Certified Tax Advisor

Certified Tax Advisor Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Certified Tax Advisor, Tax preparation service, Sargodha.

FBR| SECP| IPO|Chamber of Commerce
contact : 03339432945
✅ SECP Company Registration (Pvt Ltd, Public Ltd, SMC, Foreign)
✅ Firm/AOP Registration
✅ Import-Export License
✅ Chamber of Commerce
✅ Trademark & Logo
✅ Tax, GST, NTN, Filer Services
✅ PEC, PSEB

17/05/2026
11/05/2026

اگر یہ سمارٹ سسٹم منظور ہوگیا تو کچھ بھی چھپانا آسان نہیں ہوگا... ٹیکس ریٹرن 2026 ڈرافٹ
ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن 2026 کیلئے جو نیا مجوزہ ڈرافٹ تیار کیا ہے، وہ صرف ایک عام اپڈیٹ نہیں بلکہ پورے ٹیکس سسٹم کو بدلنے کی کوشش لگ رہا ہے۔ پہلے مختلف لوگوں اور کاروباروں کیلئے الگ الگ ریٹرن فارم ہوتے تھے، جیسے ٹریڈرز، مینوفیکچررز، SMEs، نان ریزیڈنٹس وغیرہ۔ لیکن اب ایف بی آر تقریباً سب کو ایک ہی مرکزی سسٹم میں لانا چاہتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی آسانی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی تمام معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے زیادہ مؤثر نگرانی کرنا ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی “Withholding Summary Dashboard” ہے۔ اب ریٹرن فائل کرتے وقت سب سے پہلے وہ معلومات سامنے آئیں گی جو ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ یعنی بینک ٹرانزیکشنز، پراپرٹی خرید و فروخت، ودہولڈنگ ٹیکس، حتیٰ کہ کچھ سیلز ٹیکس ریکارڈ بھی۔ پہلے لوگ اپنی معلومات خود درج کرتے تھے، مگر اب سسٹم پہلے ہی کافی چیزیں جانتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی جائیداد، آمدن یا ٹرانزیکشن ظاہر نہ کی تو اسے چھپانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا سے کمانے والے افراد بھی ایف بی آر کی خاص توجہ میں آ گئے ہیں۔ نئے ریٹرن میں پہلی بار “Social Media Content Income” کا الگ سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ اس میں پوسٹس کی تعداد، ویوز، کمائی اور دیگر تفصیلات پوچھی جائیں گی۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل اکانومی اب باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

پراپرٹی سے متعلق نظام بھی پہلے سے کافی سخت اور جدید بنایا جا رہا ہے۔ اب صرف ایک سادہ انٹری کافی نہیں ہوگی بلکہ ہر پراپرٹی کی مکمل تفصیل دینی پڑے گی، جیسے مکمل ایڈریس، پراپرٹی کی نوعیت، خریداری کی تاریخ، رقبہ اور فروخت کی معلومات۔ اگر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کسی پراپرٹی پر ٹیکس کٹ چکا ہو لیکن وہ ریٹرن میں ظاہر نہ کی گئی ہو تو سسٹم خود وارننگ دے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب جائیداد کے معاملات پر سخت ڈیٹا میچنگ ہونے والی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے صرف مجموعی تنخواہ درج کی جاتی تھی، مگر اب ہر employer کی الگ تفصیل دینی ہوگی۔ اگر کسی نے سال کے دوران نوکری بدلی ہو یا ایک سے زیادہ اداروں میں کام کیا ہو تو سب کی الگ انٹری کرنا پڑے گی۔ اس سے ایف بی آر کیلئے مختلف اداروں سے موصول ہونے والا ڈیٹا چیک کرنا آسان ہو جائے گا۔

اسی طرح غیر ملکی اثاثوں اور آمدن سے متعلق بھی بڑا فرق آیا ہے۔ پہلے اس کیلئے الگ declaration فائل کرنا پڑتی تھی، مگر اب تمام foreign assets اور liabilities کو مین ریٹرن کے اندر ہی شامل کر دیا گیا ہے۔ یعنی بیرونِ ملک جائیداد، سرمایہ یا بینک بیلنس سب ایک ہی ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا۔

چھوٹے کاروباروں کیلئے شاید یہ تبدیلی کچھ مشکل ثابت ہو، کیونکہ ٹریڈر، SME اور مینوفیکچرر جیسے سادہ ریٹرنز ختم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ان کیلئے نسبتاً آسان فارم موجود تھے، لیکن اب انہیں مکمل unified ریٹرن سسٹم استعمال کرنا ہوگا، جس سے compliance کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایف بی آر اب ایک ایسے سسٹم کی طرف جا رہا ہے جہاں ہر چیز زیادہ digital، connected اور automated ہوگی۔ مقصد یہی لگتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی معاشی سرگرمیوں، پراپرٹی، بینکنگ اور آن لائن آمدن کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر cross-check کیا جا سکے۔ نئے نظام میں معلومات چھپانا یا غلط تفصیلات دینا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

