Harris Tax Law Associate

  • Home
  • Harris Tax Law Associate

Harris Tax Law Associate INCOME TAX / SALES TAX / COMPANY REGISTRATION / FARM REGISTRATION

19/05/2026

*نیا انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2026: آسان ریٹرن کا دور ختم، مکمل مالی شفافیت کا آغاز*
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے نیا مجوزہ الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم جاری کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ ڈرافٹ فارم *SRO 835(I)/2026* کے تحت جاری کیا گیا ہے اور اسٹیک ہولڈرز، ٹیکس پریکٹیشنرز، بزنس کمیونٹی اور ٹیکس گزاروں سے سات دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔ یہ فارم ابھی حتمی نہیں بلکہ مجوزہ مرحلے میں ہے، مگر اس کے خدوخال یہ بتا رہے ہیں کہ ایف بی آر اب ریٹرن کو صرف آمدنی کے ایک سادہ بیان کے بجائے مکمل مالی سرگرمیوں کی سالانہ سمری بنانا چاہتا ہے۔

اس نئے فارم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس گزار کو اب اپنی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل زیادہ منظم انداز میں دینی ہوگی۔ ایف بی آر کے ڈرافٹ انسٹرکشنز کے مطابق سسٹم میں موجود معاشی لین دین کا ڈیٹا اشارتی ہوگا اور وقت کے ساتھ اپڈیٹ ہوتا رہے گا، مگر درست آمدنی اور درست ٹیکس رپورٹ کرنا پھر بھی ٹیکس گزار کی اپنی ذمہ داری رہے گی۔

*تنخواہ دار طبقہ سب سے پہلے متاثر ہوگا*

نئے فارم میں تنخواہ دار افراد کو صرف سالانہ تنخواہ لکھنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں اپنے ایمپلائر کا نام، رجسٹریشن نمبر اور سال بھر میں کاٹے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس کا عملی اثر یہ ہوگا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے ملازمین کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس نہیں کاٹ رہی تو ریٹرن فائل کرنے والے ملازمین کے ڈیٹا سے ایف بی آر کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ فلاں ایمپلائر نے تنخواہ دی مگر ودہولڈنگ ٹیکس جمع نہیں کرایا۔

یہاں سے *سیکشن 161* کے تحت ایمپلائر کے خلاف کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ جہاں ودہولڈنگ ایجنٹ ٹیکس کاٹنے کا پابند تھا مگر اس نے ٹیکس نہیں کاٹا، وہاں محکمہ اس واجب الادا رقم کا مطالبہ ودہولڈنگ ایجنٹ سے کر سکتا ہے۔ اسی لیے تنخواہ دار افراد اور ایمپلائرز دونوں کو جون 2026 کے اختتام سے پہلے اپنی ودہولڈنگ پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔

*کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر آمدنی میں بھی تفصیل لازمی ہوگی*

پہلے کئی ٹیکس گزار پراپرٹی انکم، دیگر آمدنی یا زرعی آمدنی کو ایک ہی مجموعی رقم کے طور پر ظاہر کر دیتے تھے۔ اب رجحان یہ ہے کہ ہر پراپرٹی، ہر ادارے، ہر ذریعہ آمدنی اور زرعی زمین کی تفصیلات الگ الگ مانگی جائیں گی۔ پراپرٹی رینٹ کی صورت میں یہ بتایا جائے گا کہ کس پراپرٹی سے کتنا کرایہ آیا، اس کے خلاف کون سے قابل قبول اخراجات کلیم کیے گئے، اور خالص آمدنی کیا بنی۔

اسی طرح زرعی آمدنی میں صرف ایک رقم لکھ دینا کافی نہیں رہے گا۔ زرعی زمین کی جگہ، کھاتہ یا سروے نمبر، رقبہ، فصل، آمدنی اور متعلقہ صوبائی ریکارڈ سے مطابقت اہم ہو سکتی ہے۔ سندھ، پنجاب اور دیگر صوبوں میں زرعی آمدنی کے صوبائی قوانین کے تحت پہلے سے جمع شدہ ریکارڈ کو انکم ٹیکس ریٹرن سے ہم آہنگ رکھنا ضروری ہوگا۔

