Taxis World

Taxis World NTN/ FBR Registration for Salaried Person, Sole Proprietor & Others. FILER, Income Tax & Sales Ta

PSW خدمات کی فیسوں میں اضافہ، وزارتِ خزانہ نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیاحکومتِ پاکستان کے ریونیو ڈویژن نے پاکستان سنگل ون...
24/12/2025

PSW خدمات کی فیسوں میں اضافہ،
وزارتِ خزانہ نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
حکومتِ پاکستان کے ریونیو ڈویژن نے پاکستان سنگل ونڈو (PSW) کے تحت فراہم کی جانے والی خدمات کی فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے S.R.O. 2227(I)/2025 جاری کیا گیا ہے جس کے ذریعے یکم اکتوبر 2021 کے SRO 1292(I)/2021 میں ترمیم کی گئی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق PSW سبسکرپشن، SECP ویری فکیشن فیس اور گڈز ڈکلیریشن (GD) کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی شرحیں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
PSW فیسوں میں اضافہ — نئی شرحیں جاری
نوٹیفکیشن کے مطابق PSW سبسکرپشن، اپڈیٹس اور رینیوئل کی فیس 500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ SECP ویری فکیشن کی فیس بھی 500 روپے کر دی گئی ہے۔
گڈز ڈکلیریشن فیس سامان کی مالیت کے مطابق درج ذیل نئے اسلاب سے وصول کی جائے گی:
50 ہزار روپے تک: کوئی فیس نہیں
50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک: 500 روپے
1 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک: 750 روپے
10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک: 1,000 روپے
50 لاکھ سے 1 کروڑ روپے تک: 1,250 روپے
1 کروڑ سے 2.5 کروڑ روپے تک: 1,500 روپے
2.5 کروڑ روپے سے زائد: 2,000 روپے
ریونیو ڈویژن کے مطابق فیسوں میں اضافے کا مقصد PSW کے نظام کو مزید مؤثر، مستحکم اور پائیدار بنانا ہے تاکہ تجارت، امپورٹ و ایکسپورٹ کے شعبوں میں جدید ڈیجٹل سہولیات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے

ایف بی آر حکام کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد کو’غیر فعال‘ قرار دینے سے متعلق کچھ میڈیا پل...
10/11/2025

ایف بی آر حکام کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد کو’غیر فعال‘ قرار دینے سے متعلق کچھ میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک گمراہ کن رپورٹ گردش کررہی ہے ۔ایف بی آر یہ واضح کرتا ہے کہ جن ٹیکس دہندگان نے مقررہ وقت کے اندر توسیع کی درخواست جمع کروائی ہے انہیں ایکٹیو ٹیکس دہندگان (Active Taxpayers List) کی فہرست سے نہیں نکالا گیا۔ سال 2025 کے لیے فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست ٹیکس سال 2024 میں کرائے گئے گوشواروں پر مبنی ہوگی، اور اس میں 15 نومبر 2025 تک ٹیکس سال 2025 کے تمام نئے فائلرز بھی شامل کیے جائیں گے۔

جن ٹیکس دہندگان نے سسٹم کے ذریعے توسیع کی درخواست جمع کروائی ہے انہیں چیئرمین ایف بی آر کی ہدایات کے مطابق خودکار طور پر 15 دن کی توسیع دے دی گئی ہے۔

انکم ٹیکس قواعد میں حالیہ ترامیم کے بعد گوشواروں کو دستی طور پر جمع کرانے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ سال جن افراد نے اپنے گوشوارے دستی طور پر جمع کرائے تھے انہیں ای-فائلنگ کے لیے ایک ماہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ریجنل ٹیکس آفسز کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے ٹیکس دہندگان کو مکمل معاونت فراہم کریں تاکہ ای-فائلنگ کے نظام میں با آسانی منتقلی ممکن ہو سکے۔

وہ ٹیکس دہندگان جو مقررہ تاریخ تک گوشوارے جمع نہیں کرا سکے ہیں وہ اب بھی 15 نومبر 2025 تک آن لائن سسٹم کے ذریعے متعلقہ کمشنر کو تاخیر کی معقول وجوہات بیان کرکے توسیع کی درخواست دے سکتے ہیں۔

ایف بی آر ٹیکس دہندگان کی سہولت کیلۓ پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاۓ گا کہ تمام مستند فائلرز اپنا فعال درجہ برقرار رکھیں۔ ایف بی آر شفافیت اور ٹیکس کمپلاہنس کو ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے فروغ دینے کی کوششوں کو جاری رکھے گا

