Faiza Malik official's

Faiza Malik official's Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faiza Malik official's, Tax preparation service, lahor, Lahore.

17/11/2025

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

25/03/2025

*غفلت کا قیاسی اصول (Doctrine of Res Ipsa Loquitur) قانونِ شہادت کے تحت بارِ ثبوت کا اصول (Burden of Proof under Qanun-e-Shahadat)دیوانی قانون کے تحت Pleadings اور مسائل کا تعین (Pleadings and Framing of Issues under CPC)*
*F K LAW & CITATIONS*
*"Res ipsa loquitur"*
ایک لاطینی اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے: "چیز خود بول رہی ہے"۔ یہ ایک آسان اور مختصر اصول ہے جو کسی جادوئی طاقت کا حامل نہیں، اور محض لاطینی میں ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی خاص فضیلت نہیں۔

یہ اصول اس وقت لاگو ہوتا ہے جب:

وہ شے یا چیز جس نے نقصان پہنچایا، مکمل طور پر مدعا علیہ (Defendant) کے کنٹرول میں ہو؛

ایسا واقعہ عام طور پر اس وقت تک پیش نہیں آتا جب تک کہ اس میں کسی کی غفلت نہ ہو؛

اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہ ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ واقعہ کیسے یا کیوں پیش آیا۔

ایسے حالات میں، یہ مدعا علیہ پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ عدالت کو قائل کرے کہ حادثہ ان کی غفلت کی وجہ سے پیش نہیں آیا۔ آسان الفاظ میں، Res ipsa loquitur کا مطلب ہے دیوانی مقدمات میں "غفلت کا قیاس"۔ اس اصول کے تحت محض کسی واقعے کے رونما ہونے کی بنیاد پر مدعا علیہ کی غفلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور یوں ایک ابتدائی ثبوت (prima facie case) قائم ہو جاتا ہے جو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

یہ اصول لاگو کرنے کے لیے مدعی کو درج ذیل امور ثابت کرنا ہوتے ہیں:
(i) یہ واقعہ ایسا ہونا چاہیے جو عمومی طور پر بغیر کسی کی غفلت کے پیش نہ آئے؛
(ii) یہ کسی ایسے آلے یا چیز سے وقوع پذیر ہو جس پر مدعا علیہ کا مکمل کنٹرول ہو؛
(iii) یہ واقعہ مدعی کی اپنی کسی رضاکارانہ حرکت یا شراکت کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔

تاہم، مدعا علیہ یہ قیاس باطل کرنے کے لیے ایسا ثبوت پیش کر سکتا ہے جو مدعی کے دعوے پر شکوک پیدا کرے۔ اور اہم بات یہ ہے کہ یہ اصول محض حادثے کے پیش آنے کی بنیاد پر غفلت کا اندازہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اصول ہماری روزمرہ زندگی کے تجربات پر مبنی ہے، جن سے ہم جانتے ہیں کہ بعض حادثات محض غفلت کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔

یہ اصول مدعی کے حق میں کسی حتمی مفروضے کو جنم نہیں دیتا بلکہ صرف یہ اجازت دیتا ہے کہ حالات کی روشنی میں غفلت کا نتیجہ اخذ کیا جائے۔ اس اصول کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک ابتدائی کیس بنایا جائے جسے عدالت میں پیش کیا جا سکے، اور عدالت کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو اس قیاس کو قبول کرے یا نہ کرے۔

مدعی چاہے تو اس اصول پر انحصار کرے یا مدعا علیہ کی غفلت کے مخصوص شواہد پیش کرے، لیکن ان دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال اس وقت درست نہیں ہوتا جب دونوں ثبوت آپس میں متضاد ہوں۔ جہاں عدالت کو کسی مخصوص مہارت کی ضرورت ہو، وہاں ماہر گواہی قابل قبول ہو سکتی ہے تاکہ عدالت کو عام فہم اور فنی علم کے درمیان خلا کو پُر کرنے میں مدد ملے۔

