، اثاثے اور اخراجات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہوں۔ غیر معمولی فرق مستقبل میں FBR کی جانب سے سوالات پیدا کر سکتا ہے۔

# # ✅ 11. اثاثے چھپانے یا غلط معلومات دینے سے گریز کریں

صرف وہی معلومات درج کریں جو درست، مکمل اور قابلِ دفاع ہوں۔ نہ جائز اثاثے چھپائیں اور نہ ہی ایسی معلومات درج کریں جنہیں بعد میں ثابت نہ کیا جا سکے۔

# # ✅ 12. آئندہ سرمایہ کاری کو بھی مدنظر رکھیں

پہلی ویلتھ اسٹیٹمنٹ اس انداز میں تیار کریں کہ آئندہ جائیداد، گاڑی، کاروبار یا دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع باآسانی واضح کیے جا سکیں۔

# # ✅ 13. ہر اثاثے کا ثبوت (Evidence Trail) ذہن میں رکھیں

اوپننگ ویلتھ میں صرف وہی اثاثے اور رقوم شامل کریں جن کی قانونی وضاحت اور مناسب دستاویزی ثبوت مستقبل میں پیش کیے جا سکیں۔

# # ✅ 14. کاروباری اور ذاتی مالی معاملات الگ رکھیں

ذاتی اخراجات، کاروباری سرمایہ اور کاروباری اثاثوں کا الگ ریکارڈ رکھیں۔ اس سے اکاؤنٹنگ اور ٹیکس کمپلائنس بہتر رہتی ہے۔

# # ✅ 15. تمام اہم دستاویزات محفوظ رکھیں

رجسٹریاں، فروخت و خرید کے معاہدے، بینک اسٹیٹمنٹس، کاروباری ریکارڈ، انوائسز، تحائف، وراثت اور دیگر متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ان سے رجوع کیا جا سکے۔

# # ✅ 16. کیش لین دین محدود رکھیں

جہاں ممکن ہو بڑی ادائیگیاں اور وصولیاں بینک کے ذریعے کریں۔ بینک ریکارڈ مستقبل میں بہترین ثبوت ہوتا ہے۔

# # ✅ 17. پہلی فائلنگ میں جلد بازی نہ کریں

پہلی ویلتھ اسٹیٹمنٹ مستقبل کے تمام ٹیکس سالوں کی بنیاد بنتی ہے۔ ایک مرتبہ غلط بنیاد رکھ دی جائے تو بعد میں اسے درست کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

# # ✅ 18. قانون کے مطابق ٹیکس پلاننگ کریں

ٹیکس پلاننگ ہر ٹیکس دہندہ کا قانونی حق ہے، جبکہ ٹیکس چوری قانوناً جرم ہے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ٹیکس ریٹرن اس انداز میں تیار کریں کہ مستقبل میں غیر ضروری نوٹسز، آڈٹ اور ٹیکس تنازعات سے بچا جا سکے۔

# # ✅ 19. مستند ٹیکس پروفیشنل سے مشورہ کریں

پہلی بار ریٹرن فائل کرتے وقت کسی مستند ٹیکس کنسلٹنٹ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا ٹیکس وکیل سے مشورہ لینا مستقبل کے مہنگے ٹیکس تنازعات سے بچا سکتا ہے۔

# # 📌 سنہری اصول (Golden Rule)

**پہلی ویلتھ اسٹیٹمنٹ آپ کی مالی شناخت (Financial Identity) ہے۔ نہ کوئی جائز اثاثہ چھوڑیں اور نہ ہی ایسا اثاثہ یا سرمایہ ظاہر کریں جس کی قانونی وضاحت یا مناسب ثبوت مستقبل میں پیش نہ کیا جا سکے۔ ایک درست، مکمل اور قابلِ دفاع ویلتھ اسٹیٹمنٹ ہی مضبوط اور محفوظ ٹیکس پروفائل کی بنیاد ہے۔**

---

# # # **تحریر:**

**منیب احمد، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ**
**CA | CPA | LL.B | M.Sc. (Economics)**
**Muneeb Ahmad & Co. – Law Associates**
**Financial Management & Tax Consultants**
**صدر، نوشہرہ ٹیکس بار ایسوسی ایشن**
**سابق نائب صدر، نوشہرہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری**

📞 **0333-3043020**

7 SEVEN "ہوائی فائرنگ" کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس ڈیمانڈ — مگرATIR میں ریکارڈ سامنے آیا تو کروڑوں روپے کی غلطیاں ...
09/07/2026

