M.F Malik & Co Advocates and Tax consultants

M.F Malik & Co Advocates and Tax consultants Est. since 1976

Penalty  under section 182 for Non Filing of Income Tax Return under section 114(1) of IT Ord 2001.
23/05/2026

Penalty under section 182 for Non Filing of Income Tax Return under section 114(1) of IT Ord 2001.

22/05/2026

FBR Mandates Electronic Monitoring for Packaged Milk Production (STGO 6/2026)

The Federal Board of Revenue (FBR) has issued Sales Tax General Order # 6 of 2026, dated May 21, 2026, requiring all registered persons and toll manufacturers in the packaged milk sector to install an electronic production monitoring solution.

Key Requirements for Manufacturers:

Mandatory Hardware: Production lines must be equipped with industrial barcode scanners (capable of 20,000–60,000 SKUs per hour), counting sensors, IP cameras (5MP), and 2-hour UPS backups.

Real-Time Data: The system must provide real-time capture of the production process, object counting, and direct data transmission to the FBR’s Central Control Unit.

Authorized Vendors: Systems must be supplied, installed, and maintained specifically by vendors authorized by the Board.

Compliance Deadline: All affected manufacturers are directed to complete the installation and operationalization of these systems by June 30, 2026.



Download STGO: chrome-extension://efaidnbmnnnibpcajpcglclefindmkaj/https://lnkd.in/dNECWVdU

According to Sales Tax General Order  #6/2024 issued by FBR on 21 May 2026, all registered persons engaged in the produc...
22/05/2026

According to Sales Tax General Order #6/2024 issued by FBR on 21 May 2026, all registered persons engaged in the production and packaging of milk (including toll manufacturers) must install an FBR-authorized electronic production monitoring system by 30 June 2026. The system includes hardware such as industrial barcode scanners, counting sensors, IP cameras, PLC, UPS, and software for real-time production tracking, object counting, data transmission to FBR’s central unit, detection of unexpected stops, and legal analytics. Only vendors authorized by the FBR may supply, install, and maintain the system. Tax authorities will designate focal persons to facilitate the implementation.

Some Sections of I T ORD 2001 Explain.
21/05/2026

Some Sections of I T ORD 2001 Explain.

*حقی وقت میں دودھ، اسٹیل، تیل اور گھی بنانے والی فیکٹریوں کی پیداواری لائنوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام*وفاق...
20/05/2026

*حقی وقت میں دودھ، اسٹیل، تیل اور گھی بنانے والی فیکٹریوں کی پیداواری لائنوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام*

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اپنا ڈیجیٹل ٹیکس نگرانی کا نظام پیکڈ دودھ، لوہا و اسٹیل، خوردنی تیل اور گھی بنانے والوں کی پیداواری لائنوں تک فوری طور پر توسیع کر دی ہے۔

ٹیکس اتھارٹی نے بدھ کے روز ایس آر او 880(I)/2026 جاری کیا، جس میں سیلز ٹیکس رولز، 2006 کے باب XIV-BA کے رول 150ZQR کے تحت پیداواری سرگرمیوں کی الیکٹرانک نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، پیکڈ دودھ، لوہے و اسٹیل کی مصنوعات، تیل اور گھی کی پیداوار میں مصروف رجسٹرڈ مینوفیکچررز اب ویڈیو نگرانی اور تجزیاتی نظاموں کے ذریعے حقیقی وقت میں ڈیجیٹل نگرانی کے تابع ہوں گے۔

ایف بی آر نے کہا کہ نگرانی کا یہ طریقہ کار ویڈیو نگرانی، ویڈیو تجزیاتی حل اور "ڈیجیٹل آئی" ٹیکنالوجی استعمال کرے گا تاکہ پیداواری عمل کی حقیقی وقت میں الیکٹرانک نگرانی کی جا سکے۔

رول 150ZQR کے تحت، یہ نظام سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کے تھرڈ شیڈول میں درج اشیاء کے ساتھ بورڈ کی جانب سے مخصوص طور پر نوٹیفائی کی گئی کسی بھی اضافی اشیاء پر لاگو ہوتا ہے۔

رول میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف بی آر علیحدہ نوٹیفکیشنز کے ذریعے مخصوص اشیاء کی نگرانی کے نفاذ کی تاریخ مقرر کر سکتا ہے۔

اہلکاروں نے کہا کہ یہ اقدام ٹیکس تعمیل کو مضبوط بنانے، صنعتی پیداوار میں شفافیت بہتر بنانے اور کلیدی مینوفیکچرنگ شعبوں میں کم رپورٹنگ اور ٹیکس چوری روکنے کی وسیع تر کوشوں کا حصہ ہے۔