عدالتیں "اختصاصی کنٹرول" (exclusive control) کی شرط کو حرف بہ حرف نہیں لیتیں۔ مثال کے طور پر، اگرچہ آلہ مدعا علیہ کے کنٹرول سے نکل چکا ہو، لیکن اگر یہ ظاہر ہو جائے کہ مبینہ غفلت کے وقت وہ اس کے مکمل کنٹرول میں تھا تو اصول لاگو ہو سکتا ہے۔

اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمام ممکنہ وجوہات کو اس حد تک ختم کیا جائے کہ سب سے زیادہ امکان مدعا علیہ کی غفلت کا ہی بنے۔ مدعی کو دوسرے اسباب کو مکمل طور پر رد کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف اتنا ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کا امکان کم اور مدعا علیہ کی غفلت کا امکان زیادہ ہے۔

اس بات کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ بعض پرانے عدالتی فیصلوں کے برعکس، Res ipsa loquitur مدعا علیہ کے خلاف کوئی لازم مفروضہ قائم نہیں کرتا۔ بلکہ، یہ ایک قرائنی ثبوت فراہم کرتا ہے جسے عدالت قبول کرے یا نہ کرے، یہ اس کی صوابدید پر ہے۔

چونکہ یہ ایک قیاس ہوتا ہے، لہٰذا صرف انتہائی واضح اور مضبوط ثبوت والے مقدمات میں ہی مدعی کو زر تلافی (Decree for compensation) ملتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب مدعی کے ثبوت بہت قوی اور مدعا علیہ کا دفاع انتہائی کمزور ہو۔

اگر مدعی یہ ثابت نہ کر سکے کہ حادثہ کیسے ہوا، تو وہ Res ipsa loquitur پر انحصار کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ واقعہ کی نوعیت بذاتِ خود غفلت کی نشاندہی کر رہی ہے۔ تاہم، مدعی تب ہی اس اصول پر انحصار کر سکتا ہے جب اس نے ابتدائی درخواست (pleadings) میں اس کو بیان کیا ہو اور ٹرائل میں اس کے حق میں ثبوت پیش کیے ہوں۔

اگر مدعا علیہ یہ واضح کر دے کہ حادثہ کیسے پیش آیا اور یہ اس کی غفلت کے بغیر ممکن تھا، تو وہ اس اصول کے اثر کو زائل کر سکتا ہے۔

دنیا بھر کی بعض عدالتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ Res ipsa loquitur کا استعمال محدود ہے، اور اسے بہت احتیاط سے صرف غیر معمولی مقدمات میں استعمال کرنا چاہیے، جب تمام ضروری عناصر موجود ہوں اور عام تجربہ یہ ظاہر کرے کہ حادثہ بغیر غفلت کے ممکن نہ تھا۔

آخر میں، صرف کسی حادثے یا چوٹ کے پیش آنے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مدعا علیہ کی غفلت کی وجہ سے ہوا۔ یہ اکیلا ثبوت کافی نہیں ہوتا کہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے یا قانونی طور پر غفلت ثابت ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں، صرف حادثے کا ثبوت ہی غفلت کے ثبوت کے برابر نہیں ہے۔

Res ipsa loquitur
اصول کا قانونی تجزیاتی جائزہ پاکستانی قانون (بالخصوص قانونِ شہادت 1984، تعزیراتِ پاکستان اور دیوانی قانون (CPC)) کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، جیسا کہ مقدمہ R.F.A.1123-14، Mst. Misbah Farooq vs. Daewoo Pakistan Express Bus Service Ltd. میں زیر بحث آیا

1. اصولِ Res ipsa loquitur اور قانونِ شہادت 1984
دفعات کا اطلاق:

دفعہ 117 (فرضی بارِ ثبوت / Presumptions): یہ دفعہ عدالت کو اجازت دیتی ہے کہ وہ مخصوص حالات میں کسی خاص حقیقت کو فرض کر لے۔
Res ipsa loquitur
بھی اسی اصول پر مبنی ہے جہاں عدالت ایک مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ اگر کوئی واقعہ عام حالات میں کسی کی غفلت کے بغیر ممکن نہیں تو وہی شخص ذمہ دار ہوگا، جب تک وہ خلاف ثبوت نہ دے۔

