Rapid Tax Consultants

Rapid Tax Consultants Tax Consulting Services

"We have the experience and knowledge to save you money on your taxes"

سرچارج کے حوالے سے پاکستاں ٹیکس بار ایسوسی ایشن  کا چئیرمین ایف بی آر کے نام خطپاکستان ٹیکس بار ایسو سی ایشن نے چئیر مین...
02/07/2026

سرچارج کے حوالے سے پاکستاں ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا چئیرمین ایف بی آر کے نام خط
پاکستان ٹیکس بار ایسو سی ایشن نے چئیر مین ایف بی آر کے نام ایک محبت نامہ لکھ بھیجا ہے اور انہیں بتانے کی کوشش کی قانون کے مطابق آپ ٹیکس ائیر 2025 کے لئے 25،000 والا سرچارج نہیں لگا سکتے ، مہربانی کر کے عنایت خسروانہ سے کام لیتے ہوئے پرال کو کہیں کہ سسٹم کو کریکٹ کریں یہ قانون ریٹراسپیکٹو نہیں پراسپیکٹو یعنی آنے والے سالوں کے لئے نافذ ہونا چاہیئے دوسرے لفظوں میں دو ہزار چھبیس کی ریٹرن اگر کوئی شخص وقت پر فائل نہیں کرتا تو اس کے لئے نافذ ہونا بنتا ہے۔۔
اگر آپ یہ بھی نہیں کرتے تو کم از کم تب تک پچیس ہزار پر عمل درآمد رکوا دیں جب تک آئرس پورٹل پر 2026 کی ریٹرن دستیاب نہیں ہوتی

فاٹا / پاٹا کی ایگزیمپشن ختم۔ فنانس ایکٹ میں ایک اہم ترین تبدیلی فاٹا پاٹا کی ایگزیمپشن کا ختم ہونا ہے۔ یہ ایگزیمپشن سیک...
30/06/2026

فاٹا / پاٹا کی ایگزیمپشن ختم۔
فنانس ایکٹ میں ایک اہم ترین تبدیلی فاٹا پاٹا کی ایگزیمپشن کا ختم ہونا ہے۔ یہ ایگزیمپشن سیکنڈ شیڈٰول کے پارٹ 1 کے کلاز 145 اے اور سیکنڈ شیڈیول کے پارٹ 4 کے کلاز 109 اے اور 110 میں موجود تھی۔
پچھلے سال اسے 30 جون 2026 تک ایکسٹینڈ کیا گیا تھا جس کی مزید ایکسٹینشن نہیں دی گئی

پراپرٹی کے سیل پرچیز پر لیٹ فائلر والے ریٹس ختم کردیئے گئے
29/06/2026

پراپرٹی کے سیل پرچیز پر لیٹ فائلر والے ریٹس ختم کردیئے گئے

Clarification regarding Bank Balance on 30 Jun 2026
22/06/2026

Clarification regarding Bank Balance on 30 Jun 2026

Decrease Tax Rates on Property 236K & 236C in Budget for FY 2026-27Decrease Tax Slab Rates on Salary income in Budget fo...
20/06/2026

Decrease Tax Rates on Property 236K & 236C in Budget for FY 2026-27

Decrease Tax Slab Rates on Salary income in Budget for FY 2026-27

16/06/2026

:ٹیکس ریٹرن 2026 ضروری ھدایات
جیسا کہ آپکو معلوم ہے 30 جون آ رہا ہے اور جولائی کے مہینہ سے 2026 کے گوشوارے جمع ہونے شروع ہو جائیں گے. تو آپ مندرجہ زیل ہدایات پر عمل کرلیں.

1) اپنا بینک بیلنس اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ کے مطابق کر لیں اضافی رقم بینک سے نکلوا لیں. ورنہ اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کرنی مشکل کو جائے گی.
2) 2025-26 سال کے دوران جو پراپرٹی بیچی یاں خریدی ہے اسکا ڈیٹا اکٹھا کر لیں. ایڑریس قیمت مرلے وغیرہ.
3) اپنی سالانہ انکم کیلکولیٹ کر لیں. تنخواہ یاں کاروباری انکم.
4) اپنے سالانہ اخراجات ہیڈ وائیز لکھ لیں.
5) ٹیکس کٹوتیاں سیکشن وائیز لکھ لیں. مثلاً Deduction certificate on electricity bill, mobile bill, bank account, tax deduction on goods sales purchase.

6)اگر کوئی پلاٹ اقساط پر لیا ہوا ہے تو کتنی اقساط ادا ہو گئ کتنی بقایا.
7) اگر کوئی انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے تو اسکی تفصیل.
8) اگر کوئی گاڑی لیز پر لی ہوئی ہے تو اسکی اقساط کی تفصیل.
9) اگر سال کے دوران سونا خریدا یاں بیچا ہے تو اسکی تفصیل.
10) اگر بینک سے قرض لیا ہوا اسکی تفصیل.
11) اگر سال کے دوران کوئی گفٹ (پلاٹ، گاڑی) ملا ہو تو اسکا اسٹام پیپر.