ایف بی آر نے حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی نفاذی اقدامات کو تیزی سے اپنایا ہے، جن میں ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور پیداواری سہولیات کی حقیقی وقت میں نگرانی شامل ہے۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین توسیع سے زیادہ پیداوار والے شعبوں سے محصولات کی وصولی بہتر ہو سکتی ہے، لیکن اس سے مینوفیکچررز کے تعمیل اور آپریشنل اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے ٹیکس حکام پر محصولات میں اضافے کے لیے دباؤ ہے کیونکہ ملک اپنے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے تحت مالی اہداف حاصل کرنے کی کوش کر رہا ہے۔

*حکومت پاکستان*  *محصولات ڈویژن*  *وفاقی بورڈ آف ریونیو*  ***  *ٹیکسیشن اکاؤنٹنگ اور فنانس اپڈیٹس*    اسلام آباد، 20 مئی...
20/05/2026

*حکومت پاکستان*
*محصولات ڈویژن*
*وفاقی بورڈ آف ریونیو*
***
*ٹیکسیشن اکاؤنٹنگ اور فنانس اپڈیٹس* اسلام آباد، 20 مئی 2026

*نوٹیفکیشن*
*(سیلز ٹیکس)*

*ایس۔آر۔او 880 (I)/2026۔ -* سیلز ٹیکس ایکٹ، 1990 کی دفعہ 50 کی ذیلی دفعہ (1) اور دفعہ 40C کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، وفاقی بورڈ آف ریونیو یہ اطلاع دینے پر خوش ہے کہ پیکڈ دودھ، لوہا اور اسٹیل، تیل اور گھی کی تیاری میں مصروف رجسٹرڈ افراد کی پیداوار کی الیکٹرانک نگرانی سیلز ٹیکس رولز، 2006 کے باب XIV-BA کے رول 150ZQR کی دفعات کے مطابق فوری طور پر کی جائے گی۔

2۔ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

[فائل نمبر: 3(8)ST&FE-Policy/2024]

*(اظہار زبیری)*
سیکنڈ سیکرٹری (ST&FE پالیسی)

بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا👇📚 Civil Appeal No. 168-L/14 etc.سپریم کورٹ آف پاکستان...
20/05/2026

بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا👇
📚 Civil Appeal No. 168-L/14 etc.
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی جائیداد کے متعلق پہلے سے معاہدہ، دعویٰ یا قانونی تنازع موجود ہو تو بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اس نے مکمل نیک نیتی، احتیاط اور قانونی جانچ پڑتال کے بعد جائیداد خریدی۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ خریدار “Bona Fide Purchaser” ہے، بلکہ اسے مضبوط ثبوت اور حالات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
✔️ اس نے جائیداد خریدنے سے پہلے مکمل تحقیق کی
✔️ فروخت کنندہ کے ٹائٹل اور ملکیت کی جانچ کی
✔️ کسی سابقہ معاہدے، مقدمے یا دعویٰ کا علم نہیں تھا
✔️ اس نے نیک نیتی اور احتیاط کے ساتھ خریداری کی
📌 عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر:
❌ خریداری جلد بازی میں ہوئی ہو
❌ جائیداد کی مکمل چھان بین نہ کی گئی ہو
❌ ایسے حالات موجود ہوں جن سے پہلے دعویٰ کا شک پیدا ہوتا ہو
تو بعد والا خریدار قانون کے تحت “Bona Fide Purchaser” کا تحفظ حاصل نہیں کر سکتا، اور پہلے والا معاہدہ اس کے خلاف بھی نافذ العمل رہے گا۔
“صرف رجسٹری ہونا کافی نہیں، بلکہ نیک نیتی، احتیاط اور مکمل تحقیق بھی ضروری ہے۔”

: # # 📢 پنجاب سیلز ٹیکس قانون میں بڑی تبدیلیاں نافذ!پنجاب اسمبلی نے **پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (ترمیمی) ایکٹ 2026** پاس ...
20/05/2026

: # # 📢 پنجاب سیلز ٹیکس قانون میں بڑی تبدیلیاں نافذ!
پنجاب اسمبلی نے **پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (ترمیمی) ایکٹ 2026** پاس کر دیا ہے اور گورنر کی منظوری کے بعد یہ فوری طور پر لاگو ہو چکا ہے۔ اگر آپ بزنس چلاتے ہیں یا ٹیکس پریکٹس سے جڑے ہیں، تو یہ 3 اہم ترین تبدیلیاں آپ کے لیے جاننا بہت ضروری ہیں:

