UZAIR TAX "consultant &associates

UZAIR TAX "consultant &associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from UZAIR TAX "consultant &associates, Tax preparation service, Rashid Sohail law chamber district courts, Swabi.

Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax | Sales Tax | FBR Matters
(1) Income Tax Returns & Notices
(2) Sales Tax Registration & Compliance
(3) NTN / ATL / Business Registration
(4) Professional & Confidential Handling
📍 Operational office swabi

Withholding Agents Exemption Notification
01/10/2026

Withholding Agents
Exemption Notification

ٹیکس ایئر 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیعوفاقی بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ سرکلر نمبر 3 ...
30/09/2026

ٹیکس ایئر 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع
وفاقی بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ سرکلر نمبر 3 برائے 2026-27 کے مطابق ٹیکس ایئر 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 سے بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کر دی گئی ہے۔
یہ توسیع اُن تمام افراد کے لیے اہم ہے جو قانون کے تحت اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کروانے کے پابند ہیں۔
تاہم آخری تاریخ میں توسیع کا مطلب یہ نہیں کہ گوشوارہ آخری دن تک مؤخر کیا جائے۔ درست آمدن، اثاثہ جات، واجبات اور دیگر متعلقہ معلومات کی بنیاد پر بروقت اور درست گوشوارہ جمع کروانا مستقبل میں غیر ضروری نوٹسز اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اہم ہے۔
قانون سمجھیں، درست معلومات فراہم کریں اور اپنا گوشوارہ ذمہ داری کے ساتھ جمع کروائیں۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

ایس آر او نمبر 165(I)/2026 — سیلز ٹیکس گوشواروں کی خودکار جانچ پڑتال اور پیشگی اطلاع کا نیا طریقۂ کاروفاقی بورڈ برائے مح...
26/09/2026

ایس آر او نمبر 165(I)/2026 — سیلز ٹیکس گوشواروں کی خودکار جانچ پڑتال اور پیشگی اطلاع کا نیا طریقۂ کار
وفاقی بورڈ برائے محصولات نے 25 ستمبر 2026ء کو سیلز ٹیکس قواعد، 2006ء میں ترمیم کرتے ہوئے ایک نیا باب شامل کیا ہے، جس کے تحت کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے سیلز ٹیکس گوشواروں اور دیگر دستیاب معلومات کی جانچ پڑتال اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
نئے طریقۂ کار کے تحت نظام کی جانب سے سامنے آنے والی غلطیوں یا تضادات کے بارے میں متعلقہ رجسٹرڈ شخص کو آئی آر آئی ایس کے ذریعے پیشگی اطلاع دی جا سکتی ہے، تاکہ وہ اپنی وضاحت پیش کر سکے، غلطیوں کی اصلاح کر سکے یا ضروری اقدامات کر سکے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد قانونی یا تعزیری کارروائی سے پہلے متعلقہ ٹیکس گزار کو اپنی وضاحت اور اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہے۔
تمام سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے گوشواروں، کاروباری ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی درستگی کو یقینی بنائیں اور کسی بھی پیشگی اطلاع کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر مناسب جواب جمع کروائیں۔
قانونی رہنمائی، درست ریکارڈ اور بروقت جواب دہی ٹیکس معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کے لیے ایف بی آر کا اہم قانونی اقداموفاقی بورڈ آف ریونیو نے ایس۔آر۔او۔ 1640(I)/2026 مو...
24/09/2026

سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کے لیے ایف بی آر کا اہم قانونی اقدام
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے ایس۔آر۔او۔ 1640(I)/2026 مورخہ 23 ستمبر 2026 کے ذریعے سوشل میڈیا کے ایسے مواد سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 99C کے تحت خصوصی طریقۂ کار کے لیے مخصوص شعبے کے طور پر شامل کیا ہے۔
اس اقدام کے تحت سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی قابلِ معاوضہ آمدن کے تعین، اخراجات، پیشگی ٹیکس اور سالانہ گوشوارے میں آمدن ظاہر کرنے کے لیے خصوصی قواعد متعارف کرائے گئے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ S.R.O. 1640(I)/2026 خود کوئی الگ ٹیکس شرح مقرر نہیں کرتا، بلکہ متعلقہ شعبے کو دفعہ 99C کے تحت خصوصی طریقۂ کار کے دائرے میں لاتا ہے۔ اس کے بعد جاری کیے گئے متعلقہ قواعد میں آمدن کے تعین اور تعمیل کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے افراد کے لیے اب اپنی آمدن، ریکارڈ، اخراجات اور ٹیکس گوشوارے کی درست تعمیل پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
قانون کو سمجھنا، درست آمدن ظاہر کرنا اور بروقت ٹیکس تعمیل کرنا ہی مستقبل کے قانونی مسائل سے بچاؤ کا بنیادی ذریعہ ہے۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

