Asif Tax Law Associates & Services

Asif Tax Law Associates & Services To help people and provide them valued sevices and legal services with respect to Taxation issues.

رک جائیں، رک جائیں، رک جائیں...!!!جو لوگ اس مہینے پراپرٹی خریدنے یا بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ کم از کم ایک ماہ تک انت...
16/02/2025

رک جائیں، رک جائیں، رک جائیں...!!!

جو لوگ اس مہینے پراپرٹی خریدنے یا بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ کم از کم ایک ماہ تک انتظار کریں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم نے ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو پراپرٹی سیکٹر سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی وصولیوں میں اچانک کمی کے باعث ٹیکس کی شرحوں میں کمی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

فائلرز کے لیے موجودہ شرحیں:
236C: 3%
236K: 3.5%

فائلرز کے لیے مجوزہ نئی شرحیں:
236C: 2%
236K: 0.5%

اس کے علاوہ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ 7E سرٹیفکیٹ کو ختم کیا جائے اور پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو کم کیا جائے۔

لہٰذا، رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی تبدیلیوں سے آگاہ رہیں۔

15/02/2025
وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی فلاحی اقدامات، ہر شہری کے لیے ترقی اور خوشحالی کی ضمانت! اگر آپ بھی ان مواقع سے فائدہ اٹھان...
12/02/2025

وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی فلاحی اقدامات، ہر شہری کے لیے ترقی اور خوشحالی کی ضمانت! اگر آپ بھی ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو سوشیو اکنامک رجسٹری سروے میں اپنی رجسٹریشن لازمی کروائیں

مینارٹی کارڈ
mcard.punjab.gov.pk
دھی رانی پروگرام
cmp.punjab.gov.pk
مریم کی دستک
dastak.punjab.gov.pk
آسان کاروبار کارڈ
akc.punjab.gov.pk
فری سولر پینل سکیم
cmsolarscheme.punjab.gov.pk
زرعی ٹیوب ویل سولرائزیشن
cmstp.punjab.gov.pk
سکل ڈویلپمنٹ پروگرام
portal.tevta.gop.pk/admission.aspx
گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن
certifications.pitb.gov.pk
اپنی چھت اپنا گھر پروگرام
acag.punjab.gov.pk
گرین ٹریکٹر پروگرام
agripunjab.gov.pk
ایگریکلچر انٹرنشپ پروگرام
agripunjab.gov.pk/jobs
پی ایس ای آر
pser.punjab.gov.pk
ہونہار اسکالرشپ
honhaarscholarship.punjabhec.gov.pk/
آسان کاروبار فنانس
akf.punjab.gov.pk

ابھی رجسٹریشن کروائیں اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

گرین لینڈ کی شارک مچھلی کا گوشت انتہائی زہریلا ہوتا ہے. یہی زہریلا گوشت آئس لینڈ کا روایتی ہاکارل کھانا ہے. اسے وہ پہلے ...
10/02/2025

گرین لینڈ کی شارک مچھلی کا گوشت انتہائی زہریلا ہوتا ہے. یہی زہریلا گوشت آئس لینڈ کا روایتی ہاکارل کھانا ہے. اسے وہ پہلے گڑھوں میں دفن کر کے گلاتے سڑاتے ہیں. کئی ہفتوں بعد نکال کر پھر سوکھنے کیلئے رک لیتے ہیں. اور سوکھنے پر اسے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پیش کرتے ہیں.

اس مچھلی کا گوشت اگر مخصوص طریقہ کار پر تیار نہ ہو تو کھانے والا کھا کر مرجائے. آئس لینڈ والے کہتے ہیں کہ جس گڑھے میں اسے دفن کیا جاتا ہے, جس کے اوپر وزن کیلئے بھاری پتھر رکھے ہوتے ہیں. آپ اس عمل میں سے صرف وہ پتھر بھی ہٹا دیں تو مچھلی زہریلی رے جاتی ہے. یہ خوراک صدیوں کی روایت ہے. وائیکنگ لوگ بھی یہ استعمال کرتے تھے.

ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنے بل میں جب گندم کا دانہ لے کر جاتی ہے تو اسے دو ٹکڑے کر دیتی ہے. کیونکہ بل کی نمی میں یہ پودا بن سکتا ہے. لیکن دھنیا کے بیج کو چار ٹکڑے کرتی ہے کیونکہ دھنیا دو ٹکڑوں میں بھی اُگ سکتا ہے. اسے یہ علم قدرت نے دے کر بیجھا لیکن انسان نے اپنا سارا علم تجربات کر کے سیکھا ہے.

ہاکارل کی تاریخ ہمیں معلوم نہیں. لیکن اس زہریلے گوشت کو قابل استعمال بنانے کے تجربات میں پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کی جان گئی ہوگی. تب ہی درجہ بدرجہ لوگوں نے اسکا استعمال سیکھا ہوگا. اس لئے آج بھی دُنیا بھر میں تجربہ علم کے ساتھ رکھا جاتا ہے. تجربہ کی بہت عزت ہے تجربہ کرنے والوں نے بہت قربانیاں دی ہوتی ہیں. اپنے آس پاس کے تجربہ کار لوگوں کی عزت کرنا سیکھیں. علم آپ پر آسان ہو جائے گا.

ریاض علی خٹک

شادیوں کا ورلڈ ریکارڈ:38 سالہ خاتون کی 55 شادیاں، گنیز بک میں درجعالمی ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ مگر یہ ریکارڈ شای...
07/02/2025