7 SEVEN "ہوائی فائرنگ"
کروڑ 36 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس ڈیمانڈ — مگر
ATIR میں ریکارڈ سامنے آیا تو کروڑوں روپے کی غلطیاں نکل آئیں!
کراچی کے ایک اہم حالیہ فیصلے میں Appellate Tribunal Inland Revenue, Special Division Bench نے Section 161(1A) کے تحت بنائی گئی withholding tax demand کا جائزہ لیا۔ محکمہ نے M/s Trax Online (Pvt.) Limited کے خلاف مجموعی طور پر Rs. 73,667,710 کی demand قائم کی تھی، جس میں principal tax default، default surcharge اور penalty شامل تھے۔ معاملہ audited financial statements میں موجود Rs. 75.491 million کی “Withholding Tax Payable” entry سے شروع ہوا، جبکہ بعد میں officer نے IRIS withholding statements اور CPR deposits کا comparison کرتے ہوئے بھاری demand بنا دی۔
Tribunal کے سامنے سب سے بڑی غلطی Section 149 کے تحت Salary Withholding Tax میں سامنے آئی۔ Department نے IRIS پر Rs. 105.589 million کو total salary tax deducted سمجھ لیا اور اس بنیاد پر Rs. 52.795 million کا default بنا دیا، حالانکہ taxpayer کا اصل salary WHT Rs. 52.795 million تھا اور پوری رقم 13 CPRs کے ذریعے deposit ہوچکی تھی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ یہی رقم quarterly withholding statements اور annual salary statement دونوں میں موجود تھی اور IRIS نے اسے double count کردیا۔ Tribunal نے اس Rs. 52.795 million کی پوری demand کو fictitious قرار دے کر delete کردیا۔
دوسری بڑی غلطی Section 153(1)(a) کے تحت سامنے آئی، جہاں بعض transactions میں IRIS system نے applicable withholding rate کے بجائے پوری transaction amount کو ہی “tax deductible” figure کے طور پر capture کرلیا۔ Tribunal نے اسے IRIS system technical error قرار دیتے ہوئے transaction-wise correction کی، جس کے بعد اس head کی demand صرف Rs. 122,511 رہ گئی اور Rs. 2,129,761 کی excess demand delete کردی گئی۔ دوسری طرف Section 155 کے تحت Rent WHT کی Rs. 764,250 demand برقرار رہی۔
نتیجتاً Rs. 55,811,188 کی principal demand کم ہوکر صرف Rs. 886,761 رہ گئی—یعنی Rs. 54,924,427 کی excess principal demand ختم ہوگئی۔ Section 205 کا default surcharge corrected principal demand پر متعلقہ transactions کی actual dates of default سے دوبارہ calculate کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ Rs. 5,581,119 کی penalty مکمل طور پر delete کردی گئی۔ یوں مجموعی Rs. 73,667,710 کی demand اپنی اصل شکل میں برقرار نہ رہ سکی۔
Case Reference: M/s Trax Online (Pvt.) Limited v. DCIR, Zone-IV, CTO Karachi — ITA No. 778/KB/2026, Tax Year 2024, Order dated 24.06.2026, 2026 SLD 2914, ATIR Special Division Bench Karachi.

08/07/2026

بہت سے معزز اراکین IRIS پورٹل پر ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن کی دستیابی کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق، چھوٹے تاجروں کے لیے مجوزہ 'فکسڈ ٹیکس اسکیم' کی وجہ سے یہ ریٹرن بظاہر التوا کا شکار ہے اور توقع ہے کہ اسکیم کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اسے اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

ٹیکس کے شعبے سے وابستہ افراد اس نئے ریٹرن کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم، چونکہ جون 2026 کا سیلز ٹیکس ریٹرن فی الحال تیاری کے مراحل میں ہے اور اسے 18 جولائی 2026 کو جمع کرایا جانا ہے، اس لیے اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ٹیکس سال 2026 کا انکم ٹیکس ریٹرن اس تاریخ سے پہلے دستیاب ہو سکے گا۔

Address

Office # 10, 1st Floor, Al-Jamil City Center, Nowshera Cantt, Kpk
Nowshera
24100

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 08:00 - 15:00
Saturday 09:00 - 01:00

Telephone

+923333043020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muneeb Ahmad & Co. Financial , Management and Tax Consultants:

Shortcuts

Share