*کاروباری طبقے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: ودہولڈنگ ٹیکس کی کراس میچنگ*

نئے فارم کا اصل مقصد صرف آمدنی پوچھنا نہیں بلکہ پورے مالی نظام کو کراس میچ کرنا ہے۔ کاروباری ادائیگیاں، وصولیاں، ودہولڈنگ ٹیکس، بینک ٹرانزیکشنز، سپلائرز اور کسٹمرز کا ڈیٹا ایک دوسرے سے ملایا جا سکے گا۔ اگر ایک شخص اپنے ریٹرن میں کسی کمپنی سے آمدنی یا ادائیگی ظاہر کرتا ہے، مگر دوسری طرف کمپنی نے اس پر ٹیکس نہیں کاٹا یا جمع نہیں کرایا، تو ایف بی آر کے لیے سیکشن 161 کے تحت سوال اٹھانا آسان ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ریٹرن فائلنگ صرف “آمدنی لکھنے” کا کام نہیں رہے گا بلکہ ہر رقم کے پیچھے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کاروباری ہے یا نان بزنس، قابل ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر ٹیکس کٹنا چاہیے تھا یا نہیں، اور اگر کٹا ہے تو CPR یا ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ سے اس کا ثبوت موجود ہے یا نہیں۔

*ریفنڈ سسٹم میں ممکنہ بہتری*

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ نئے فارم میں ریفنڈ کے لیے بینک اکاؤنٹ اور ودہولڈنگ ڈیٹا کو زیادہ منظم طریقے سے شامل کرنے کا تصور نظر آتا ہے۔ اگر یہ نظام عملی طور پر درست کام کرے تو ٹیکس گزار کو ریفنڈ کے لیے بار بار ٹیکس آفس جانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سہولت اسی وقت کارآمد ہوگی جب ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، بینک اکاؤنٹ، CNIC/NTN اور ریٹرن کا ڈیٹا آپس میں مکمل طور پر میچ کر رہا ہو۔

*فارم مئی میں جاری ہونا ایک بڑا اشارہ ہے*

عام طور پر ریٹرن فارم جولائی کے قریب آتے رہے ہیں، لیکن اس سال مئی میں ڈرافٹ فارم سامنے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ممکنہ طور پر فائلنگ سیزن کو یکم جولائی 2026 سے منظم طریقے سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیکس ماہرین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جلد ڈرافٹ جاری کرنے کا مقصد ٹیکس گزاروں کو یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک مکمل فائلنگ وقت دینا ہو سکتا ہے۔

*ٹیکس گزاروں کے لیے عملی احتیاط*

ٹیکس سال 2026 کے لیے ہر ٹیکس گزار کو 30 جون کے بعد فوراً اپنا مکمل ڈیٹا ترتیب دینا چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ، تنخواہ سرٹیفکیٹ، کرایہ نامہ، پراپرٹی تفصیل، زرعی آمدنی کا ریکارڈ، خرید و فروخت، ودہولڈنگ سرٹیفکیٹس، CPRs، گاڑی، جائیداد، بینک بیلنس اور سرمایہ کاری کی مکمل تفصیل پہلے سے تیار رکھی جائے۔

تنخواہ دار افراد خاص طور پر اپنے ایمپلائر سے یہ تصدیق کریں کہ ان کی تنخواہ سے قانون کے مطابق ٹیکس کاٹا اور جمع کرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر ایمپلائر نے ٹیکس نہیں کاٹا اور ملازم نے ریٹرن میں تنخواہ ظاہر کر دی تو بعد میں ایمپلائر پر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کا معاملہ بن سکتا ہے۔ پھر ایمپلائر ملازم سے رقم مانگے گا، جبکہ ملازم یہ کہے گا کہ اس نے اپنی طرف سے ریٹرن کے ساتھ ٹیکس ادا کر دیا تھا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جون کے اندر اندر سالانہ ٹیکس کی پوزیشن صاف کر لی جائے۔