Finally a big relief for property owners in Pakistan 👍Today Section 7E of the Income Tax Ordinance, 2001 declared ultra ...
07/05/2026

Finally a big relief for property owners in Pakistan 👍

Today Section 7E of the Income Tax Ordinance, 2001 declared ultra vires to the Constitution of Pakistan 1973 by the Federal Constitutional Court of Pakistan.

29/04/2026

ٹیکس چوری اور نان فائلرز کے خاتمے کیلئے ایف بی آر کی بڑی اصلاحات۔۔Federal Board of Revenue (ایف بی آر) نے ٹیکس نظام میں ...
27/04/2026

ٹیکس چوری اور نان فائلرز کے خاتمے کیلئے ایف بی آر کی بڑی اصلاحات۔

۔Federal Board of Revenue (ایف بی آر) نے ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے ٹیکس چوری اور نان فائلرز کے تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر میں گزشتہ دو برسوں سے جاری اصلاحاتی عمل کے تحت ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا گیا ہے، جس سے افسران کے صوابدیدی اختیارات کم ہوئے اور ٹیکس نظام میں شفافیت آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے مختلف صنعتوں، خصوصاً شوگر، ٹیکسٹائل، اسٹیل اور سیمنٹ سیکٹر میں نگرانی بڑھائی گئی، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ۔

ایف بی آر کے مطابق 17 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا۔

نان فائلرز کے خلاف براہ راست کارروائی کے بجائے انہیں معاشی طور پر محدود کیا جا رہا ہے، جیسے بیرون ملک سفر اور جائیداد خریدنا مہنگا اور مشکل بنانا۔

شناختی کارڈ (CNIC) کو ہی نیشنل ٹیکس نمبر بنا دیا گیا ہے تاکہ مالی لین دین کی مکمل نگرانی ممکن ہو۔

مزید برآں، پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے ذریعے کاروباری اداروں سے ٹیکس وصولی کو خودکار بنایا گیا ہے اور عدم ادائیگی پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس کلچر کو فروغ دینا اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا ہے، جبکہ ٹیکس چوری کے خاتمے کیلئے عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ �

پنجاب میں روایتی پیلے اسٹامپ پیپر کا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ اب رجسٹری اور دیگر دستاویزات کے لیے اسٹامپ پیپر سفید کاغذ پ...
09/03/2026

پنجاب میں روایتی پیلے اسٹامپ پیپر کا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔ اب رجسٹری اور دیگر دستاویزات کے لیے اسٹامپ پیپر سفید کاغذ پر کنورٹ کر دیا گیا ہے۔

نئے نظام کے تحت آن لائن PSID کے ذریعے اسٹامپ ڈیوٹی ادا کرنے کے بعد کسی بھی سادہ سفید کاغذ پر اسٹامپ پیپر کا پرنٹ حاصل کیا جا سکے گا، جو قانونی طور پر قابلِ قبول ہوگا۔

یہ اقدام نظام کو جدید، شفاف اور آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو اسٹامپ پیپر کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات مل سکے۔

The Federal Board of Revenue (FBR) has officially removed 15,678 companies from the Active Taxpayers List (ATL) after th...
06/01/2026

The Federal Board of Revenue (FBR) has officially removed 15,678 companies from the Active Taxpayers List (ATL) after the December 31 filing deadline passed. Non-filing companies are now marked inactive, triggering serious financial consequences.

Inactive companies will face double withholding tax rates — for example, where an active company pays 10% WHT, an inactive one will pay 20%. Although this extra tax is adjustable later, it can significantly strain cash flows due to higher upfront deductions.

To restore active status, companies must pay a Rs.20,000 fine, or remain inactive until next year.

Currently, the total ATL taxpayers stand at 6,949,161, including individuals, AOPs, and companies. Staying compliant is crucial to avoid unnecessary tax costs.

Registration with PSEBThis step has reduced tax rate from 1% to only 0.25%
03/12/2025

Registration with PSEB
This step has reduced tax rate from 1% to only 0.25%

Difference between Advance Tax and Withholding Tax (ITO,2001)
17/11/2025

Difference between Advance Tax and Withholding Tax (ITO,2001)

Pros and Cons of Being a Late Filer.
06/11/2025

Pros and Cons of Being a Late Filer.

Address

Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Certified Tax Advisor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Certified Tax Advisor:

Share