📊 𝒁𝒆𝒓𝒐-𝑰𝒏𝒄𝒐𝒎𝒆 𝑻𝒂𝒙 𝑹𝒆𝒕𝒖𝒓𝒏𝒔  𝑨 𝑺𝒆𝒓𝒊𝒐𝒖𝒔 𝑪𝒐𝒏𝒄𝒆𝒓𝒏!According to the latest figures released by the FBR, 1.7 million “zero-inco...
06/11/2025

📊 𝒁𝒆𝒓𝒐-𝑰𝒏𝒄𝒐𝒎𝒆 𝑻𝒂𝒙 𝑹𝒆𝒕𝒖𝒓𝒏𝒔
𝑨 𝑺𝒆𝒓𝒊𝒐𝒖𝒔 𝑪𝒐𝒏𝒄𝒆𝒓𝒏!

According to the latest figures released by the FBR, 1.7 million “zero-income” tax returns were filed in 2025 alone!

Over the past few years, the “filer status” has turned into a mere formality —
every photocopy shop, property dealer, car agent, and even some bank staff
started filing zero returns just to make people appear as “filers.”

Now, with FBR’s advanced data monitoring and digital tracking systems 💻
it’s becoming easier to identify fake returns and unqualified tax consultants.

FBR Clarification on Taxpayer StatusFBR clarifies that no taxpayer who filed an extension application within the prescri...
06/11/2025

FBR Clarification on Taxpayer Status

FBR clarifies that no taxpayer who filed an extension application within the prescribed time has been removed from the Active Taxpayers List (ATL). The ATL for 2025 will be based on Tax Year 2024 returns, including new filers up to 15th November 2025.

Taxpayers granted extensions have an automatic 15-day grace period. Manual filing has been discontinued; however, previous manual filers are allowed a one-month facilitation period to shift to e-filing. RTOs will assist in this transition.

Those missing the deadline may still apply for an extension online until 15th November 2025, stating valid reasons.

02/11/2025

اسلام آباد، 31 اکتوبر 2025

*ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں تاریخی اضافہ، عوامی تعاون اور بڑھتی ہوئی ٹیکس تعمیل کا مظہر*
***
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جو رضاکارانہ تعمیل اور عوامی آگاہی کے نئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 31 اکتوبر 2025 تک کل 59 لاکھ ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے جا چکے ہیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران جمع کرائے گئے 50 لاکھ ریٹرنز کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

ان میں سے 36 لاکھ ٹیکس دہندگان نے اپنے ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس کی ادائیگی بھی کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 18.6 فیصد اضافہ ہے۔ مزید یہ کہ انفرادی ٹیکس دہندگان کی جانب سے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا گیا جو 60 ارب روپے سے بڑھ کر 69 ارب روپے ہو گیا جو کہ 15 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایف بی آر عوام کے بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہتا ہے اور دیانتدار ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہراتا ہے۔ ایف بی آر ٹیکس نظام کو مزید منصفانہ، شفاف اور جامع بنانے کے لیے آسان طریقہ کار، جدید ڈیجیٹل سہولتوں اور بروقت رابطے کے ذریعے اپنی خدمات جاری رکھے گا۔

یہ شاندار نتائج ایف بی آر کی مؤثر آگاہی مہم اور وزیرِاعظم آفس و وزارتِ اطلاعات کی قیادت میں حکومتِ پاکستان کے مربوط اقدامات کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد عوام میں ٹیکس دہندگی کے شعور کو اجاگر کرنا اور ڈیجیٹل ذرائع سے ریٹرن جمع کرانے کو آسان بنانا تھا۔

یہ اضافہ ایک جامع آگاہی مہم کا نتیجہ ہے جو وزیرِاعظم آفس، وزارتِ اطلاعات اور ایف بی آر کے اشتراک سے مؤثر طور پر چلائی گئی۔ اس مہم کے تحت شہریوں کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی اپنی قومی ذمہ داری یاد دلانے کے لیے ملک گیر سطح پر خودکار کالز اور واٹس ایپ پیغامات بھیجے گئے۔ مزید برآں، ایف بی آر نے تھرڈ پارٹی ڈیٹا کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کو مرحلہ وار آگاہی پیغامات بھیجے جن میں پہلے مرحلے میں تعریفی، دوسرے میں معلوماتی اور تیسرے میں تنبیہی پیغامات شامل تھے اور اس سلسلے میں تقریباً 8 لاکھ پیغامات ملک بھر میں بھیجے گئے۔