16/09/2026

⚖️ جعلی اور فرضی انوائسز کے خلاف ایف بی آر کا سخت اقدام
ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس قانون کے تحت جعلی، فرضی یا غیر حقیقی لین دین پر مبنی انوائسز کے خلاف مزید سخت کارروائی کا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔
نئی شق 29 کے تحت اگر نوٹس، سماعت اور قانونی کارروائی کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ کسی رجسٹرڈ شخص نے ایسی انوائس جاری کی ہے جس کے پیچھے حقیقی اشیاء یا خدمات کی فراہمی موجود نہیں، تو متعلقہ شخص پر فرضی انوائس کی مالیت بشمول سیلز ٹیکس کے برابر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ اس کا نام اور رجسٹریشن نمبر “Simulated Invoice Issuers Register” میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ایسے شخص کی انوائس پر اِن پٹ ٹیکس لینے والے رجسٹرڈ افراد کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ فہرست میں نام شامل ہونے کی تاریخ سے متعلقہ اِن پٹ ٹیکس کریڈٹ کی خودکار واپسی اور ناقابلِ قبول قرار دیے جانے کا معاملہ سامنے آئے گا۔
اسی طرح نئی شق 30 کے تحت اگر ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے کسی ٹیکس مدت میں دعویٰ کیے گئے اِن پٹ ٹیکس کا متعلقہ سپلائر کے ظاہر کردہ آؤٹ پٹ ٹیکس سے مطابقت نہ ہونا ثابت ہو جائے، تو قانونی کارروائی اور سماعت کے بعد غیر مماثل اِن پٹ ٹیکس کا 20 فیصد جرمانہ، اِن پٹ ٹیکس کی واپسی اور متعلقہ ڈیفالٹ سرچارج بھی عائد ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، شق 31 کے تحت فہرست میں شامل شخص کی انوائس پر موجود ناقابلِ قبول اِن پٹ ٹیکس کو مقررہ 60 دن کے اندر واپس نہ کرنے پر بھی کارروائی اور جرمانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
کاروباری طبقے کے لیے اہم سبق:
صرف انوائس کا موجود ہونا کافی نہیں۔ ہر کاروبار کو اپنی خریداری، سپلائر، ادائیگی، اشیاء یا خدمات کی حقیقی فراہمی اور متعلقہ ٹیکس ریکارڈ کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
ایک غلط یا غیر تصدیق شدہ انوائس نہ صرف اِن پٹ ٹیکس کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے بلکہ جرمانے، ڈیفالٹ سرچارج اور مزید قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
ٹیکس کمپلائنس میں احتیاط، بعد کی قانونی پریشانی سے بہتر ہے۔
اگر آپ کے کاروبار میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن، اِن پٹ ٹیکس، انوائسز یا ایف بی آر کی جانب سے کسی نوٹس کا معاملہ ہے تو معاملے کو صرف ریٹرن فائلنگ تک محدود رکھنے کے بجائے مناسب قانونی اور ٹیکس مشاورت حاصل کریں۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

اہم سیلز ٹیکس اپڈیٹوفاقی حکومت نے S.R.O. 1525(I)/2026 مورخہ 13 ستمبر 2026 کے ذریعے مقامی طور پر تیار کردہ Hybrid Electri...
15/09/2026