نیا ریٹرن فارم بظاہر مشکل، تفصیلی اور عام آدمی کے لیے پیچیدہ ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: اب ایف بی آر صرف اعلان کردہ آمدنی نہیں دیکھے گا بلکہ بینک، ودہولڈنگ، کاروباری لین دین، تنخواہ، کرایہ، زرعی آمدنی اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھے گا۔

لہٰذا اس سال ریٹرن فائلنگ میں جلد بازی، اندازے، غیر مکمل بینک سمری، یا بغیر قانونی سمجھ بوجھ کے فارم جمع کرانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر ٹیکس گزار کو چاہیے کہ وہ اپنا ریٹرن کسی ایسے ماہر سے تیار کرائے جو صرف فارم بھرنا نہ جانتا ہو بلکہ قانون، اکاؤنٹس، بینکنگ ٹرانزیکشنز، ودہولڈنگ ٹیکس اور قابل قبول اخراجات کی مکمل سمجھ رکھتا ہو۔

ٹیکس ریٹرن اب صرف ایک سالانہ رسم نہیں رہا، بلکہ آپ کی مکمل مالی پروفائل کا قانونی بیان بن چکا ہے۔ اس لیے احتیاط، تیاری اور درست مشاورت ہی بہترین تحفظ ہے.
Malik Qamar Altaf Advocate/Tax Consultant
03006405477
03336475477

اگر یہ سمارٹ سسٹم منظور ہوگیا تو کچھ بھی چھپانا آسان نہیں ہوگا... ٹیکس ریٹرن 2026 ڈرافٹ ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن 2026 کیل...
11/05/2026

اگر یہ سمارٹ سسٹم منظور ہوگیا تو کچھ بھی چھپانا آسان نہیں ہوگا... ٹیکس ریٹرن 2026 ڈرافٹ
ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن 2026 کیلئے جو نیا مجوزہ ڈرافٹ تیار کیا ہے، وہ صرف ایک عام اپڈیٹ نہیں بلکہ پورے ٹیکس سسٹم کو بدلنے کی کوشش لگ رہا ہے۔ پہلے مختلف لوگوں اور کاروباروں کیلئے الگ الگ ریٹرن فارم ہوتے تھے، جیسے ٹریڈرز، مینوفیکچررز، SMEs، نان ریزیڈنٹس وغیرہ۔ لیکن اب ایف بی آر تقریباً سب کو ایک ہی مرکزی سسٹم میں لانا چاہتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی آسانی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی تمام معلومات کو ایک جگہ اکٹھا کر کے زیادہ مؤثر نگرانی کرنا ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی “Withholding Summary Dashboard” ہے۔ اب ریٹرن فائل کرتے وقت سب سے پہلے وہ معلومات سامنے آئیں گی جو ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ یعنی بینک ٹرانزیکشنز، پراپرٹی خرید و فروخت، ودہولڈنگ ٹیکس، حتیٰ کہ کچھ سیلز ٹیکس ریکارڈ بھی۔ پہلے لوگ اپنی معلومات خود درج کرتے تھے، مگر اب سسٹم پہلے ہی کافی چیزیں جانتا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کوئی جائیداد، آمدن یا ٹرانزیکشن ظاہر نہ کی تو اسے چھپانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا سے کمانے والے افراد بھی ایف بی آر کی خاص توجہ میں آ گئے ہیں۔ نئے ریٹرن میں پہلی بار “Social Media Content Income” کا الگ سیکشن شامل کیا گیا ہے۔ اس میں پوسٹس کی تعداد، ویوز، کمائی اور دیگر تفصیلات پوچھی جائیں گی۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل اکانومی اب باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