ان اقدامات کے ساتھ ساتھ تقریباً 70 ہزار ٹیکس دہندگان کو ٹارگٹڈ ای میلز بھی بھیجی گئیں جن میں ان کی آمدن کے موازنہ جاتی تخمینے دیے گئے تاکہ وہ درست اور بروقت ریٹرن جمع کرا سکیں۔
ٹیکس دہندگان کی جانب سے ان مشترکہ کوششوں پر مثبت ردِعمل ملا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار آج شام 7 بجے تک کے ہیں، جبکہ ایف بی آر کو توقع ہے کہ رات 12 بجے مقررہ وقت کے اختتام تک مزید ریٹرنز جمع ہونے سے اس تعداد میں اضافہ ہو گا۔

وزیرِاعظم کی ہدایات کے مطابق ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں کوئی عمومی توسیع نہیں کی گئی۔ تاہم، ایسے ٹیکس دہندگان جو حقیقی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ ایف بی آر کے IRIS نظام کے ذریعے متعلقہ فیلڈ فارمیشن سے رابطہ کر کے اپنے ریٹرن جمع کرانے میں توسیع کی درخواست کر سکتے ہیں۔

Date Further Extended upto 31 October, 2025
16/10/2025

Date Further Extended upto 31 October, 2025

Income Tax Return 2025 Filing Date extended upto 15 October,  2025
01/10/2025

Income Tax Return 2025 Filing Date extended upto 15 October, 2025

Further extension in Digital  invoicing integration!
26/09/2025

Further extension in Digital invoicing integration!

25/09/2025

اہم اپ ڈیٹ برائے ٹیکس دہندگان ایف بی آر کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں نئی تبدیلی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ویلتھ اسٹیٹمنٹ (Wealth Statement) میں ایک نیا خانہ شامل کر دیا ہے جسے Estimated Market Value (اندازاً مارکیٹ ویلیو) کہا جاتا ہے۔

اس تبدیلی کا مقصد کیا ہے؟
اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر ٹیکس دہندہ اپنے اثاثوں (خصوصاً جائیداد/پراپرٹی) کی نہ صرف خریداری قیمت (Cost) بلکہ موجودہ مارکیٹ ویلیو (Fair/Market Value) بھی ظاہر کرے۔ اس سے:
ٹیکس دہندگان کی اصل مالی حیثیت واضح ہوگی۔
جائیدادوں کی مارکیٹ میں اصل ویلیو ایف بی آر کے ریکارڈ میں آ جائے گی۔
انڈر ریپورٹنگ اور کم قیمت پر اثاثے ظاہر کرنے کی گنجائش کم ہو جائے گی۔

اس کے ممکنہ اثرات اور نقصانات

خریداری لاگت بمقابلہ مارکیٹ ویلیو

اگر آپ نے کئی سال پہلے کم قیمت پر جائیداد خریدی تھی، اب آپ کو اس کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ ویلیو بھی ظاہر کرنی ہوگی۔

اس سے ایف بی آر کو پتہ چلے گا کہ آپ کی نیٹ ورتھ میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

کیپیٹل گین ٹیکس (Capital Gain Tax) پر اثر

جائیداد فروخت کے وقت ایف بی آر آپ کی ڈکلیئرڈ مارکیٹ ویلیو اور سیل پرائس کو ملا کر دیکھے گا۔

اس سے "کم قیمت پر ظاہر کرنے" کی گنجائش بہت محدود ہو جائے گی۔

ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی ریکنسلی ایشن سخت ہو گی

پہلے صرف خریداری قیمت لکھنے سے بھی فائل مکمل ہو جاتی تھی۔

اب ساتھ مارکیٹ ویلیو بھی شامل کرنے سے ایف بی آر کے لیے آپ کی آمدنی اور اثاثوں کا میل کرنا آسان ہو جائے گا۔

انڈر ریپورٹنگ یا چھپے ہوئے اثاثے پکڑنا

جو لوگ کم قیمت یا غلط ویلیو پر جائیداد ڈکلیئر کرتے تھے، اب ان کے لیے یہ رسک بڑھ جائے گا۔

Estimated Market Value ظاہر کرنے سے اصل تصویر سامنے آ جائے گی۔

مثال برائے وضاحت

فرض کریں آپ نے 2015 میں ایک پلاٹ 30,00,000 روپے میں خریدا۔

آج 2025 میں اس پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو 1,00,00,000 روپے ہے۔