دفعہ 129(g): عدالت یہ فرض کر سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ثبوت پیش نہیں کر رہا جو اس کے حق میں ہو سکتا تھا تو وہ ثبوت اس کے خلاف جا سکتا ہے۔
اگر مدعا علیہ وضاحت نہیں دیتا کہ حادثہ کیسے ہوا، تو عدالت قیاسِ غفلت قائم کر سکتی ہے۔

2. دیوانی قوانین کے تحت:
قانون دیوانی دیوانہ جات (CPC) کی رو سے مدعی پر بارِ ثبوت ہوتا ہے کہ وہ مدعا علیہ کی غفلت ثابت کرے، لیکن
Res ipsa loquitur
اصول کی صورت میں یہ بوجھ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور عدالت مدعا علیہ سے وضاحت مانگ سکتی ہے۔

Order VI Rule 2 CPC: مدعی کو اپنی دلیل واضح طور پر Pleadings
میں بیان کرنی چاہیے کہ وہ

Res ipsa loquitur
پر انحصار کر رہا ہے۔

Order XIV Rule 1 CPC: جب بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا واقعہ مدعا علیہ کی غفلت سے پیش آیا تو Res ipsa loquitur اس سوال کو مختصر کر دیتا ہے اور عدالت کو سہولت دیتا ہے کہ وہ بادی النظر میں غفلت فرض کرے۔

3. تعزیراتِ پاکستان
(Criminal Negligence
کی حد تک - حوالہ برائے موازنہ):
اگرچہ Res ipsa loquitur عمومی طور پر دیوانی مقدمات میں لاگو ہوتا ہے، لیکن دفعہ 322، 337-G PPC (قتل یا ضررِ خطا کی بنیاد پر) بھی اس اصول سے ملتا جلتا معیار رکھتا ہے، جہاں نرمی کے ساتھ نیت کی غیر موجودگی میں بھی لاپرواہی پر ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے۔

4. پاکستانی عدالتی نظائر (Case Law Analysis):
Misbah Farooq Case (2025 LHC 1065):
عدالت نے تسلیم کیا کہ اگر بس سروس مکمل طور پر مدعا علیہ کے کنٹرول میں تھی، اور کوئی بیرونی وجہ ظاہر نہیں کی گئی، تو حادثہ بذات خود غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔

Res ipsa loquitur کا اطلاق کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ ایک قابلِ قیاس ثبوت فراہم کرتا ہے، لیکن مدعا علیہ کو موقع دیا گیا کہ وہ اپنی وضاحت دے۔

دیگر متعلقہ فیصلے:
PLD 1989 SC 520 (Pakistan International Airlines v. Nasir Jamal)
عدالت نے کہا کہ جب ایک واقعہ اس نوعیت کا ہو کہ وہ بغیر غفلت کے ممکن نہیں، تو Res ipsa loquitur لاگو ہو سکتا ہے۔

2004 SCMR 1149
Res ipsa loquitur صرف اس وقت لاگو ہوگا جب کوئی دوسرا ممکنہ سبب نہ ہو، یا وہ کمزور ہو۔

5. قانونی نتائج اور اثرات:
Res ipsa loquitur مدعی کے لیے سہولت کا ذریعہ ہے، لیکن یہ کوئی حتمی مفروضہ نہیں ہے۔

عدالت کو ہمیشہ یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ شواہد کی بنیاد پر قیاس کو رد کر دے۔

مدعا علیہ کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ دوسرے ممکنہ اسباب کی وضاحت دے کر اس قیاس کو ختم کرے۔

نتیجتاً مختصراً ۔۔۔۔(Conclusion):
قانونِ شہادت 1984 کی دفعات 117 اور 129(g)، CPC کے اصول اور عدالتی نظائر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ Res ipsa loquitur ایک قوی مگر غیر حتمی اصول ہے جو مخصوص حالات میں عدالت کو یہ قیاس کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ حادثہ مدعا علیہ کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا ہوگا۔ اس اصول کا مقصد انصاف کی فراہمی میں سہولت ہے، مگر اس کا اطلاق صرف انہی مقدمات میں ہوتا ہے جہاں دیگر اسباب کی گنجائش بہت کم ہو۔