پراپرٹی سے متعلق نظام بھی پہلے سے کافی سخت اور جدید بنایا جا رہا ہے۔ اب صرف ایک سادہ انٹری کافی نہیں ہوگی بلکہ ہر پراپرٹی کی مکمل تفصیل دینی پڑے گی، جیسے مکمل ایڈریس، پراپرٹی کی نوعیت، خریداری کی تاریخ، رقبہ اور فروخت کی معلومات۔ اگر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کسی پراپرٹی پر ٹیکس کٹ چکا ہو لیکن وہ ریٹرن میں ظاہر نہ کی گئی ہو تو سسٹم خود وارننگ دے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب جائیداد کے معاملات پر سخت ڈیٹا میچنگ ہونے والی ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے صرف مجموعی تنخواہ درج کی جاتی تھی، مگر اب ہر employer کی الگ تفصیل دینی ہوگی۔ اگر کسی نے سال کے دوران نوکری بدلی ہو یا ایک سے زیادہ اداروں میں کام کیا ہو تو سب کی الگ انٹری کرنا پڑے گی۔ اس سے ایف بی آر کیلئے مختلف اداروں سے موصول ہونے والا ڈیٹا چیک کرنا آسان ہو جائے گا۔

اسی طرح غیر ملکی اثاثوں اور آمدن سے متعلق بھی بڑا فرق آیا ہے۔ پہلے اس کیلئے الگ declaration فائل کرنا پڑتی تھی، مگر اب تمام foreign assets اور liabilities کو مین ریٹرن کے اندر ہی شامل کر دیا گیا ہے۔ یعنی بیرونِ ملک جائیداد، سرمایہ یا بینک بیلنس سب ایک ہی ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا۔

چھوٹے کاروباروں کیلئے شاید یہ تبدیلی کچھ مشکل ثابت ہو، کیونکہ ٹریڈر، SME اور مینوفیکچرر جیسے سادہ ریٹرنز ختم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے ان کیلئے نسبتاً آسان فارم موجود تھے، لیکن اب انہیں مکمل unified ریٹرن سسٹم استعمال کرنا ہوگا، جس سے compliance کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایف بی آر اب ایک ایسے سسٹم کی طرف جا رہا ہے جہاں ہر چیز زیادہ digital، connected اور automated ہوگی۔ مقصد یہی لگتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی معاشی سرگرمیوں، پراپرٹی، بینکنگ اور آن لائن آمدن کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لا کر cross-check کیا جا سکے۔ نئے نظام میں معلومات چھپانا یا غلط تفصیلات دینا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں

08/07/2025

📰 ا سیکشن 21S – ایک کاروباری انقلاب یا نیا چیلنج؟
---
🔎 سیکشن 21S کیا ہے؟

فنانس ایکٹ 2025-26 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا نیا قانون سیکشن 21S ہے، جس کے مطابق:

> اگر کوئی فرد یا کاروبار کسی بھی ایک لین دین میں 2 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کیش میں وصول کرتا ہے (یعنی بغیر بینکنگ چینل کے)،
تو اس سیل یا سروس سے منسلک اخراجات کا 50 فیصد ٹیکس میں Allow نہیں کیا جائے گا۔
---
📌 یہ قانون کن کاروباروں پر لاگو ہوگا؟

یہ قانون صرف کارخانہ داروں (manufacturers)، درآمد کنندگان (importers) یا سپلائرز (suppliers) تک محدود نہیں ہے۔
بلکہ یہ ہر چھوٹے، درمیانے یا بڑے کاروبار پر لاگو ہوتا ہے جو:

✅ مال یا سروس فروخت کرتا ہے
✅ اور اس کے بدلے کیش میں 2 لاکھ روپے سے زائد وصول کرتا ہے

لہٰذا، اس کا اطلاق ہوگا:

ڈسٹریبیوٹرز

ہول سیلرز

ریٹیلرز

سپر مارکیٹ مالکان

ریسٹورنٹس، ہاسپیٹیلٹی، ایونٹ سروسز

اور تمام فیلڈ سیلز یا B2B کاروباروں پر
---
⚖️ قانونی اہمیت اور FBR کا مؤقف

FBR کا مؤقف واضح ہے:
پاکستان میں معیشت کو دستاویزی (documented economy) میں لانے کے لیے کیش ٹرانزیکشنز کو محدود کرنا ناگزیر ہے۔