شادیوں کا ورلڈ ریکارڈ:
38 سالہ خاتون کی 55 شادیاں، گنیز بک میں درج

عالمی ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ مگر یہ ریکارڈ شاید ہی کوئی توڑ سکے۔شمال مغربی افریقہ کے مسلم ملک موریطانیہ کی ایک خاتون نے شادیوں کی نصف سنچری مکمل کر کے عالمی ریکارڈ قائم فرما لیا ہے۔ ”سلم“ نامی خاتون نے صرف 35 برس میں شادیوں کی نصف سنچریاں مکمل کیں، جس پر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے والی خاتون کے طور پر درج کرلیا گیا ہے۔ 50 شادیوں کے بعد بھی سلم کا کیریئر ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ مزید 5 بار دلہن بنیں۔ اب 38 سال میں ان کے شادیوں کا "اسکور" 55 تک پہنچ چکا ہے۔
سلم کی سب سے طویل شادی 15 برس تک چلی، جبکہ بعض شادیاں 2 دن میں ہی انجام کو پہنچ گئیں۔ سلم کو اپنے ازدواجی کیریئر کے تمام شوہروں کے نام یاد ہیں اور وہ ان شادیوں کی ناکامی کا بنیادی سبب اپنی حد سے زیادہ غیرت کو قرار دیتی ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این عربی کے مطابق موریطانیہ میں ایک ایسی خاتون منظر عام پر آئی ہے، جسے دنیا میں سب سے زیادہ شادیاں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
مقامی ٹی وی چینل ”الساحل“ کو انٹرویو دیتے ہوئے ”سلم“ نامی 38 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی شادی شدہ زندگی کا آغاز 12 برس کی عمر میں ہی ہو گیا تھا اور ان کے اس ازدواجی سفر میں مختلف قسم کے مرد شریک ہوتے رہے۔ خاتون کے مطابق ان کی طویل ترین شادی 15 سال تک چلی، جب کہ بعض شادیاں 3 ماہ، بعض 2 ہفتے اور بعض تو 2 دن میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ سلم خاتون کے مطابق، ان تمام شادیوں کی ناکامی کا بنیادی سبب ان کی حد سے زیادہ غیرت ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ میں معمولی بات کو بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اس لئے میری غصیلی طبیعت کو زیادہ تر شوہر برداشت نہ کر سکے، جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میری شادیوں کی ناکامی میں شوہروں کے کردار کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سلم کے بقول شوہروں کے حسد اور ان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ مجھے علیحدگی پر مجبور کردیتا تھا، تاہم 55 میں سے صرف 3 شوہر ایسے تھے، جن کے ساتھ رہ کر سلم خاتون نے خود کو محفوظ تصور کیا۔
سلم کا کہنا ہے کہ ازدواجی سفر میں شریک ہونے والے تمام شوہروں کے نام انہیں اچھی طرح یاد ہیں۔ دوران انٹرویو انہوں نے بعض شوہروں کے نام بھی لئے۔ تاہم بعض شوہروں کے نام انہوں نے اس لئے نہیں لئے کہ ان کے ساتھ انتہائی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سلم نے شادیوں کی نصف سنچری مکمل کر کے امریکی خاتون لِنڈا وولف (Linda Wolfe) کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے، جس کا نام سب سے زیادہ شادیاں کرنے والی خاتون کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے۔ لنڈا وولف نے اپنے ازدواجی کیریئر میں 23 شوہروں سے عقد نکاح کیا تھا۔ اب اس کی جگہ موریطانیہ کی سلم کا نام درج کرلیا گیا۔ سلم نے کئی برس پہلے ہی یہ ریکارڈ قائم کرلیا تھا، تاہم انہوں نے زیادہ شادیاں ریکارڈ قائم کرنے کے لئے نہیں کی تھیں، بلکہ ان کے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے، جو اب تک کسی کے نصیب میںنہیں آیا اور اس سے انہیں عالمی شہرت حاصل ہو جائے گی۔ اس لئے ان کی جانب سے یہ انکشاف ابھی ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا گیا۔
دوران انٹرویو سلم نے اپنی ہم وطن خواتین کے نام پیغام میں کہا کہ وہ میری پیروی ہرگز نہ کریں۔ پہلا شوہر جیسا بھی ہو اس کے ساتھ گزر بسر کریں۔ اچھے سے اچھے شوہر کی تلاش میں خاتون کہیں کی نہیں رہتی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک انتہائی دلچسپ بات ہے کہ موریطانیہ میں ایک طرف خواتین کی بہت بڑی تعداد غیر شادی شدہ ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر انہیں مناسب رشتے نہیں مل رہے تو دوسری طرف ”سلم“ نے38 برسوں کے دوران 55 مردوں سے شادیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق موریطانیہ کے مرد اسی خاتون سے شادی کو ترجیح دیتے ہیں، جو خوب فربہ ہو، اس لئے کمزور جسم والی عورتیں کنواری رہ جاتی ہیں، جبکہ اس صحرائی ملک میں خواتین کا مہر بھی اتنا زیادہ رکھا جاتا ہے، جسے ہر کوئی افورٹ نہیں کر سکتا، اس لئے بہت سے مرد بھی غیر شادی شدہ رہ جاتے ہیں۔
موریطانیہ خطے کی واحد ریاست ہے، جہاں طلاق کو ایک سماجی روایت کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں طلاق جیسے منفی عمل کے روزمرہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے خاندانی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ طلاق کے بڑھتے رجحان نے 44 فیصد عائلی اور سماجی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، لیکن صنف نازک اس منفی طرز عمل کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق موریطانوی سماج ”چٹ میں شادی، پٹ میں طلاق“ کے اصول پر چل رہا ہے۔ عورتوں کو وقت نکاح نہ صرف نان نفقے اور رہائش جیسی کسی بنیادی سہولت کا حق نہیں دیا جاتا، بلکہ خواتین کے ”حق مہر“ جیسے شرعی فریضے کی ادائیگی بھی نہیں کی جاتی۔ خواتین کو طلاق کے بعد دوہرا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ طلاق کے بعد ”عرصہ عدت“ گزارنے تک نان نفقہ سابقہ شوہر ہی کے ذمہ ہونا چاہیے، لیکن موریطانیہ میں تو مطلقہ کو سابقہ شوہر کے بچوں کو بھی خود ہی پالنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موریطانیا میں عقد نکاح کے دوران شوہر کہتا ہے کہ ”وہ اپنی بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں۔ عورت اپنے معاملات کی خود ہی یا اس کا ولی ذمہ دار ہو گا۔“ اس کے بعد یہ شرط نکاح نامے میں درج کر لی جاتی ہے۔ اس شرط کے ساتھ عورت کو یہ اختیارحاصل ہوتا ہے کہ ”وہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں خود ہی اپنی طلاق کا فیصلہ کرے گی۔“ اس شرط کی رو سے طلاق کا اختیار شوہر کے بجائے بیوی کو حاصل ہوتا ہے اور بیوی ذرا سی بات پر خود کو طلاق دے کر چلی جاتی ہے۔ اس لئے موریطانیہ میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہے۔

