H and H Tax Consultant

H and H Tax Consultant Be FBR active filer in just 10 minutes.Just Contact Tax experts.H&H TAX CONSULTANT

✅ NTN Registration & Filer✅ Income Tax Returns Filing✅ Business Registration with FBR✅ FBR Sales Tax Registration✅ Sales...
24/05/2026

✅ NTN Registration & Filer
✅ Income Tax Returns Filing
✅ Business Registration with FBR
✅ FBR Sales Tax Registration
✅ Sales Tax Returns Filing
✅ Sole Proprietor Tax Returns Filing
✅ Partnership Tax Returns Filing
✅ SMC Income Tax Returns Filing
✅ Company Income Tax Returns Filing
✅ Pensioners Tax Returns Filing
✅ NRPs (Overseas Pakistanis) Tax Returns Filing
✅ Freelancers Tax Returns Filing
✅ 7E Certificate
H and H Tax Consultant
0334-5392596

20/05/2026

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!

پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک ضرور کریں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں

H&H Tax Consultant
0334 5392596
0343 5703601
Capital Development Authority - CDA, Islamabad H and H Tax Consultant Freelance Pakistan Games Company Registration Consultant GST- Sales Tax in Pakistan Fiverr FBR Income Tax Services Bahria Town DHA Islamabad-Rawalpindi The Bank of Punjab

18/05/2026

کبھی سوچا ہے ایف بی آر کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی دولت declared income سے زیادہ ہے؟
دولت چھپانا شاید آسان ہو… مگر اس کا ریکارڈ چھپانا نہیں!

