19/10/2026
تمام ٹیکس کنسلٹینٹ، آپ سب سے گزارش ہے کہ کسی بھی صورت میں، کسی بھی حالات میں، کسی کلائنٹ کی پانچ سال سے پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹ وائٹ منی بڑھانے کیلئے بنا پرمیشن کے بالکل بھی ریوائز نہیں کرنی۔
لوگ اپنی حقیقی آمدنی اور لائف اسٹائل کے مطابق اپنی ٹیکس ریٹرن میں آمدنی نہیں دکھاتے تاکہ ٹیکس نہ دینا پڑے لیکن اس طرح سے نان۔ٹیکس۔پیڈ انکم چونکہ ان کے پاس جمع ہوتی رہتی ہے اور پھر کسی جگہ پر چانس کا سودا دیکھ کے انویسٹمنٹ کر بیٹھتے ہیں جو ویلتھ میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتی، پھر اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں کہ پانچ دس سال پیچھے سے ملبہ ڈال کے لے آؤ اور کرنٹ انویسٹمنٹ کو پاسٹ سیونگ سے جسٹیفائی کر لو۔
پنجاب کے ایک سینئیر وکیل صاحب جو وہاں کی ٹیکس بار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے بھی ہیں ان کو ڈی۔جی آئی۔اینڈ۔آئی لاہور نے اسی الزام کے تحت گرفتار کروا لیا ہے کہ ایسے کسی فراڈ میں ان کے دفتر کا انٹرنیٹ استعمال ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔
یہ عین ممکن ہے کہ آٹھ دس سال پہلے کسی بندے نے جب پہلی بار ریٹرن جمع کرائی ہو تو اس کام کو سیرئیس نہ لیا ہو لہذا کچھ اثاثہ دکھا دیا اور کچھ چھوڑ دیا ہو، اس وقت اتنا پتا بھی نہیں تھا کہ آگے چل کے منی ٹریل کی اہمیت کس قدر بڑھ جائے گی، خاص طور پر دو سال قبل جب سے اہلیت والا سیکشن ایڈ ہوا ہے اس کے بعد اب آپ اپنے ظاہر شدہ وسائل سے زیادہ کچھ نہیں خرید سکتے۔
ایسے بندے کو ویلتھ ریوائز کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اس سلسلے میں چار باتیں ہمیشہ یاد رکھیں:
پہلی یہ کہ خاص طور پر جب کلائنٹ کی ماضی کی نان۔ٹیکس پیڈ انکم جو وہ ایڈ کرانا چاہتا ہے اس کا ثبوت کوئی نہ ہو جیسے کہ ہوم ریمیٹینس جو کسی وجہ سے نہ لکھی گئی ہو یا پاسٹ سیونگ، ان۔ڈاکومنٹڈ گفٹ یا ان۔ڈاکومنٹڈ وراثتی جائیداد یا وراثتی کیش کی وصولی اور شادی پر لاکھوں روپے کی سلامی یا شادی پر وصول شدہ قیمتی تحائف، گھڑیاں، ڈائمنڈ یا سونے کی انگوٹھی وغیرہ، یہ کبھی نہ لکھیں، کسی قیمت پر نہ لکھیں۔
دوسری اہم بات یہ کہ پرانی ویلتھ ریوائز کرتے ہوئے اس کے اخراجات کم کرتے کرتے دس بیس لاکھ بچا دیں یہ بھی ہر گز نہ کریں۔
تیسری اہم بات یہ کہ اگر پانچ سال سے قبل کا سسٹم کھلا ہوا مل بھی جائے تو بھی پانچ سال سے پرانی ریٹرن کمشنر سے پرمیشن لئے بغیر ریوائز نہ کرنا کیونکہ کسی بگ یا ایرر کی وجہ سے سسٹم اگر روک نہیں پا رہا تو قانون بہرحال آپ کو ممانعت کرتا ہے اور قانون اپنی جگہ پر اٹل ہے۔
چوتھی اہم بات یہ کہ آئرس کے پروفائل میں جو بھی لاگ۔ان ہوتا ہے اس کی آئی۔پی ٹریک اینڈ ریکارڈ ہو جاتی ہے، ایف۔بی۔آر کو پتا ہوتا ہے کہ کس بندے کا آئرس پروفائل کس بندے کے انٹرنیٹ سے آپریٹ ہوتا ہے، کون کس شہر سے کب کتنے بجے کس پروفائل میں لاگ۔ان ہوتا ہے اس کی لاگ رپورٹ بنتی ہے تاکہ فراڈ کی صورت میں ان بندوں کو ٹریس کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔
دو ڈھائی سال قبل کمشنر اپیلز میں میری ایک اپیل لگی ہوئی تھی، وہ میرے حق میں ہوگئی لیکن کمشنر صاحب نے کچھ مزید تفصیلات مانگ لیں تو میں ان کے پی۔اے کے پاس گیا کہ میں یہاں سے اپنی کمپنی میں لاگ۔ان کر کے نکال دیتا ہوں تو پی۔اے صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ تو اب کرائم ہے بھائی۔
آپ کے آئرس میں اب یا تو آپ کے متعلقہ آر۔ٹی۔او کا مجاز آفیسر لاگ۔ان کر سکتا ہے یا آپ خود لاگ۔ان ہو سکتے ہیں، تیسرا بندہ قابل مواخذہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔
جن کنسلٹینٹ حضرات کے پاس آفس ٹیم ہے ان کو بھی چاہئے کہ اپنے آئی۔ایس۔پی پروائیڈر کو بلوا کے دفتر کے ہر کمپیوٹر کی الگ الگ آئی۔پیز نوٹ کریں اور وہ جس جس کے استعمال میں ہے اس کا ریکارڈ ایک فائل میں لگائیں اور اس پر اسٹاف کے دستخط لیں، نیز ہر ٹیم ممبر کے سسٹم پر اسی سے پاسورڈ لگوائیں تاکہ کوئی دوسرا اس کا سسٹم یوز نہ کر سکے۔
ایسا بالکل ممکن ہے کہ کوئی ٹیم ممبر اپنے کسی پرائیویٹ کلائنٹ کا کام دفتر کے کمپیوٹر پر نمٹا لے اور آئی۔اینڈ۔آئی والے کسی تفتیش کے سلسلے میں سیدھے آپ کے دفتر پہنچ جائیں۔
کوئی دو تین دوست مل کے کام کر رہے ہیں اور نیٹ کسی ایک کے نام پر ہے تو بھیا تینوں کی آئی۔پی ٹریس کرا کے پیپر پر لکھیں اور اس پر تینوں کے اپنے اپنے دستخط کریں تاکہ کوئی ایک بندہ کسی فراڈ کا حصہ بنے تو باقیوں کی بچت ہو جائے۔
💐