اہم سیلز ٹیکس اپڈیٹ
وفاقی حکومت نے S.R.O. 1525(I)/2026 مورخہ 13 ستمبر 2026 کے ذریعے مقامی طور پر تیار کردہ Hybrid Electric Vehicles (HEVs) up to 2000cc کے حوالے سے سیلز ٹیکس کے نظام میں اہم تبدیلی کی ہے۔
اس نوٹیفکیشن کے تحت S.R.O. 297(I)/2023 کے Table-II کے بعد نیا استثنائی حکم شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق 2000cc تک انجن رکھنے والی مقامی طور پر تیار کردہ Hybrid Electric Vehicles پر Table-II کی دفعات لاگو نہیں ہوں گی۔
اس ترمیم کا عملی اثر یہ ہے کہ متعلقہ مقامی Hybrid Electric Vehicles کو 25% سیلز ٹیکس کی شرح کے بجائے عمومی 18% سیلز ٹیکس کی شرح کے دائرے میں لایا گیا ہے، بشرطیکہ متعلقہ گاڑی قانونی طور پر اس رعایت کے معیار پر پورا اترتی ہو۔
یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
ٹیکس قوانین میں ایک معمولی ترمیم بھی کاروبار، صنعت اور صارفین کے لیے اہم مالی اثرات رکھ سکتی ہے۔ اس لیے کسی بھی مخصوص گاڑی یا لین دین کی حتمی ٹیکس ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانون، نوٹیفکیشن اور گاڑی کی قانونی حیثیت کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

فنانس ایکٹ 2026 کے بعد سیلز ٹیکس قانون میں اہم اور دور رس تبدیلیاںایف بی آر نے سرکلر نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے فنانس ایکٹ...
13/09/2026

فنانس ایکٹ 2026 کے بعد سیلز ٹیکس قانون میں اہم اور دور رس تبدیلیاں
ایف بی آر نے سرکلر نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور وفاقی ایکسائز ایکٹ 2005 میں کی گئی اہم ترامیم کی تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے۔
ان ترامیم سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا سیلز ٹیکس نظام اب روایتی کاغذی کارروائی سے تیزی سے نکل کر ڈیجیٹل نگرانی، برقی انوائسنگ، حقیقی وقت میں کاروباری نگرانی اور خودکار جانچ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اہم تبدیلیوں میں ٹائر ون ریٹیلر کی تعریف میں ترمیم، برقی انوائسنگ، پیداواری نگرانی، نیشنل فیس لیس مرکز، فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ، بعض اپیلوں کی فیس لیس کارروائی، اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ تمام متعلقہ رابطوں کو برقی ذرائع کے ذریعے انجام دینے کا نظام شامل ہے۔
خصوصاً اب برقی انوائسنگ اور پیداواری نگرانی کے نظام سے عدم تعمیل کے نتائج مزید سخت ہو سکتے ہیں۔ کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ مربوط نہ کرنے، فروخت یا پیداوار کا مقررہ ریکارڈ برقرار نہ رکھنے اور بعض دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں بھاری جرمانوں کے ساتھ کاروباری احاطہ سربمہر کیے جانے تک کی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
جعلی یا فرضی انوائسز کے حوالے سے بھی قانون کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ اگر کسی شخص کے بارے میں قانونی کارروائی کے بعد یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے ایسی انوائس جاری کی جس کے پیچھے حقیقی اشیا یا خدمات کی فراہمی موجود نہیں تھی تو اس کا نام فرضی انوائس جاری کرنے والوں کے عوامی ریکارڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اس کے اثرات صرف انوائس جاری کرنے والے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایسے شخص کی انوائس پر حاصل کیا گیا ان پٹ ٹیکس بھی ناقابلِ قبول قرار دے کر واپس لیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، اگر خریدار کی جانب سے دعویٰ کردہ ان پٹ ٹیکس اور سپلائر کی جانب سے ظاہر کردہ آؤٹ پٹ ٹیکس میں ایف بی آر کے نظام کے مطابق مطابقت نہ ہو تو قانونی کارروائی کے بعد ان پٹ ٹیکس کی واپسی، واجب الادا اضافی رقم اور غیر مطابقت رکھنے والے ان پٹ ٹیکس کے بیس فیصد تک جرمانے کا معاملہ سامنے آ سکتا ہے۔
اسی طرح مقررہ ڈیجیٹل نگرانی، شناخت، ٹیکس اسٹیمپ، لیبل یا پیداواری نگرانی کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے والی قابلِ ٹیکس اشیا کے حوالے سے ضبطی اور بحقِ سرکار ضبطی کی کارروائی بھی قانون کے دائرے میں لائی گئی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تعمیل کو اب صرف ایک رسمی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔ برقی انوائسنگ، پیداواری نگرانی، ای-بلٹی، پی او ایس اور دیگر ڈیجیٹل نظام کے ساتھ کاروبار کی تعمیل کا اثر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔
آڈٹ کے نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بعض معاملات میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، الیکٹرانک سماعت اور نیشنل فیس لیس مرکز کے ذریعے کارروائی کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ اسی طرح آڈٹ مکمل ہونے کے بعد آڈٹ مشاہدات اور نتائج پر مشتمل باقاعدہ رپورٹ جاری کرنے کا طریقہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
کاروباری طبقے کے لیے اصل پیغام یہ ہے کہ اب صرف سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانا کافی نہیں ہوگا۔
درست انوائس، حقیقی کاروباری لین دین، سپلائر کی جانچ، ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس کی مطابقت، مکمل کاروباری ریکارڈ، برقی انوائسنگ، پیداواری نگرانی اور بروقت قانونی تعمیل مستقبل کے سیلز ٹیکس نظام میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
غلط یا غیر مستند دستاویزات کے بجائے درست ریکارڈ، قانونی تعمیل اور بروقت پیشہ ورانہ ٹیکس مشاورت ہی کاروبار کو غیر ضروری جرمانوں، ان پٹ ٹیکس کی واپسی اور دیگر قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ صرف قانون میں تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کے سیلز ٹیکس نظام کے مزید ڈیجیٹل اور ڈیٹا پر مبنی ہونے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