اب ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں آپ کو لازمی یہ دو چیزیں ظاہر کرنا ہوں گی:
خریداری لاگت (Cost) = 30 لاکھ روپے
اندازاً مارکیٹ ویلیو (Estimated Value) = 1 کروڑ روپے

اہم بات یہ ہے کہ:
اگر آپ نے ہمیشہ اپنی آمدنی اور اثاثے درست طور پر ظاہر کیے ہیں تو اس تبدیلی سے کوئی فوری ٹیکس یا نقصان نہیں ہوگا۔ یہ اپ ڈیٹ صرف شفافیت بڑھانے اور ٹیکس چوری کم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

پروفیشنل مشورہ برائے ٹیکس دہندگان:
اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور اثاثہ جات کو بروقت اور درست انداز میں اپ ڈیٹ کریں۔
اگر کسی جائیداد کی ویلیو سمجھ نہ آئے تو ڈی سی ریٹ یا ایف بی آر کی ویلیو گائیڈ لائنز دیکھ لیں۔
مشکوک یا کم ظاہر کیے گئے اثاثوں کو درست کریں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نوٹس، جرمانے یا آڈٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس اپ ڈیٹ کے بعد ٹیکس کمپلائنس (Tax Compliance) اور بھی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

خلاصہ:
یہ نئی تبدیلی فوری طور پر ٹیکس بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ ریکارڈ کو شفاف بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ البتہ مستقبل میں جائیداد کی فروخت، آڈٹ یا ویلتھ ریکنسلی ایشن کے وقت یہ ڈیٹا ایف بی آر کے لیے بڑی مددگار ہوگا۔

HAPPY INDEPENDENCE DAY!
13/08/2025

HAPPY INDEPENDENCE DAY!

ایف بی آر کی وضاحت: براہِ راست بینک کیش ڈپازٹ بینکنگ چینل کے طور پر قابلِ قبول ہیں۔فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈی...
12/08/2025

ایف بی آر کی وضاحت: براہِ راست بینک کیش ڈپازٹ بینکنگ چینل کے طور پر قابلِ قبول ہیں۔

فنانس ایکٹ 2025 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 21(s) میں ایک اہم پابندی متعارف کرائی گئی ہے۔ ترمیم شدہ قانون کے مطابق، اگر کوئی ٹیکس دہندہ ایک ہی انوائس کے خلاف (چاہے ایک یا زائد لین دین پر مشتمل ہو) 200,000 روپے سے زائد کی ادائیگی وصول کرتا ہے اور وہ ادائیگی بینکنگ چینل یا ڈیجیٹل ذرائع سے نہیں کی جاتی، تو سپلائر کی طرف سے دعویٰ کردہ متعلقہ اخراجات کا 50 فیصد ناقابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس ترمیم نے کاروباری اور ٹیکس برادری میں بے یقینی پیدا کر دی۔ بہت سے لوگوں نے اس پابندی کی تشریح یوں کی کہ اگر کوئی گاہک سپلائر کے بینک اکاؤنٹ میں نقد رقم براہِ راست جمع کروا دے تو وہ بھی ممنوع ادائیگی میں شمار ہوگی۔ اس تشریح سے وہ لین دین بھی خطرے میں پڑ جاتے جن کا ریکارڈ مکمل طور پر بینک کے ذریعے موجود ہوتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ وہ نقد کی صورت میں ہوئے۔

ایف بی آر نے ایک اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ:

"یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص، چاہے این ٹی این ہولڈر ہو یا نہ ہو، انوائسز کے خلاف نقد رقم فروخت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہے تو اس ادائیگی کو بینکنگ چینل کے ذریعے کی گئی ادائیگی تصور کیا جائے گا اور اس ضمن میں اس شق کے تحت اخراجات کو ناقابلِ قبول قرار نہیں دیا جائے گا۔"

یہ وضاحت چھوٹے تاجروں، ریٹیلرز اور سروس فراہم کنندگان کے لیے خوش آئند قدم ہے، جو اکثر نقد میں ادائیگیاں وصول کرتے ہیں لیکن بینکاری شفافیت برقرار رکھنے کے لیے گاہکوں سے رقم براہِ راست اپنے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Address

Haidery, North Nazimabad
Karachi
74700

Telephone

+923330272662

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taxis World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Taxis World:

Share