سیکشن 111 آف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 پاکستان کے ٹیکس قوانین کی سب سے زیادہ زیرِ بحث اور طاقتور شقوں میں شمار ہوتا ہے۔ عام زبان میں اسے “Unexplained Income or Assets” یعنی “غیر ظاہر شدہ آمدن یا اثاثے” والا قانون کہا جاتا ہے۔ جب ایف بی آر کو یہ محسوس ہو کہ کسی شخص کے اثاثے، اخراجات یا بینک ٹرانزیکشنز اس کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، تو سیکشن 111 حرکت میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پراپرٹی، گاڑیوں، بینک اکاؤنٹس، بیرونِ ملک رقوم اور کاروباری سرمایہ کاری کے کیسز میں اس سیکشن کا استعمال بہت عام ہے۔
اس سیکشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی ایسی دولت یا اخراجات کی وضاحت کرے جن کا قانونی ذریعہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اگر کسی فرد کے پاس ایسی رقم، اثاثہ یا سرمایہ کاری پائی جائے جس کا ذریعہ واضح نہ ہو، تو کمشنر ان لینڈ ریونیو اسے “ان ایکسپلینڈ” تصور کرتے ہوئے قابلِ ٹیکس آمدن قرار دے سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، قانون یہ پوچھتا ہے کہ “یہ پیسہ آیا کہاں سے؟”
سیکشن 111 مختلف صورتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے قیمتی جائیداد خریدی ہو، مہنگی گاڑی لی ہو، بھاری بینک ٹرانزیکشنز کی ہوں، یا اپنے اخراجات اپنی declared income سے کہیں زیادہ کیے ہوں، تو ایف بی آر اس سے وضاحت طلب کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے اثاثے اس کی معلوم آمدن سے زیادہ ہوں تو اسے بھی اس سیکشن کے تحت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس قانون کا ایک اہم حصہ “Burden of Proof” یعنی ثبوت کی ذمہ داری ہے۔ سیکشن 111 میں ابتدا میں ذمہ داری ٹیکس دہندہ پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں یا رقوم کا جائز اور دستاویزی ذریعہ ثابت کرے۔ اگر وہ بینک ریکارڈ، معاہدے، گفٹ ڈیڈ، وراثتی دستاویزات یا دیگر ثبوت فراہم کر دے تو ایف بی آر کو انہیں قانونی طور پر جانچنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر مناسب وضاحت نہ دی جائے تو وہ رقم قابلِ ٹیکس آمدن تصور کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں اس سیکشن کے تحت سب سے زیادہ تنازع “Gift”، “Loan”، اور “Foreign Remittance” کے معاملات میں سامنے آتا ہے۔ ماضی میں بہت سے لوگ بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کو بطور دفاع استعمال کرتے تھے، لیکن عدالتوں نے واضح کیا کہ صرف بینکنگ چینل سے رقم آ جانا کافی نہیں، بلکہ اس کا اصل ذریعہ اور حقیقی مالک بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔ اگر ٹرانزیکشن صرف کاغذی ہو یا اس میں حقیقی مالی صلاحیت ثابت نہ ہو سکے تو ایف بی آر اسے مسترد کر سکتا ہے۔۔
ایک اہم قانونی پہلو “Benami” اور “Accommodation Entries” سے متعلق بھی سامنے آیا ہے۔ اگر کسی شخص کے نام پر اثاثے ہوں مگر اصل مالک کوئی اور ہو، یا صرف کاغذی ٹرانزیکشنز کے ذریعے پیسہ سفید کرنے کی کوشش کی گئی ہو، تو سیکشن 111 کے ساتھ دیگر قوانین بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے بڑے مالیاتی کیسز میں یہ سیکشن اکثر اینٹی منی لانڈرنگ اور بینامی قوانین کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔
سیکشن 111 میں “Foreign Remittance” کا تصور بھی کافی اہم رہا ہے۔ ایک عرصے تک قانون میں یہ سہولت موجود تھی کہ بیرونِ ملک سے بینکنگ چینل کے ذریعے آنے والی رقم پر سوال محدود ہوتے تھے، لیکن بعد میں عدالتوں اور قانون سازی کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اگر رقوم مشکوک ہوں یا ان کے پیچھے حقیقی earning capacity ثابت نہ ہو تو ایف بی آر تحقیقات کر سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے بے نامی اور مصنوعی remittances کے کئی راستے بند کیے۔
سیکشن 111 میں سب سے اہم قانونی بحث “Limitation” یعنی وقت کی حد پر ہوتی ہے۔ عام طور پر قانون کے تحت کمشنر گزشتہ پانچ سال تک کے اثاثوں اور ٹرانزیکشنز کی وضاحت طلب کر سکتا ہے، جبکہ بعض مخصوص حالات میں یہ مدت دس سال تک بھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ پرانے اثاثوں پر کارروائی مخصوص قانونی شرائط اور شواہد سے مشروط ہوتی ہے۔ اسی لیے پرانے مالیاتی ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور جائیداد کی دستاویزات محفوظ رکھنا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ سیکشن 111 کے تحت صرف اضافی ٹیکس ہی نہیں لگتا بلکہ اس کے ساتھ سخت مالی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر کوئی اثاثہ غیر ظاہر شدہ یا غیر قانونی ثابت ہو جائے تو اس پر نارمل ریٹ سے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، ساتھ ہی بھاری Penalty اور Default Surcharge بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ بعض سنگین معاملات میں کیس مزید قانونی کارروائی یا prosecution تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
عدالتوں نے مختلف فیصلوں میں یہ اصول بھی واضح کیا کہ سیکشن 111 کا استعمال محض شک، اندازے یا قیاس آرائی پر نہیں کیا جا سکتا۔ ایف بی آر کو پہلے معقول material اور evidence دکھانا ہوتا ہے کہ declared income اور اصل اثاثوں میں واضح فرق موجود ہے۔ اگر ٹیکس دہندہ مکمل ریکارڈ فراہم کر دے تو افسر صرف مفروضوں کی بنیاد پر آرڈر پاس نہیں کر سکتا۔
پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سیکشن 111 صرف ایک ٹیکس قانون نہیں بلکہ “Financial Transparency” کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ قانون ٹیکس دہندہ کو مجبور کرتا ہے کہ اس کے اثاثے، اخراجات اور مالی سرگرمیاں اس کی declared income کے مطابق ہوں۔ اسی لیے ٹیکس ماہرین ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں کہ جائیداد، گاڑی، گفٹس، قرض یا بیرونِ ملک رقوم کے مکمل دستاویزی ثبوت محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی انکوائری کے دوران قانونی تحفظ حاصل رہے۔
مختصراً، سیکشن 111 حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ غیر ظاہر شدہ دولت، مشکوک سرمایہ کاری اور نامعلوم ذرائع آمدن کی جانچ کر سکے، لیکن عدالتوں نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس اختیار کا استعمال انصاف، شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ٹیکس نظام میں سیکشن 111 کو سب سے حساس اور مؤثر قانونی شقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک اور شیئر کردیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حق کو جان سکیں...
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
H&H Tax Consultant
Your Trusted Tax Partner
0334 5392596
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralvideofbreels2025ツfbreelsfypシ゚viralvideo ゚viralシ

14/05/2026
کبھی سوچا ہے ایف بی آر کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی دولت declared income سے زیادہ ہے؟دولت چھپانا شاید آسان ہو… مگر اس کا...
14/05/2026

کبھی سوچا ہے ایف بی آر کو کیسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی دولت declared income سے زیادہ ہے؟
دولت چھپانا شاید آسان ہو… مگر اس کا ریکارڈ چھپانا نہیں!