ایک صاحب نے حال ہی میں رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ایک شخص سے صرف 1,000 روپے میں فائل کرواتے رہے۔اب ا...
10/09/2026

ایک صاحب نے حال ہی میں رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ایک شخص سے صرف 1,000 روپے میں فائل کرواتے رہے۔
اب انہیں 4,33,000 روپے کے ٹیکس سے متعلق نوٹس کا سامنا ہے۔
یہ واقعہ ایک اہم سبق ہے:
ہزاروں روپے کی وقتی بچت بعض اوقات لاکھوں روپے کے مالی نقصان اور قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن صرف ایک فارم بھرنے کا نام نہیں۔ درست ٹیکس پروفائلنگ، آمدن اور اثاثوں کی قانونی پوزیشن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینکنگ معاملات اور متعلقہ ٹیکس قوانین کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
سستی فیس دیکھ کر فیصلہ کرنے کے بجائے پیشہ ورانہ مہارت، قانونی سمجھ بوجھ اور ذمہ دارانہ مشاورت کو ترجیح دیں۔
نوٹس موصول ہونا ہر صورت میں حتمی ٹیکس ذمہ داری ثابت نہیں کرتا، لیکن بروقت اور درست قانونی جواب دینا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
اصل نوٹس سے متعلق حساس اور ذاتی معلومات کو حذف/چھپا کر آگاہی کے مقصد کے لیے شیئر کیا جا رہا ہے۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

پاکستان کے ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں!وفاقی بورڈ آف ریونیو نے Circular No. 02 of 2026-27 جاری کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2026 ...
09/09/2026

