19/04/2024
”میرا بہترین دوست“
ھمارے ایک ٹیچر مشتاق نامی لڑکے سے بہت بیزار تھے.
مشتاق کا کمال یہ تھا کے اسے جو بھی مضمون لکھنے کو کہتے وہ اس میں کہیں نہ کہیں سے "میرا بہترین دوست" ضرور فٹ کردیتا تھا جو اسے فر فر یاد تھا۔
مثال کے طور پہ اسے کہا جاتا کے ریلوے اسٹیشن پر مضمون لکھ دو تو وہ یوں لکھتا کہ میں اور میرے ماں باپ چیچو کی ملیاں جانے کے لئے ریلوے سٹیشن گئے وھاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست زاھد بیٹھا تھا- زاھد حسین میرا کلاس فیلو ھے اس کے تین بہن بھائی ھیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ھے- زاھد حسین بہت اچھا لڑکا ھے
اگر اسے "میرا استاد" مضمون لکھنے کو کہتے تو وہ لکھتا ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ھیں ایک روز میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تو وھاں " میرا بہترین دوست زاھد بیٹھا تھا- زاھد حسین میرا کلاس فیلو ھے اس کے تین بہن بھائی ھیں اس کا باپ محکمہ پولیس میں آفیسر ھے- زاھد حسین بہت اچھا لڑکا ھے
ظاہر ہے جب کرکٹ میچ یا پکنک کی باری آتی تو وھاں بھی زاھد حسین موجود ھوتا ھے-
تنگ آ کر ماسٹر صاحب نے کہا کے دیکھو یہ تو ھو نہیں سکتا کے ھر جگہ تمہارا دوست زاھد حسین موجود ھو۔ آج تم ھوائی جہاز پر مضون لکھو اور یاد رکھو ھوائی جہاز میں زاھد حسین ھرگز موجود نہیں ھونا چاھیے۔
دوسرے دن مشتاق نے مضون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا۔ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایئر پورٹ گیا وھاں جہاز کھڑا تھا، ھم اس میں بیٹھ گئے - جہاز میں زاھد حسین نہیں تھا - پھر جہاز اڑنے لگا میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو زمین پر میرا بہترین دوست زاھد جارھا تھا۔
زاھد حسین میرا کلاس فیلو ھے اس کے تین بہن بھائی ھیں اور اس کے والد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
😀😀😀😀😀
"مُستنصر حسین تارڑ"