07/02/2025

میں دنیا میں کتنے ہی اسٹارٹ اپس دیکھ رہا ہوں جو صرف اس بنیاد پر وجود میں آئے کہ ان ملکوں میں ہائی کوالٹی سڑکوں کا نیٹ ورک موجود ہے جو ملک کے چپے چپے تک پھیلا ہوا ہے

کتنے ہی اسٹارٹ اپس صرف اس وجہ سے وجود میں آتے ہیں کہ ان ملکوں میں امن و آمان کی شاندار صورتحال موجود ہے۔ بناء امن آمان کے، وہ اسٹارٹ اپس آپریٹ ہی نہیں کرسکتے (جیسے hospitality وغیرہ سے متعلقہ)

کتنے ہی اسٹارٹ اپس وجود میں آئے کہ ان ملکوں میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ موجود ہے جس میں کسی بھی interruption آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا

بھارت نے UPI یعنی Unified Payment Interface کی وجہ سے بڑے بڑے اسٹارٹ اپس وجود میں آئے جن میں سے کئی unicorn کا درجہ رکھتے ہیں یعنی 1 بلین ڈالر یا اس سے زیادہ کی ویلیوشن کے حامل اسٹارٹ اپس

ایسی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں جہاں ایک پراپر نظام کی تشکیل کے بعد ایک ایسی "زمین" میسر آئی جہاں اسٹارٹ اپس، entrepreneurship اور innovation پنپنے لگی جس کا پھل پوری قوم کو ملا

اس کے لیے کوئی راکٹ سائنس نہیں، صرف اور صرف اخلاص کی ضرورت ہے

اخلاص سے کیا مراد ہے؟

اخلاص سے مراد ہے کہ ہمیں ذاتی طور پر کوئی کتنا برا لگتا ہو، کسی سے کس قدر اختلاف کیوں نہ ہو، ہم بیشک آپسی جنگیں لڑتے رہیں لیکن، کسی صورت نظام کو نہیں چھیڑیں گے

کیونکہ مستقل چلتا نظام ایک ایسی زمین ہے جہاں معاشی ترقی کے پھل لگتے ہیں!!!!

07/02/2025

ایک بہت غریب عورت نے ریڈیو اسٹیشن پر کال کی اور خدا سے مدد کی درخواست کی۔ ایک ایسا شخص جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا، یہ ریڈیو پروگرام سن رہا تھا اور اس عورت کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ریڈیو اسٹیشن سے اس عورت کا پتہ حاصل کیا اور اپنی سیکریٹری کو حکم دیا کہ وہ اس عورت کے لیے بڑی مقدار میں کھانے پینے کا سامان لے جائے۔ تاہم، اس نے سیکریٹری کو یہ ہدایت دی،
’’جب عورت پوچھے کہ یہ کھانا کس نے بھیجا ہے، تو اسے بتانا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘

جب سیکریٹری عورت کے گھر پہنچی، تو عورت بہت خوش ہوئی اور مدد ملنے پر شکر گزار تھی۔ اس نے فوراً کھانے کے پیکٹ اپنے چھوٹے سے گھر میں رکھنا شروع کر دیے۔ پھر سیکریٹری نے اس سے پوچھا،
’’کیا آپ یہ جاننا نہیں چاہیں گی کہ یہ کھانا کس نے بھیجا ہے؟‘‘

عورت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
’’نہیں، مجھے پرواہ نہیں، کیونکہ جب خدا حکم دیتا ہے تو شیطان بھی اطاعت کرتا ہے!‘‘

13/10/2024

کل 14 تاریخ ہے اور گوشوارے جمع کرانے کی اخری تاریخ ہے اور اس تاریخ کو اگے نہیں بڑھایا جائے گا لہذا وہ تمام دوست جنہوں نے اپنے گوشوارے جمع نہیں کرائے یا وہ تمام دوست جو کبھی بھی کسی بھی وقت زمین کو بیچتے یا خریدتے وقت عارضی فائلر ہوئے تھے ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے گوشواروں کو جمع کروائیں شکریہ ۔
تاکہ وہ انے والے وقت میں حکومت وقت کی طرف سے کسی بھی قانونی مشکلات اور مسئلے دو چار نہ ہو اور ان سے بچ سکیں ۔
03016333201

12/10/2024

Be Ready Non-Filers For more Strict Actions!!
To Whom It May Concern!

Here is the last call on 14th October to become filer

28/08/2024

غیر معیاری ٹیکس فائلنگ سے اوائڈ کریں

ٹیکس پریکٹس کی ہسٹری میں اتنے بندے ٹیکس کنسلٹینٹس نے رجسٹر کئے ہیں نہ ایف بی آر کے رجسٹریشن ونگ نے کئے ہیں جتنے بندے پراپرٹی رجسٹرارز کے دفتروں سے رجسٹر بھی ہوئے اور فائلر بھی بنائے گئے ہیں.

اور صحیح پیسہ بھی انہوں نے ہی کمایا ہے، ہر دفتر سے دس پندرہ لوگ روزانہ فائلر ہوتے ہیں، ایوریج تین چار لاکھ روپیہ مہینہ یہ فائلرز سے کماتے ہیں۔

ان لوگوں کے فائلر کئے ہوئے بندے کا نیکسٹ ریٹرن بنانا کنسلٹینٹ کیلئے اچھی خاصی پرابلم بن جاتا ہے کیونکہ بندے کے اوریجنل مالی معاملات کو ان کے فائل کئے ہوئے ریٹرن کیساتھ کوریلیٹ کرنا ممکن نہیں رہتا اور ان فائلرز کے ٹیکس پروفائل کا پاسورڈ تو کسی ایک کے پاس بھی نہیں ہوتا۔

فائلر کرنے والوں نے جب پیسے لئے ہیں تو کم از کم فائلر کو پاسورڈ تو لکھ کے دیدو تاکہ بعد میں ان بیچاروں کو پاسورڈ کی ریکوری پر الگ سے دو ہزار نہ خرچنا پڑے۔

کوشش کیا کریں کہ پراپرٹی رجسٹریشن سے پہلے کسی ماہر کنسلٹینٹ سے فائلر ہو کے جایا کریں تاکہ بعد کی پریشانیوں سے بچ سکیں۔

ٹیکس پروفائل کو ایویں کیویں کی چیز مت سمجھیں کہ چاہیں جس سے مرضی بنوالیں یا بیٹھ کے یوٹیوب دیکھ کے خود ہی پُر کر لیں، اس پر جب بجلی گرتی ہے تو دو تین سال کا سکون غارت کر جاتی ہے۔