یہ قانون tax evasion، کالے دھن، اور غیر شفاف لین دین کے خلاف ایک اہم اقدام ہے۔

سیکشن 21S ٹیکس آڈٹ کے وقت استعمال ہوگا تاکہ کیش وصولیوں کی بنیاد پر اخراجات کو disallow کیا جا سکے — یعنی آپ کا ٹیکس بڑھایا جا سکے گا۔
---
❌ اگر عمل درآمد نہ کیا جائے تو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں؟

1. 🔺 ٹیکس اخراجات کا 50٪ disallow ہو جائے گا

2. 🔺 ٹیکس لا ئیبلیٹی بڑھ سکتی ہے (29٪ تک اضافی لاگو ہو سکتا ہے)
3. 🔺 Audit میں penalties اور جرمانے کا سامنا ہو سکتا ہے
4. 🔺 معاشی reputation خراب ہو سکتی ہے
5. 🔺 ڈسٹریبیوٹرز، سپر مارکیٹس اور خوردہ فروشوں کی قیمتیں اور منافع متاثر ہو سکتا ہے
---
✅ اگر عمل کیا جائے تو کیا فوائد ہیں؟

1. 🟢 آپ کی ٹیکس پوزیشن محفوظ رہے گی

2. 🟢 کاروبار کا بینکنگ اور مالیاتی سسٹم سے تعلق مضبوط ہوگا

3. 🟢 FBR audit میں دفاع آسان ہو جائے گا

4. 🟢 آپ کا کاروبار documentation culture میں شامل ہو گا

5. 🟢 آپ مستقبل میں کسی بھی سبسڈی یا اسکیم کے لیے اہل رہیں گے
---
📌 عمل درآمد کی حکمت عملی (Action Plan)

1. ✅ ہر انوائس کی مالیت 200,000 سے کم رکھیں

2. ✅ IBFT، RTGS، QR کوڈ، چیک یا آن لائن بینکنگ کو اپنائیں
3. ✅ کیش وصولی کی صورت میں انوائس-ریفرنس کے ساتھ record رکھیں
4. ✅ اکاؤنٹس اور سیلز ٹیم کو باقاعدہ تربیت دیں

5. ✅ ایک داخلی SOP جاری کریں کہ کوئی بھی پیمنٹ 2 لاکھ سے اوپر کیش میں وصول نہ کی جائے
---
🔚 اختتامی پیغام:

> سیکشن 21S صرف ایک قانونی شرط نہیں بلکہ ایک معاشی تبدیلی کی بنیاد ہے۔
جو تاجر اور کاروباری حضرات وقت پر اس کے تقاضوں کو سمجھ کر عمل کریں گے، وہ نہ صرف ٹیکس کے بوجھ سے بچیں گے بلکہ اپنے کاروبار کو بھی دستاویزی، شفاف اور مستحکم بنا سکیں گے۔
---
📢 اب وقت ہے کہ ہم سب تاجر، دکاندار، ڈسٹریبیوٹرز اور بزنس مالکان مل کر اس قانون کو سمجھیے، اس پر عمل کیجیے اور پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھائیے۔

انکم ٹیکس قانون 2001 میں نئی شق کا اضافہ ہوا ہے۔۔
اس کا اطلاق کاروباری حضرات پر یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔۔

01/07/2025

2025 میں پاکستان میں ATM سے نقد رقم نکالنے کے چارجز، حدود اور ٹیکس کی مکمل تفصیل

موجودہ دور میں اے ٹی ایم (ATM) کے ذریعے نقد رقم نکالنا ایک عام اور ضروری سہولت بن چکی ہے۔ تاہم، اکثر صارفین کو اس سہولت سے وابستہ چارجز، حدود اور ٹیکس سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ درج ذیل تفصیل 2025 میں پاکستان میں لاگو ہونے والے اہم نکات پر مشتمل ہے تاکہ صارفین باخبر رہ کر مالی فیصلے کر سکیں۔