🚨 **FBR کا بڑا فیصلہ — لیٹ فائلرز کے لیے جرمانہ 25 گنا بڑھ گیا!**فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے بجٹ 2026-27 میں انکم ٹیکس...
13/06/2026

🚨 **FBR کا بڑا فیصلہ —
لیٹ فائلرز کے لیے جرمانہ 25 گنا بڑھ گیا!**

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے بجٹ 2026-27 میں انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 182A میں ترمیم کرتے ہوئے لیٹ فائلنگ کا جرمانہ **1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے** کر دیا ہے۔

---

⚡ **پہلے کیا تھا؟**
پہلے اگر آپ نے ریٹرن وقت پر جمع نہیں کرائی تھی تو صرف **1,000 روپے** لیٹ سرچارج ادا کرکے فعال فائلر بن سکتے تھے۔

🔴 **اب کیا ہوگا؟**
اب یہی کام کرنے کے لیے **25,000 روپے** جرمانہ ادا کرنا لازمی ہوگا۔

---

👥 **یہ کس کو متاثر کرے گا؟**

1️⃣ **پراپرٹی خریدنے یا بیچنے والے** — جو صرف پراپرٹی ٹرانزیکشن کے وقت فائلر بنتے تھے، اب انہیں 25,000 روپے ادا کرنے ہوں گے

2️⃣ **غیر فعال فائلرز** — جنہوں نے ایک آدھ سال ریٹرن جمع کرائی پھر چھوڑ دی، دوبارہ فعال ہونے کے لیے 25,000 روپے لگیں گے

3️⃣ **ٹیکس بچانے کے لیے آخری وقت میں فائل کرنے والے** — یہ "سستی" حکمت عملی اب بہت مہنگی پڑے گی

4️⃣ **تاجر، زمین دار اور چھوٹے کاروباری** — جو ضرورت پڑنے پر ریٹرن جمع کراتے تھے

---

⚠️ **خبردار!**
فعال فائلر نہ ہونے کی صورت میں پراپرٹی، گاڑی، بینک معاملات اور دیگر ٹرانزیکشنز پر پہلے سے ہی بھاری ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے — اور اب اوپر سے 25,000 روپے الگ جرمانہ بھی دینا ہوگا۔

---

💡 **کیا کریں؟**
✅ ابھی فوری طور پر اپنی انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں
✅ ہر سال **30 ستمبر** سے پہلے ریٹرن بھرنے کی عادت ڈالیں
✅ FBR کی ویب سائٹ پر اپنا فائلر اسٹیٹس چیک کریں
✅ کسی مستند ٹیکس کنسلٹنٹ سے رہنمائی لیں
@

‏ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت...
05/06/2026

‏ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت یہ سکیم تاجر اور دکاندار تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔ اُردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا فارم بنایا گیا ہے جو سادہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سکیم کا اُردو میں سادہ فارم، ایف بی آر کی پلیٹ اور اس سکیم کی دیگر تفصیلات

حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سسٹم  متعارف کرادی
05/06/2026

حکومت نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرادی

05/06/2026

پاکستان میں مختلف آمدنی کے ذرائع جیسے تنخواہ، ریٹیلر، مینوفیکچرر، ڈسٹری بیوٹر اور زرعی آمدنی پر ٹیکس کا نظام مختلف ہوتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے تحت لاگو ہوتا ہے اور یہ تنخواہ سے براہِ راست کٹوتی کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے، جس میں آمدنی کے مطابق مختلف سلیبز ہوتے ہیں جو کم آمدنی پر صفر فیصد سے شروع ہو کر زیادہ آمدنی پر تقریباً پینتیس فیصد تک جا سکتے ہیں۔ ریٹیلر یا تاجر طبقے پر بھی انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے لیکن ان کی آمدنی اکثر اندازے یا ٹرن اوور کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے اور ان پر کم از کم ٹیکس یا ایڈوانس ٹیکس کا نظام بھی نافذ ہوتا ہے۔

مینوفیکچرر یعنی صنعت کار طبقے پر کمپنی ٹیکس لاگو ہوتا ہے جو عموماً منافع پر تقریباً انتیس فیصد کے قریب ہوتا ہے، اور بڑی کمپنیوں پر اضافی سپر ٹیکس بھی لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اکاؤنٹنگ اور سیلز ٹیکس کے نظام کی مکمل پابندی بھی کرنی پڑتی ہے۔ ڈسٹری بیوٹر یا ہول سیلر طبقہ بھی کاروباری انکم ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے اور ان پر بھی اسی طرح کا سلیب یا ٹرن اوور کی بنیاد پر ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے، ساتھ ہی مختلف لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی کٹتا ہے۔

زرعی آمدنی کا معاملہ باقی شعبوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ زیادہ تر صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور وفاقی سطح پر اس پر عام طور پر ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بعض صوبوں میں زرعی آمدنی پر محدود اور کم شرح سے ٹیکس موجود ہے لیکن مجموعی طور پر یہ شعبہ دیگر شعبوں کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کرتا ہے۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ منظم اور براہِ راست ٹیکس نظام میں آتا ہے، مینوفیکچرنگ شعبہ زیادہ باقاعدہ اور بھاری ٹیکس دیتا ہے، جبکہ ریٹیلر اور ڈسٹری بیوٹر نسبتاً پیچیدہ اور اندازے پر مبنی نظام کے تحت ٹیکس دیتے ہیں، اور زرعی آمدنی سب سے کم ٹیکس والے شعبوں میں شمار ہوتی ہے۔

Address

House No 2 Zafar Colony
Bannu

Telephone

+923360975141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rapid Tax Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rapid Tax Consultants:

Share