03/10/2024

گرمی اور سردی کے اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں سردی پہلی اکتوبر کو چارج سنبھالنے کے لیے تیار جبکہ گرمی چارج دینے سے مکمل انکاری،
اب کل فائنل مذاکرات ھونگے۔
حتمی تاریخوں کا اعلان 10اکتوبر کو کیا جائیگا۔
گرمی اپنی سیٹ چھوڑے ورنہ سردی 26 اکتوبر کو زبردستی چارج سنبھال لے گی
گرمی اپنی پوری طاقت لگا رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ اس کو سپورٹ فراہم کر رہی ہے اس کے باوجود سردی کا گرمی کو 10 اکتوبر کا الٹیمیٹم۔ 10 اکتوبر کے بعد سردی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان۔
گرمی دھاندلی کرنا چاھتی ھے اور یہ اب برداشت نہیں کیا جائیگا۔ سردی کا دو ٹوک موقف 😜😜

25/09/2024
30/07/2024

سیلز ٹیکس رجسٹرڈ صارفین توجہ فرمائیں!

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بالآخر سیلز ٹیکس رولز، 2006 کے ترمیم شدہ رول 5(4) کو آج، 28 جولائی - مہینے کے آخری غیر کام کے دن/ہفتہ کے آخر میں نافذ کر دیا ہے،

ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب ہے کہ آپ اپنے ریٹرن فائل کرنے کے لیے IRIS کے ذریعے کمشنر سے پیشگی اجازت درکار ہوگی۔

ایف بی آر کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے براہ کرم جلد از جلد اپنے قریبی نادرا ای سہولت سینٹر پر جائیں۔

بائیو میٹرک تصدیق مکمل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں آپ کو سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کرنے سے روکا جائے گا۔