---

1۔ اپنی بینک کی ATM سے رقم نکالنا

اگر آپ اپنے ہی بینک کی ATM مشین سے رقم نکالتے ہیں تو کوئی بھی چارجز لاگو نہیں ہوتے۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہے۔

---

2۔ دوسری بینک کی ATM سے رقم نکالنے کے چارجز

اگر آپ کسی دوسرے بینک کی ATM سے رقم نکالتے ہیں (1-Link نیٹ ورک کے ذریعے)، تو ہر ٹرانزیکشن پر تقریباً PKR 23.44 سے PKR 25 تک کا چارج لاگو ہوتا ہے۔

---

3۔ بین الاقوامی ATM سے رقم نکالنے کے چارجز

اگر آپ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ATM کے ذریعے رقم نکالتے ہیں تو چارجز درج ذیل میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرتے ہیں:

2% سے 8% تک نکالی گئی رقم کا

یا پھر PKR 300 سے PKR 1,000 تک فکس چارج

یہ آپ کے بینک کی پالیسی پر منحصر ہوتا ہے۔

---

4۔ روزانہ کی نقد رقم نکالنے کی حد (ATM Limit)

کارڈ کی قسم کے مطابق روزانہ کی نکالنے کی حد مختلف ہوتی ہے:

کارڈ کی قسم روزانہ حد

اسٹینڈرڈ ڈیبٹ کارڈ PKR 25,000 – 50,000
پریمیم کارڈ PKR 500,000 تک
غیر ملکی ڈیبٹ کارڈ USD 200 – 500 کے مساوی

زیادہ رقم نکالنے کے لیے اکثر بینک اجازت کے ساتھ حد میں اضافہ کرتے ہیں۔

---

5۔ کیش نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس (Withholding Tax)

اگر ایک دن میں PKR 50,000 سے زائد کیش نکالا جائے تو ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے:

فائلر کی حیثیت ٹیکس کی شرح

فائلر (Active Taxpayer) 0.3%
نان فائلر 0.6%

یہ ٹیکس تمام اکاؤنٹس کو ملا کر لگایا جاتا ہے اور بینک خود بخود کٹوتی کرتا ہے۔

---

6۔ ڈیبٹ کارڈ اور SMS الرٹس کی سالانہ فیس

بینک مختلف قسم کے ڈیبٹ کارڈز اور سروسز کے لیے سالانہ فیس وصول کرتے ہیں۔ مثالیں:

بینک کا نام ڈیبٹ کارڈ فیس SMS الرٹ فیس

میزان بینک PKR 500 – 4,500+ تقریباً PKR 1,800 سالانہ
ایچ بی ایل (HBL) PKR 1,000 – 5,000+ تقریباً PKR 2,000 سالانہ
الائیڈ بینک PKR 1,000 – 7,000+ تقریباً PKR 2,000 سالانہ

یہ چارجز کارڈ کی قسم (کلاسک، گولڈ، پلاٹینم) پر منحصر ہوتے ہیں۔

---

7۔ اخراجات سے بچنے کے طریقے

ہمیشہ اپنے بینک کی ATM استعمال کریں۔

فائلر بنیں تاکہ ٹیکس کم ہو۔

اگر آپ بڑی رقم نکالتے ہیں تو پریمیم کارڈ استعمال کریں۔

آن لائن بینکنگ یا موبائل ایپس استعمال کر کے ATM فیس سے بچا جا سکتا ہے۔

---

اختتامی کلمات

سال 2025 میں ATM کے ذریعے نقد رقم نکالنے کے اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بینکوں کے درمیان نکالے گئے فنڈز اور ٹیکس پالیسیوں کے تحت۔ لیکن اگر آپ باخبر ہیں، تو آپ آسانی سے ان چارجز سے بچ سکتے ہیں یا کم کر سکتے ہیں۔

For More Updates
03006405477.03336475477

27/06/2025
18/06/2025

*فنانس بل 2025-26 کے تحت ایک اہم ترمیم انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی گئی ہے، جس کے ذریعے نئے سیکشن 114C کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سیکشن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ "اہل فرد" (Eligible Person) کون ہوتا ہے، جو مخصوص بڑے مالی لین دین (جیسے جائیداد یا گاڑی کی خریداری) کے لیے ضروری ہے۔*