پاکستان کے ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں!
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے Circular No. 02 of 2026-27 جاری کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 میں کی جانے والی اہم ترامیم کی وضاحت کر دی ہے۔
یہ ترامیم صرف ٹیکس کی شرحوں میں تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل، فیس لیس، شفاف اور رسک بیسڈ نظام کی طرف منتقل کرنے کا اہم قدم ہیں۔
اہم تبدیلیاں:
(1) Faceless Regime کے ذریعے بعض آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل کی کارروائیاں الیکٹرانک نظام کے تحت کی جائیں گی۔
(2) مخصوص ٹیکس تنازعات کے لیے Algorithmic Settlement Mechanism متعارف کرایا گیا ہے۔
(3) اعلیٰ عدالتوں میں بعض ٹیکس مقدمات لے جانے سے قبل Independent Case Scrutiny Committee کی منظوری ضروری ہوگی۔
(5) تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں تبدیلی اور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
(6) Section 7E کے تحت غیر منقولہ جائیداد پر عائد Deemed Income Tax ختم کر دیا گیا ہے۔
(7) عام افراد کے لیے 500 ملین روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس ختم جبکہ اس سے زائد آمدن پر شرح میں کمی کی گئی ہے۔
(8) بڑی بینکنگ ٹرانزیکشنز اور مالیاتی معلومات کو Central Data Hub کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر جانچا اور Cross-Match کیا جا سکے گا۔
(9) کاروباری اداروں کے لیے Electronic Integration اور Digital Compliance مزید اہم ہو گئی ہے، جبکہ عدم تعمیل پر سخت کارروائی اور جرمانوں کا امکان موجود ہے۔
(10) بعض خدمات اور پیشہ ورانہ آمدن کے حوالے سے Withholding Tax نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
میری پیشہ ورانہ رائے میں فنانس ایکٹ 2026 کے بعد ہر کاروباری شخص، تنخواہ دار فرد اور پیشہ ور کو اپنی Tax Compliance، بینکنگ ریکارڈ، اثاثہ جات اور مالیاتی معلومات کو باقاعدہ اور درست رکھنا ہوگا۔
⚖️ یاد رکھیں: مستقبل کا ٹیکس نظام ڈیٹا پر چلے گا، اس لیے درست ریکارڈ اور بروقت کمپلائنس ہی بہترین تحفظ ہے۔
Uzair Tax Consultant & Associates
Muhammad Uzair
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Specialized in:
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory
:::

*** اسٹیل انڈسٹری کے لیے اہم ٹیکس اپ ڈیٹ***وفاقی بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 22 برائے سال 2026 جاری کرتے ...
08/09/2026

*** اسٹیل انڈسٹری کے لیے اہم ٹیکس اپ ڈیٹ***
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 22 برائے سال 2026 جاری کرتے ہوئے اسٹیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے مزید پانچ مینوفیکچررز کو مقررہ فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
اس حکم کے تحت اہل آئرن و اسٹیل مینوفیکچررز، میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس کے بجلی کے استعمال پر فی یونٹ 5 روپے کی مقررہ شرح سے سیلز ٹیکس کے اطلاق کا انتظام کیا گیا ہے۔
اہلیت کا تعین متعلقہ قانونی معیار کے مطابق کیا جائے گا، جس میں اسکریپ کے استعمال، بجلی کی کھپت اور مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت اسکریپ کی درآمد کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔
⚖️ اہم قانونی نکتہ:
یہ فہرست مستقل نہیں ہے۔ ایف بی آر یا کمشنر ان لینڈ ریونیو کی سفارش پر وقتاً فوقتاً کسی مینوفیکچرر کو فہرست میں شامل یا خارج کیا جا سکتا ہے۔ متعلقہ ٹیکس حکام کو بھی ہر رجسٹرڈ مینوفیکچرر کی اہلیت کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔
*** اہم بات:
یہ حکم مذکورہ اہل ٹیکس دہندگان کے تمام بجلی کنکشنز پر فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
لہٰذا آئرن اور اسٹیل کے شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیکس حیثیت، بجلی کے کنکشنز اور قانونی اہلیت کا بروقت جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ ٹیکس تنازع یا اضافی ذمہ داری سے بچا جا سکے۔
قانون کی بروقت آگاہی، درست کمپلائنس اور مؤثر ٹیکس منصوبہ بندی ہی محفوظ کاروبار کی بنیاد ہے۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
Muhammad Uzair
Uzair Tax Consultant & Associates
Income Tax Lawyer & Consultant
Manager — Arbab Law Tax Firm, KP Branch
Specialization:
Tax Litigation | Tax Appeals | Income Tax Law | Practical Tax Advisory

***

Address

Rashid Sohail Law Chamber District Courts
Swabi
23100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UZAIR TAX "consultant &associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share