Faiza Malik Adv HC

06/07/2024

*پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جاری فراڈ*

ایک نوجوان لندن کے ایک بین الاقوامی بینک میں معمولی سا کیشیر تھا اس نے بینک کے ساتھ ایک ایسا فراڈ کیا جس کی وجہ سے وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا فراڈیا ثابت ہوا‘*
*وہ کمپیوٹر کی مدد سے بینک کے لاکھوں کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے ایک‘ ایک پینی نکالتا تھا*
*اور یہ رقم اپنی بہن کے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا تھا،*
*وہ یہ کام پندرہ برس تک مسلسل کرتا رہا*
*یہاں تک کہ اس نے کلائنٹس کے اکاؤنٹس سے کئی ملین پونڈ چرا لیے،*
*آخر میں یہ شخص ایک یہودی تاجر کی شکایت پر پکڑا گیا‘*
*یہ یہودی تاجر کئی ماہ تک اپنی بینک سٹیٹ منٹ واچ کرتا رہا*
*اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے اکاؤنٹ سے روزانہ ایک پینی کم ہو رہی ہے*
*چنانچہ وہ بینک منیجر کے پاس گیا‘ اسے اپنی سابق بینک اسٹیٹمنٹس دکھائیں*
*اور اس سے تفتیش کا مطالبہ کیا...*
*منیجر نے یہودی تاجر کو خبطی سمجھا ‘*
*اس نے قہقہہ لگایا اور دراز سے ایک پاؤنڈ نکالا*
*اور یہودی تاجر کی ہتھیلی پر رکھ کر بولا
*’’ یہ لیجئے میں نے آپ کا نقصان پورا کر دیا ‘‘*
*یہودی تاجر ناراض ہو گیا‘*
*اس نے منیجر کو ڈانٹ کر کہا
*’’میرے پاس دولت کی کمی نہیں‘*
*میں بس آپ لوگوں کو آپ کے سسٹم کی کمزوری بتانا چاہتا تھا‘‘*
*وہ اٹھا اور بینک سے نکل گیا،*
*یہودی تاجر کے جانے کے بعد منیجر کو شکایت کی سنگینی کا اندازا ہوا‘*
*اس نے تفتیش شروع کرائی تو شکایت درست نکلی*
*اور یوں یہ نوجوان پکڑا گیا...*
*یہ لندن کا فراڈ تھا لیکن ایک فراڈ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے‘*
*اس فراڈ کا تعلق پیسے کے سکے سے جڑا ہے،*
*پاکستان کی کرنسی یکم اپریل 1948ء کو لانچ کی گئی تھی‘*
*اس کرنسی میں چھ سکے تھے‘*
*ان سکوں میں ایک روپے کا سکہ‘*
*اٹھنی‘ چونی‘ دوانی‘ اکنی‘ ادھنا*
*اور ایک پیسے کا سکہ شامل تھے‘*
*پیسے کے سکے کو پائی کہا جاتا تھا،*
*اس زمانے میں ایک روپیہ 16 آنے*
*اور 64 پیسوں کے برابر ہوتا تھا...*
*یہ سکے یکم جنوری 1961ء تک چلتے رہے‘*
*1961ء میں صدر ایوب خان نے ملک میں عشاریہ نظام نافذ کر دیا*
*جس کے بعد روپیہ سو پیسوں کا ہو گیا*
*جبکہ اٹھنی‘ چونی‘ دوانی اور پائی ختم ہو گئی*
*اور اس کی جگہ پچاس پیسے‘ پچیس پیسے‘ دس پیسے‘ پانچ پیسے*
*اور ایک پیسے کے سکے رائج ہو گئے...*
*یہ سکے جنرل ضیاء الحق کے دور تک چلتے رہے*
*لیکن بعد ازاں آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے*
*یہاں تک کہ آج سب سے چھوٹا سکہ ایک روپے کا ہے*
*اور ہم نے پچھلے تیس برسوں سے*
*ایک پیسے‘ پانچ پیسے‘ دس پیسے اور پچیس پیسے کا کوئی سکہ نہیں دیکھا*
*کیوں...؟*
*کیونکہ اسٹیٹ بینک یہ سکے جاری ہی نہیں کر رہا*
*لیکن آپ حکومت کا کمال دیکھئے*
*حکومت جب بھی پیٹرول‘ گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ کرتی ہے*
*تو اس میں روپوں کے ساتھ ساتھ پیسے ضرور شامل ہوتے ہیں*
*مثلاً آپ پیٹرول کے تازہ ترین اضافے ہی کو لے لیجئے‘*
*حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے اضافہ کیا*
*جس کے بعد پٹرول کی قیمت 62 روپے 13 پیسے‘*
*ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 62 روپے 65 پیسے*
*اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 54 روپے 94 پیسے ہو گئی ...*
*اب سوال یہ ہے کہ ملک میں پیسے کا تو سکہ ہی موجود نہیں ھے*
*لہٰذا جب کوئی شخص ایک لیٹر پیٹرول ڈلوائے گا تو کیا پمپ کا کیشیر اسے 87 پیسے واپس کرے گا...؟*
*نہیں وہ بالکل نہیں کرے گا*
*چنانچہ اسے لازماً 62 کی جگہ 63 روپے ادا کرنا پڑیں گے...*
*یہ زیادتی کیوں ہے...؟*
*اب آپ مزید دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘*
*پاکستان میں روزانہ 3 لاکھ 20 ہزار بیرل پیٹرول فروخت ہوتا ہے،*
*آپ اگراسے لیٹرز میں کیلکولیٹ کریں*
*تو یہ 5 کروڑ 8 لاکھ 80 ہزار لیٹرز بنتا ہے،*
*آپ اب اندازا کیجئے اگر پٹرول سپلائی کرنے والی کمپنیاں* *ہر لیٹر پر87 پیسےاڑاتی ہیں*
*تویہ کتنی رقم بنے گی...؟*