# # # # 1۔ ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ (Tax Credit) کی حد مقرر ❌
اب آپ گڈز یا سروسز پر ادا کیے گئے سیلز ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ (Input Tax Claim) ایک خاص حد سے زیادہ نہیں کر سکیں گے:

* **ٹیلی کام سروسز کے لیے:** زیادہ سے زیادہ %19.5
* **مال برداری (Carriage of Goods) کے لیے:** زیادہ سے زیادہ %15

* **باقی تمام اشیاء اور سروسز کے لیے:** زیاد
ہ سے زیادہ %16
# # # # 2۔ اسسٹنٹ کمشنر کا عہدہ تبدیل ⚖️

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے اندرونی ڈھانچے اور اختیارات میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں:

* قانون میں جہاں جہاں **"Assistant Commissioner"** کا لفظ تھا، اب اسے بدل کر **"Enforcement Officer / Audit Officer"** کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب ٹیکس معاملات میں ڈیلنگ ان افسران کے پاس ہوگی۔

* سیکشن 28 کے تحت کچھ اختیارات براہ راست **کمشنر (Commissioner)** کو سونپ دیے گئے ہیں۔

# # # # 3۔ اتھارٹی کو ریگولیشنز بنانے کا کھلا اختیار 📝
* اب اتھارٹی (PRA) کو یہ قانونی حق مل گیا ہے کہ وہ ایکٹ کے معاملات کو چلانے کے لیے خود **ریگولیشنز (Regulations)** تیار کر سکے۔

* سب سے اہم بات یہ کہ سیکشن 89 کے تحت "حکومت کی منظوری" لینے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے، جس سے محکمے کو اپنے فیصلے کرنے میں زیادہ خود مختاری ملے گی
۔
💡 **ٹیکس پروفیشنلز اور بزنس اونرز کے لیے مشورہ:** اب سے اپنے ٹیکس ریٹرنز اور ان پٹ کلیمز کو ان نئی ترامیم کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔

20/05/2026

ٹیکس کی دنیا میں بڑا دھماکہ: پنجاب حکومت کا راتوں رات نیا قانون نافذ! کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بڑی خبر!

پنجاب حکومت نے ٹیکس کے نظام کو آسان اور بہتر
بنانے کے لیے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جسے **"دی پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2026"** کا نام دیا گیا ہے۔ یہ قانون 14 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں لاگو ہو چکا ہے۔ اس کا مقصد پرانے ٹیکس قانون (2012) میں تبدیلیاں کر کے اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔
سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کو اب نئے ضوابط اور رولز بنانے کے زیادہ قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں، تاکہ وہ ٹیکس کے معاملات کو زیادہ اچھے طریقے سے چلا سکے۔
اس نئے قانون میں مختلف سروسز (خدمات) پر ٹیکس کی حد کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے:
* **فون اور انٹرنیٹ (ٹیلی کمیونیکیشن) سروسز:** ان پر ٹیکس کی حد **ساڑھے انیس فیصد (19.5%)** رکھی گئی ہے۔
* **سامان کی ترسیل (ٹرانسپورٹ):** ریل یا سڑک کے ذریعے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے کی سروس پر ٹیکس کی حد **پندرہ فیصد (15%)** ہوگی۔
* **باقی تمام سروسز:** ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی سروسز ہیں، ان پر ٹیکس کی حد **سولہ فیصد (16%)** مقرر کی گئی ہے۔
قانون کو زیادہ سخت اور فعال بنانے کے لیے محکمہ جاتی عہدوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب پرانے عہدے "اسسٹنٹ کمشنر" کی جگہ **"انفورسمنٹ آفیسر یا آڈٹ آفیسر"** کام کریں گے، جن کا کام ٹیکس کی وصولی اور حساب کتاب کی کڑی نگرانی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، انفرادی افسران کے بجائے اب زیادہ تر بڑے اختیارات براہِ راست "اتھارٹی" کے پاس ہوں گے۔
اس قانون کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب پنجاب ریونیو اتھارٹی کو زیادہ خود مختاری دے دی گئی ہے۔ نئے رولز بنانے یا ٹیکس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اب اتھارٹی کو بار بار حکومت سے منظوری لینے کے طویل طریقہ کار کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ وہ خود فوری فیصلے کر سکے گی۔ یہ تمام ترامیم سیکرٹری جنرل چوہدری عامر حبیب کے دستخطوں کے ساتھ جاری کی گئی ہیں تاکہ صوبے میں ٹیکس کا نظام تیز رفتار اور شفاف ہو سکے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.F Malik & Co Advocates and Tax consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share