غیر معیاری ریٹرن فائلنگ کا معاملہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک کاغذ پر کچھ بھی اول فول لکھ کے دراز میں رکھ دیں، یہ دس سال بھی کسی اتھارٹی کی نظروں سے اوجھل پڑا رہے گا تو کچھ مسئلہ نہیں کرے گا لیکن جب کسی محتسب کی نظر میں آگیا تو وہ اس پر باز پرس ضرور کرے گا۔

💐

عوام کو مفت سولر سسٹم کیسے ملے گا؟ طریقہ کار طےگھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گیپروگرام ...
10/07/2024

عوام کو مفت سولر سسٹم کیسے ملے گا؟ طریقہ کار طے

گھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گی

پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر 45 لاکھ گھریلو صارفین کو پنجاب حکومت آسان اقساط پر سولر سسٹم لگا کر دے گی

یہ سولر سسٹم جس گھر میں لگایا جائے گا سب سے پہلے اسکے یونٹس دیکھے جائیں گے

سولر سٹم لگوانے کے لیے گھریلو صارفین کو 8800 پر شناختی کارڈ نمبر اور بجلی بل پر درج ریفرنس نمبر کو بھیجنا ہوگا

جس سے رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعے گھریلو صارفین کو سولر سٹم دیا جائے گا

ابتدائی طور پر بینک آف پنجاب اور نیشنل بینک کے ذریعے صارفین سولر کی 25 فیصد قیمت ادا کریں گے

اس رقم پر صارفین پر سود عائد نہیں گا، صارفین کو سولر کی اصل قیمت 5 سال میں قسطوں میں ادا کرنا ہوگی

صارف کو سولر کی قیمت بجلی کے بل کی صورت میں بذریعہ اقساط ادا کرنا ہوگی

جو صارفین سولر سٹم کے اہل ہوں گے ان کے گھر سولر سسٹم حکومت کے پاس رجسٹرڈ کمپنی لگائے گی

یہ سولر سٹم ستمبر یا اکتوبر میں لگنا شروع ہوجائیں گے

200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو حکومت مفت سولر پینل دے گی

200 سے 500 یونٹس استعمال والے صارفین کو بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا

جبکہ 500 یونٹس سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے لیے حکومت 75 فیصد بلا سود قرض کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالے گی

*کس کو کتنے کلو واٹ کا سولر سسٹم ملے گا؟*

ایسے گھریلو صارفین جن کے بجلی کے ماہانہ یونٹ 50 یا اس سے کم ہیں انہیں 500 واٹ جبکہ 50 سے 100 یونٹ کے گھریلو صارفین کو ایک کلو واٹ کا سولر سسٹم دیا جائے گا

200 سے 300 یونٹ کے صارفین 1100 واٹ، 300 سے 400 یونٹ کے صارفین 1650 واٹ اور 500 یونٹ کے صارفین 2200 واٹ تک کا سسٹم لگوا سکیں گے

ایسے گھریلو صارفین جن کی بجلی کا استعمال ایک سال کے دوران میں 500 یونٹس تک رہا ہے، وہ اس سیکم سے مستفید ہو سکیں گے

جس گھر کا صرف ایک میٹر ہوگا وہی اس روشن گھرانہ اسکیم سے مستفید ہوسکیں گے

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارف کا فائلر ہونا بھی ضروری ہے

نان فائلر ہونے کی صورت میں سسٹم صارف کے کوائف قبول نہیں کرے گا

وہ صارفین جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا کسی دوسرے حکومتی امدادی پروگرام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ سولر سسٹم کے حصول کی اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے

روشن گھرانہ اسکیم میں بجلی چوری کرنے والے صارفین کو سولر سسٹم نہیں ملے گا

حکومت ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے دیکھے گئی کہ اس صارف پر پہلے سے بجلی چوری کی کوئی ایف آئی آر تو درج نہیں ہے

Address

Office No 2. First Floor Alhamd Plaza University Road Sargodha
Sargodha

Telephone

+923016333201

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asif Tax Law Associates & Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asif Tax Law Associates & Services:

Share