سیکشن 111 آف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 پاکستان کے ٹیکس قوانین کی سب سے زیادہ زیرِ بحث اور طاقتور شقوں میں شمار ہوتا ہے۔ عام زبان میں اسے “Unexplained Income or Assets” یعنی “غیر ظاہر شدہ آمدن یا اثاثے” والا قانون کہا جاتا ہے۔ جب ایف بی آر کو یہ محسوس ہو کہ کسی شخص کے اثاثے، اخراجات یا بینک ٹرانزیکشنز اس کی ظاہر کردہ آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، تو سیکشن 111 حرکت میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پراپرٹی، گاڑیوں، بینک اکاؤنٹس، بیرونِ ملک رقوم اور کاروباری سرمایہ کاری کے کیسز میں اس سیکشن کا استعمال بہت عام ہے۔
اس سیکشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی ایسی دولت یا اخراجات کی وضاحت کرے جن کا قانونی ذریعہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اگر کسی فرد کے پاس ایسی رقم، اثاثہ یا سرمایہ کاری پائی جائے جس کا ذریعہ واضح نہ ہو، تو کمشنر ان لینڈ ریونیو اسے “ان ایکسپلینڈ” تصور کرتے ہوئے قابلِ ٹیکس آمدن قرار دے سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، قانون یہ پوچھتا ہے کہ “یہ پیسہ آیا کہاں سے؟”
سیکشن 111 مختلف صورتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے قیمتی جائیداد خریدی ہو، مہنگی گاڑی لی ہو، بھاری بینک ٹرانزیکشنز کی ہوں، یا اپنے اخراجات اپنی declared income سے کہیں زیادہ کیے ہوں، تو ایف بی آر اس سے وضاحت طلب کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے اثاثے اس کی معلوم آمدن سے زیادہ ہوں تو اسے بھی اس سیکشن کے تحت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس قانون کا ایک اہم حصہ “Burden of Proof” یعنی ثبوت کی ذمہ داری ہے۔ سیکشن 111 میں ابتدا میں ذمہ داری ٹیکس دہندہ پر ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں یا رقوم کا جائز اور دستاویزی ذریعہ ثابت کرے۔ اگر وہ بینک ریکارڈ، معاہدے، گفٹ ڈیڈ، وراثتی دستاویزات یا دیگر ثبوت فراہم کر دے تو ایف بی آر کو انہیں قانونی طور پر جانچنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر مناسب وضاحت نہ دی جائے تو وہ رقم قابلِ ٹیکس آمدن تصور کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں اس سیکشن کے تحت سب سے زیادہ تنازع “Gift”، “Loan”، اور “Foreign Remittance” کے معاملات میں سامنے آتا ہے۔ ماضی میں بہت سے لوگ بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کو بطور دفاع استعمال کرتے تھے، لیکن عدالتوں نے واضح کیا کہ صرف بینکنگ چینل سے رقم آ جانا کافی نہیں، بلکہ اس کا اصل ذریعہ اور حقیقی مالک بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔ اگر ٹرانزیکشن صرف کاغذی ہو یا اس میں حقیقی مالی صلاحیت ثابت نہ ہو سکے تو ایف بی آر اسے مسترد کر سکتا ہے۔۔
ایک اہم قانونی پہلو “Benami” اور “Accommodation Entries” سے متعلق بھی سامنے آیا ہے۔ اگر کسی شخص کے نام پر اثاثے ہوں مگر اصل مالک کوئی اور ہو، یا صرف کاغذی ٹرانزیکشنز کے ذریعے پیسہ سفید کرنے کی کوشش کی گئی ہو، تو سیکشن 111 کے ساتھ دیگر قوانین بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے بڑے مالیاتی کیسز میں یہ سیکشن اکثر اینٹی منی لانڈرنگ اور بینامی قوانین کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔
سیکشن 111 میں “Foreign Remittance” کا تصور بھی کافی اہم رہا ہے۔ ایک عرصے تک قانون میں یہ سہولت موجود تھی کہ بیرونِ ملک سے بینکنگ چینل کے ذریعے آنے والی رقم پر سوال محدود ہوتے تھے، لیکن بعد میں عدالتوں اور قانون سازی کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اگر رقوم مشکوک ہوں یا ان کے پیچھے حقیقی earning capacity ثابت نہ ہو تو ایف بی آر تحقیقات کر سکتا ہے۔ اس تبدیلی نے بے نامی اور مصنوعی remittances کے کئی راستے بند کیے۔