*یہ 4 کروڑ 42 لاکھ 65 ہزار روپے روزانہ بنتے ہیں جناب....*
*یہ رقم حتمی نہیں کیونکہ تمام لوگ پیٹرول نہیں ڈلواتے‘*
*کچھ صارفین ڈیزل اور مٹی کا تیل بھی خریدتے ہیں*
*اور زیادہ تر لوگ پانچ سے چالیس لیٹر پیٹرول خریدتے ہیں*
*اور بڑی حد تک یہ پیسے روپوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں*
*لیکن اس کے با وجود پیسوں کی ہیرا پھیری موجود رہتی ہے،*
*مجھے یقین ہے اگر کوئی معاشی ماہر اس ایشو پر تحقیق کرے ‘*
*وہ پیسوں کی اس ہیرا پھیری کو مہینوں‘*
*مہینوں کو برسوں*
*اور برسوں کو 30 سال سے ضرب دے*
*تو یہ اربوں روپے بن جائیں گے گویا ہماری سرکاری مشینری*
*30 برس سے چند خفیہ کمپنیوں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچا رہی ہے*
*اور حکومت کو معلوم تک نہیں...*

*ہم اگر اس سوال کا جواب تلاش کریں*
*تو یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا اسکینڈل ثابت ہوگا...*
*یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کرپشن کا والیم*
*ساڑھے چار کروڑ روپے نہ ہو*
*لیکن اس کے با وجود یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا*
*کہ جب اسٹیٹ بینک پیسے کا سکہ جاری ہی نہیں کر رہا*
*تو حکومت کرنسی کو سکوں میں کیوں ماپ رہی ہے*
*اور ہم ’’راؤنڈ فگر‘‘ میں قیمتوں کا تعین کیوں کرتے ہیں...؟*
*ہم 62 روپے 13 پیسوں کو*
*62 روپے کر دیں یا پھر پورے 63 روپے کر دیں*
*تا کہ حکومت اور صارفین دونوں کو سہولت ہو جائے،*
*حکومت اگر ایسا نہیں کر رہی تو پھر اس میں یقیناً کوئی نہ کوئی ہیرا پھیری ضرور موجود ہے*
*کیونکہ ہماری حکومتوں کی تاریخ بتاتی ہے*
*ہماری ظالم بے حس کرپٹ بیورو کریسی کوئی ایسی غلطی نہیں دہراتی*
*جس میں اسے کوئی فائدہ نہ ہو ۔

ایف بی آر نے پراپرٹی کی خرید وفروخت کا نیا ٹیکس شیڈول جاری کردیا
04/07/2024

ایف بی آر نے پراپرٹی کی خرید وفروخت کا نیا ٹیکس شیڈول جاری کردیا

01/07/2024

انکم ٹیکس ریٹرن
برائے مالی سال 2024 کا انعقاد آج سے ہو چکا ہے،
ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ
30 ستمبر2024 مقرر کی گئی ہے،
لہٰذا فائلر حضرات جرمانے اور نوٹسز سے بچنے کیلئے بروقت گوشوارے جمع کروائیں۔
شکریہ.

30/06/2024

وہ کہتے ہیں کہ کچھ عناصر جان بوجھ کر مایوسی پھیلا رہے ہیں لیکن میں نے آج سے پہلے پاکستانی مردوں کے چہروں پر ایسی بے بسی اور پژمردگی کبھی نہیں دیکھی. ایسی اکتاہٹ، افسردگی، تفکرات اور بے چارگی ہے کہ فکریں چہروں سے اُمڈ رہی ہیں.

کوئی ایک بندہ ہاتھ میں مائیک پکڑے پوچھتا ہے، مہنگائی ہو گئی ہے آپ کے حالات کیسے ہیں؟
جواباً منہ سے ٹوٹے پھوٹے چند فقرے نکلتے ہیں، ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا ہے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں رواں ہو جاتی ہیں.
ایسی کوئی ایک ویڈیو نہیں ہے، سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہی ہیں.