*ایک فرد یا ادارہ "اہل" اُس وقت تصور کیا جائے گا جب وہ درج ذیل دو شرائط پر پورا اُترتا ہو:*

*1. ٹیکس ریٹرن فائل کرنا:*

*فرد یا ادارے نے اُس ٹیکس سال سے فوری پچھلے سال کا انکم ٹیکس ریٹرن فائل کیا ہو، جس سال میں وہ لین دین کر رہا ہے (مثلاً زمین یا گاڑی کی خرید)۔*
*اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شخص مسلسل ٹیکس نیٹ میں موجود ہے اور ٹیکس فائلنگ میں تسلسل رکھتا ہے۔*

*2. ظاہر کردہ وسائل:*

*فرد نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ (wealth statement) میں یا ادارہ نے اپنی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں اتنے وسائل ظاہر کیے ہوں جو مجوزہ لین دین کی مالیت کو جواز فراہم کرتے ہوں۔*
*اس کا مقصد یہ ہے کہ غیر ظاہر شدہ دولت کو استعمال کر کے اثاثے خریدنے سے روکا جا سکے۔*

*خلاصہ:*

*یہ نئی قانونی شق خاص طور پر ریئل اسٹیٹ اور گاڑیوں کی خرید و فروخت جیسے شعبوں میں ٹیکس چوری کے سدب

16/06/2025

*السلام علیکم*

*_اہم انفارمیشن_*

جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2025 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.

2) 2024-25 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.

3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.

4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.

5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.

7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.

8) اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.

9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.

10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.

11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.
12) اگر بیرون ممالک سے Foreign remittance وصول کیے ہیں تو اسکا FRC بینک سرٹیفکیٹ.

*~ایک دن کا کام سال بھر آرام~*

مزید معلومات کے لیے بلا جھجک رابطہ کر سکتے ہیں.
ملک قمر الطا ف ماڑھا ایڈوکیٹ /ٹیکس کنسلٹنٹ 03006405477.03336475477

INCOME TAX / SALES TAX / COMPANY REGISTRATION / FARM REGISTRATION

11/06/2025

Tax rate on profit on debt has been proposed to be increased from 15% to 20%. The dividend tax rate has been enhanced to 25% & 15% on dividend from mutual funds.

11/06/2025

📊 بجٹ 2025 کی جھلکیاں

🔹 نان فائلرز اب گاڑیاں یا جائیداد نہیں خرید سکیں گے، نہ ہی بینک اکاؤنٹ کھول سکیں گے۔
🔹 آن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جس کی وصولی کوریئر کمپنیاں کریں گی۔
🔹 فیملی پنشن کی مدت اب شریک حیات کے انتقال کے بعد صرف 10 سال تک محدود ہوگی۔ ایک سے زائد پنشنز کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔
🔹 ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ ملازمت کی صورت میں تنخواہ یا پنشن میں سے صرف ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
🔹 سولر پینلز کی درآمدات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کی تجویز۔
🔹 جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز:
◽ 4% to 2.5%
◽ 3.5% to 2%
◽ 3% to 1.5%
🔹 کمرشل جائیدادوں، پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر عائد 7 فیصد تک کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز۔
🔹 کم لاگت گھروں (10 مرلے یا 2000 اسکوائر فٹ تک) کی تعمیر پر ٹیکس کریڈٹ متعارف کرایا جا رہا ہے۔
🔹 اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی تجویز۔
🔹 الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے پٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پانچ سالہ لیوی لگانے کی تجویز، حاصل شدہ ریونیو نئی EV پالیسی 2026–30 پر خرچ ہوگا۔
🔹 ٹیکس چوری میں ملوث افراد پر جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے تک کرنے کی تجویز۔

Address

47/A Model Town

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Harris Tax Law Associate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Harris Tax Law Associate:

Share