06/11/2021
ہم سب ہی کم وبیش اپنی حثیت کے مطابق مہنگائی سے تنگ ہیں۔ مہنگائی ایک اٹل حقیقت ہے ہم میں سے کوئی اس کو کم نہیں کر سکتا لیکن کیا ہم وہ کر رہے ہیں جس سے اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی قوت خرید بڑھا رہے ہیں یا کم از کم کوشش کر رہیے ہیں؟ کیا ہم صرف ایک نوکری پر اکتفا کرکے بیٹھے ہیں اور باقی تمام وقت انٹرنیٹ پر دوسروں کو کوسنے میں صرف کر دیتے ہیں؟کیا ہم نوکری کے ساتھ چھوٹا موٹا کاروبار ،فری لانسینگ یا دیگر جدید ہنر حاصل کرنے میں اپنا وقت لگاتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بیوی بہنوں کو آج بھی نوکری کرنے یا خودمختار ی کی طرف راغب کرتے ہیں یا ان اس میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو سکول کالج یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ہنر اور پارٹ ٹائم جاب کرنے کی ترغیب دیتے ہیں؟ کیا ہم کچھ عملی کر بھی رہے ہیں یا صرف وقت برباد کر ہے ہیں؟ یا صرف کسی کرشمہ کے انتظار میں ہیں؟
اگر ہم اپنی قوت خرید بڑھا نہیں رہے تو زیادہ قصوروار کون ہوا؟ یاد رکھیں ہمیں صرف مہنگائی تب لگتی ہے جب ہماری آمدنی کم ہو یا وہ بڑھ نہیں رہی ہو۔ایک کوئی بھیاچھی کار میرے لیے آپ کیلے مہنگی ہوسکتی ہے لیکن وہی کار آج ہزاروں کے حساب سے فراغت بھی ہوتی ہے۔
مہنگائی مسئلہ ہی نہیں ہے نہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔چیزیں ہمیشہ بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوتی۔ کم آمدنی ہمارا مسئلہ ہے ہم جتنی جلدی اس کو سمجھ لیں گے ہم اتنی جلدی اس بھنور سے نکل اآئیں گے۔یا کم از کم آج جو ہماری موجودہ حالت ہے اس سے بہتر ہو جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ رازق ہے لیکن دیتا صرف اس کو ہے جو اس کیلیے سچے دل سے کوشش کرتا یے
صاحب استطاعت اور مالدار لوگوں کو بھی سمجھنا ہوگا بے شک اللہ نے آپ لوگوں کو سب دیا ہے لیکن آپ کو باقی عوام کی خاطر اور کاروبار کرنے اور ب موجودہ کاروبار کو بڑھانے ہوں گے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے بے شک اس سے منافع نہ ہو آپ کے وسیلے سے کسی کا چولہا چل جائے اس سے بڑی اطمینان کی بات کیا ہوگی۔۔ آپ کے کاروبار یا اچھی آمدنی کے بعد خرچوں سے ہی معیشت اور لوگوں روزگار وابستہ ہوتے ہیں جسے کبھی کم نہ کریں آپ کیلئے خرچہ کسی کیلے روزگار ہوتا ہے اس کا منافع ہوتا ہے۔ اس کئلے ہمیں اپنے پورے خاندان خصوصی طور پر عورتوں کو صرف گھر کے کام کاجوں سے نکال کر عملی زندگی میں اپنے ساتھ محنت کروانا پڑے گے ان کو فریلانسنگ کے ہنر سکھانا پڑیں گے خصوصی طور پر azon eBay Facebook Shopify ebay etc ۔ صرف Amazon کی سالانہ سیل پورے پاکستان کی معیشت کے حجم سے دوگنی ہیں جو اور ب ہر سالڑھیں گی ہی کم نہیں ہوں گی۔ ہم نے مل کر کچھ عرصہ پہلے Amazon کا کاروبار شروع کیا اور تین مہینے کی سیل $15000 بغیر کسی انویسٹمنٹ کے(امریکن کریڈٹ کارڈ کی وجہ سے) ہو گی جس کا منافع 18% ہے۔ کریڑٹ کارڈ کی لمٹ کم ہے ورنہ یہی کروڑوں میں جا سکتی ہیں۔ ایسے سینکڑوں ہنر جو بغیر کسی پیسے کے شروع ہو سکتے ہیں لیکن اس کیلیے بہت سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہیے۔آپ میں کسی کو بھی کوئی بھی ہنر سے مطالق معلومات درکار ہوں آپ ہم سے کے سکتے ہیں لیکن خدارا کوشش کریں نتائج کی پرواہ نہ کریں۔نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔لکھنے اور سمجھانے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ باقی پھر کبھی صیح۔۔۔کوئی بھی گریجویٹ لڑکی آسلام آباد آفس میں مفت dropshipng سیکھنا چاہتی وہ پرائیویٹ رابطہ کرلے۔شکریہ۔