ایک ویڈیو میں تو ایک موٹر سائیکل سوار انتہائی متانت والا ہے، کسی طرح بھی نہیں لگ رہا تھا کہ غریب ہے یا اس کے حالات مشکل ہوں گے. ایک مائیک والا بس ایک فقرہ کہتا ہے کہ پیٹرول مزید مہنگا ہو گیا ہے.

وہ شخص کچھ توقف کے بعد بڑے حوصلے سے جواب دیتا ہے،
’’یہ بھی سہہ لیں گے‘‘
یہ فقرہ ابھی مکمل نہیں ہوتا لیکن آنسو ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کے طرح آنکھ سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں.

وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہے تا کہ آنسوؤں کا سیلاب بند نہ توڑ پائے لیکن جنموں کے مارے آنسوکہاں رکتے ہیں، غیرت ایسی ہے کہ فوراً اپنے سر پر ہیلمٹ پہن لیتا ہے تاکہ اُسے روتا ہوا کوئی نہ دیکھ لے.

یہ کیسی بے بسی ہے؟
آپ چیخنا چاہتے ہیں، آپ چلانا چاہتے ہیں، آپ حکومت کو کوسنا چاہتے ہیں، آپ حاکم اور منصف کا گریبان پکڑنا چاہتے ہیں لیکن آپ اپنا غصہ، اپنا غم اندر ہی اندر پیتے جا رہے ہیں، اپنی ہی موٹر سائیکلیں توڑتے جا رہے ہیں اور یہ گُھن آپ کو اندر ہی اندر کھاتا جا رہا ہے.
ریاستی جبر کے سامنے آپ خاموش ہیں، کوئی سننے والا نہیں اور احتجاج کرنے والے جیلوں میں پھینک دیے جاتے ہیں.

پاکستان ایک روایتی معاشرہ ہے، جہاں خاندان کا سارے کا سارا معاشی بوجھ زیادہ تر ایک مرد پرڈال دیا جاتا ہے، جہاں اسکول چھوڑتے ہی فکر معاش شروع ہوتی ہے اور پھر زندگی بھر یہ تگ و دو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی. بیٹی یا بہن کے جہیز سے شروع ہونے والی یہ جمع تفریق موت کی آخری ہچکیوں تک جاری رہتی ہے.

اس مہنگائی اور اس بیروزگاری میں ایک غریب مرد اتنا بے بس ہو گیا ہے کہ اس سے کوئی چھوٹا سا سوال کرتا ہے تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رونا شروع کر دیتا ہے.

اسے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ بیوی کو کیسے بتائے کہ چیزیں اور اخراجات اس کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، وہ بوڑھے ماں باپ اور چھوٹے بہن بھائیوں کو کیسے سمجھائے کہ وہ سب کا بوجھ تنہا نہیں اٹھا سکتا، وہ اپنے بچوں کو کیسے بتائے کہ میں تمہارے لیے نئے کپڑے، نئے جوتے لینے کی سکت نہیں رکھتا.

مہنگائی، بیروزگاری یا کم تنخواہوں کی وجہ سے یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب ایک باپ، بڑا بھائی یا بڑا بیٹا باقی مردوں کی نسبت خود کو ناکام تصور کرنا شروع کر دیتا ہے.
جب وہ آگے پیچھے گاڑیوں کی ریل پیل دیکھتا ہے، امراء کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز دیکھتا ہے تو خود کو ناکارہ تصور کرنا شروع کر دیتا ہے. یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب مرد اپنا موازنہ باقی لوگوں سے کرتا ہے اور خود اپنے جسم سے نفرت کا آغاز ہو جاتا ہے. یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک مرد اپنا دکھ نہ اپنی ماں، نہ باپ، نہ بیوی اور نہ ہی اپنے بچوں سے شیئر کر پاتا ہے.