سیکشن 111 میں سب سے اہم قانونی بحث “Limitation” یعنی وقت کی حد پر ہوتی ہے۔ عام طور پر قانون کے تحت کمشنر گزشتہ پانچ سال تک کے اثاثوں اور ٹرانزیکشنز کی وضاحت طلب کر سکتا ہے، جبکہ بعض مخصوص حالات میں یہ مدت دس سال تک بھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ پرانے اثاثوں پر کارروائی مخصوص قانونی شرائط اور شواہد سے مشروط ہوتی ہے۔ اسی لیے پرانے مالیاتی ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور جائیداد کی دستاویزات محفوظ رکھنا انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ سیکشن 111 کے تحت صرف اضافی ٹیکس ہی نہیں لگتا بلکہ اس کے ساتھ سخت مالی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر کوئی اثاثہ غیر ظاہر شدہ یا غیر قانونی ثابت ہو جائے تو اس پر نارمل ریٹ سے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، ساتھ ہی بھاری Penalty اور Default Surcharge بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ بعض سنگین معاملات میں کیس مزید قانونی کارروائی یا prosecution تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
عدالتوں نے مختلف فیصلوں میں یہ اصول بھی واضح کیا کہ سیکشن 111 کا استعمال محض شک، اندازے یا قیاس آرائی پر نہیں کیا جا سکتا۔ ایف بی آر کو پہلے معقول material اور evidence دکھانا ہوتا ہے کہ declared income اور اصل اثاثوں میں واضح فرق موجود ہے۔ اگر ٹیکس دہندہ مکمل ریکارڈ فراہم کر دے تو افسر صرف مفروضوں کی بنیاد پر آرڈر پاس نہیں کر سکتا۔
پیشہ ورانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سیکشن 111 صرف ایک ٹیکس قانون نہیں بلکہ “Financial Transparency” کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ قانون ٹیکس دہندہ کو مجبور کرتا ہے کہ اس کے اثاثے، اخراجات اور مالی سرگرمیاں اس کی declared income کے مطابق ہوں۔ اسی لیے ٹیکس ماہرین ہمیشہ مشورہ دیتے ہیں کہ جائیداد، گاڑی، گفٹس، قرض یا بیرونِ ملک رقوم کے مکمل دستاویزی ثبوت محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی انکوائری کے دوران قانونی تحفظ حاصل رہے۔
مختصراً، سیکشن 111 حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ غیر ظاہر شدہ دولت، مشکوک سرمایہ کاری اور نامعلوم ذرائع آمدن کی جانچ کر سکے، لیکن عدالتوں نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس اختیار کا استعمال انصاف، شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ٹیکس نظام میں سیکشن 111 کو سب سے حساس اور مؤثر قانونی شقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک اور شیئر کردیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حق کو جان سکیں...
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0334 5392596
H&H Tax Consultant
Your Trusted Tax Partner
H and H Tax Consultant
Islamabad Property FBR NTN TAX Services Tax Returned Capital Development Authority - CDA, Islamabad Pakistan Cricket Team GST- Sales Tax in Pakistan DHA Islamabad-Rawalpindi Bahria Town

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Malik Dilshad Ahmad, Malik Ahmad, Shahzad Khawaja
09/05/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Malik Dilshad Ahmad, Malik Ahmad, Shahzad Khawaja

H&H Tax Consultant.Trusted Firm
09/05/2026

H&H Tax Consultant.Trusted Firm

Decision. Compliance. Expertise you can trust.We don’t guess—we deliver expert results.0334 5392596
03/05/2026

Decision. Compliance. Expertise you can trust.
We don’t guess—we deliver
expert results.
0334 5392596

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when H and H Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share