ایسے لمحات میں فقط خودکُشیاں باقی بچتی ہیں، لڑائی جھگڑے سروں پر کھڑے رہتے ہیں، تنہائی میں اپنا ہاتھ اور اپنا ہی گریبان ہوتا ہے یا پھر سڑک پر کوئی آپ سے سوال پوچھتا ہے اور آپ جواب دینےکی بجائے آسمان کو تکتے ہیں اور آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔

یقین کیجیے پاکستان کی اشرافیہ آج بھی اپنے لانز میں پانچ پانچ ٹن کے اے سی لگا کر بیٹھی ہوئی ہے، انہیں بس آپ پر حکمرانی کرنے سے سروکار ہے.
ان کی طرف سے بس یہی بیان آنا ہے کہ احتجاج میں ہم آپ کے ساتھ ہیں.

عوام اپنے پسینے میں اتنا ڈوب چکے ہیں کہ ان کا سانس لینا محال ہو چکا ہے. پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ قول مشہور ہے کہ مرد روتا نہیں ہے لیکن اس ملک کی فوج، سیاستدانوں، جاگیرداروں، سرمایہ کاروں اور اشرافیہ نے مل کر اتنا ظلم کیا ہے کہ اب یہ مرد رو پڑا ہے.

اس مرد کو حوصلہ دیجیے، اس کا درد بھی سمجھیے، اس کو گلے سے لگائے، ایک دوسرے کے آنسو اپنے دامن میں سمیٹ لیں.
ایسے مشکل حالات میں گھروں کی کفالت کرنے والے مردوں اور خواتین کی صورت حال کو سمجھیں. آپ کے اردگرد ایسی لاکھوں آنکھیں ہوں گی، جو رونا چاہتی ہیں لیکن بزدل نہ بنو اور "مرد روتا نہیں ہے" جیسے فقرے ان کے سامنے اژدھے بن کر کھڑے ہیں.

ایسے طعنے سننے والے مردوں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں کو حوصلہ درکار ہے.
گھر کی خواتین، رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف سے ایک تھپکی اور ’’بے فکر ہو جاؤ، سب ٹھیک ہو جائے گا، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ ایسا کوئی چھوٹا سا ایک فقرہ درکارہے

30/06/2024

ایک فی میل ممبر ٹیچر کا سوال
اَلسَلامُ عَلَيْكُم سر میری سیلری 50 ہزار سے زیادہ ہو گٸ ہے کیا مجھے فاٸلر بننا چاہیے؟ فاٸلر بننے سے مجھے کیا فواٸد حاصل ہوں گے؟

جواب: وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ ! جی بہن 50 ہزار سے زاٸد تنخواہ ہوتے ہی ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ جو تنخواہ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ یہ ٹیکس اکاوٸنٹ آفس آپ کی تنخواہ سے ہر ماہ کاٹتا رہتا ہے اور ایف بی آر کو جمع کروا دیتا ہے۔ یوں آپ اپنی تنخواہ سے سرکار کو پورا انکم ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے بطور پاکستانی شہری آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کے عوض آپ کو دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دی جاۓ۔ مگر جب تک آپ نان فاٸلر رہی گی آپ کو ناصرف سیلری سے بلکہ دیگر ٹیکس بھی پورے پورے ادا کرنا ہوں گے۔ جب کہ فاٸلر ہوتے ہی آپ پر ٹیکس کی شرح آدھی رہ جاۓ گی۔
ذیل میں فاٸلر و نان فاٸلر پر لگنےوالی ٹیکس کی شرح دی جا ری ہے۔
بورڈ امتحانات ڈیوٹی و مارکنگ
فاٸلر نان فاٸلر
گیارہ فیصد 22 فیصد

بنک سے رقم نکلواتے وقت
فاٸلر ۔۔۔ نان فاٸلر
صفر 0.6 فیصد

پراٸز بونڈ انعام
فاٸلر نان فاٸلر
15 فیصد 30 فیصد

پراپرٹی کی خرید پر ٹیکس
فاٸلر نان فاٸلر
تین فیصد 12 فیصد

اس لیے آپ سمیت دیگر تمام سرکاری ملازمین کو چاہیے کہ فاٸلر بنیں اور بہت سارا ٹیکس بچاٸیں۔
Faiza Malik Adv

Address

Lahor
Lahore

Telephone

+923096304644

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiza Malik official's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Faiza Malik official's:

Share