08/08/2026
ہم مینوفیکچرر ہیں، عام دکاندار نہیں
یہ کیس پاکستان کی ایک مشہور کپڑا بنانے والی کمپنی کا ہے ، جسے ہم سب سیفم (پرائیویٹ) لمیٹڈ (M/s Sefam Pvt. Limited) کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کمپنی کپڑے خود بھی بناتی ہے (یعنی مینوفیکچرر ہے) اور اپنے ہی برانڈڈ آؤٹ لیٹس (دکانوں) کے ذریعے انہیں گاہکوں کو بیچتی بھی ہے۔ سال 2011 میں ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کا پچھلا آڈٹ کیا اور ان پر دو بڑے الزامات لگا کر کروڑوں روپے کا ٹیکس نوٹس بھیج دیا۔ پہلا الزام یہ تھا کہ آپ دکانوں سے جو ریٹیل سیلنگ کر رہے ہیں، اس پر آپ نے ریٹیلرز والا 'خصوصی سیلز ٹیکس' ادا نہیں کیا، جس کی وجہ سے لگ بھگ ساڑھے پانچ کروڑ روپے کا ٹیکس بقایا نکلتا ہے۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ کمپنی کے ڈائریکٹرز کے ایک ذاتی بینک اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے جمع ہوئے، جنہیں ڈپارٹمنٹ نے کمپنی کی 'چھپائی گئی کمائی' قرار دے کر اس پر بھی ٹیکس مانگ لیا۔ ٹیکس افسران نے کمپنی کی ایک نہ سنی اور جب کمپنی نے پہلی اپیل کی، تو وہاں سے بھی کوئی خاص ریلیف نہ ملا۔ آخر کار، اس ناانصافی کے خلاف سیفم کمپنی انصاف کی تلاش میں اپلیٹ ٹریبیونل انلینڈ ریونیو، لاہور کے پاس پہنچ گئی۔
عدالت میں سیفم کمپنی کے وکیل نے قانون کی روشنی میں ایسے پکے دلائل دیے کہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے افسران لاجواب ہو گئے۔ وکیل نے سب سے پہلے دائرہ اختیار (Jurisdiction) کا قانونی نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جس اسسٹنٹ کمشنر نے یہ ساڑھے پانچ کروڑ کا بڑا فیصلہ سنایا، قانون کے تحت ان کے پاس اتنے بڑے کیس کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق ہی نہیں تھا کیونکہ ان کا قانونی اختیار صرف 5 لاکھ روپے تک کے کیسز کا تھا۔ مزید یہ کہ جب یہ نوٹس جاری ہوا، اس وقت کمپنی کا کیس قانونی طور پر لاہور کے RTO کے ماتحت تھا، جبکہ نوٹس LTU کے افسر نے جاری کر دیا، جو کہ قانون کی سراسر خلاف ورزی تھی۔ ان تکنیکی بنیادوں پر یہ پورا کیس ہی شروع سے غیر قانونی ثابت ہو گیا۔
کیس کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ وہ تھا جب مینوفیکچرر بمقابلہ ریٹیلر (Manufacturer-cum-Retailer) کی قانونی حیثیت پر بحث شروع ہوئی۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ بنیادی طور پر ایک کارخانہ دار (Manufacturer) ہیں، اور قانون کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ اگر کوئی کارخانہ دار اپنی ہی بنائی ہوئی چیزیں اپنے آؤٹ لیٹس پر بیچے، تو اس کی اصل حیثیت کارخانہ دار کی ہی رہتی ہے، اسے عام دکاندار یا 'ریٹیلر' نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا، ریٹیلرز کے لیے بنائے گئے خصوصی ٹیکس قوانین ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ خود حکومت نے بھی بعد میں قانون میں ترمیم کر کے یہ بات بالکل صاف کر دی تھی کہ مینوفیکچرر-کم-ریٹیلر پر یہ ٹیکس نہیں لگے گا، اور عدالت نے مانا کہ اس ترمیم کا فائدہ کمپنی کو پچھلے سالوں کے لیے بھی ملنا چاہیے۔
عدالت نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے دہرے معیار اور ناانصافی کو بھی بری طرح بے نقاب کیا۔ معزز جج صاحبان نے نوٹ کیا کہ اس دور میں کپڑے کی مصنوعات پر حکومت کی طرف سے **زیرو ریٹڈ (0% ٹیکس)** کی سہولت حاصل تھی۔ ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب کوئی کمپنی ایسی چیزیں بناتی جس پر 16 فیصد ٹیکس لاگو ہوتا، تو ڈپارٹمنٹ اسے مینوفیکچرر کہہ کر پورا 16 فیصد مانگتا تھا۔ لیکن چونکہ یہاں کپڑے پر صفر فیصد ٹیکس تھا، تو ڈپارٹمنٹ نے زبردستی سیفم کو 'ریٹیلر' کہنا شروع کر دیا تاکہ کسی نہ کسی بہانے 0.75 فیصد کا ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ ٹریبیونل نے اسے آئینِ پاکستان کے ارٹیکل 25 (قانون کے سامنے سب برابر ہیں) کی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ مارکیٹ کے دوسرے بڑے برانڈز کو چھوڑ کر صرف سیفم کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
جہاں تک ڈائریکٹرز کے ذاتی بینک اکاؤنٹ کا تعلق تھا، عدالت نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو یاد دلایا کہ آپ لوگ انھی اکاؤنٹس پر انکم ٹیکس کا کیس پہلے ہی ہار چکے ہیں اور وہاں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس پیسے کا کمپنی کی سیلز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ وہ فیصلہ حتمی ہو چکا تھا، اس لیے اب دوبارہ سیلز ٹیکس کے بہانے اسی پرانے معاملے کو اٹھانا بالکل غلط ہے۔ آخر کار، اپلیٹ ٹریبیونل نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے تمام دعووں کو قانون اور انصاف کے خلاف پایا۔ معزز عدالت نے سیفم کمپنی کی اپیل کو مکمل طور پر منظور کرتے ہوئے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے جاری کردہ تمام آرڈرز کو منسوخ کر دیا اور کروڑوں روپے کی ناجائز ٹیکس ڈیمانڈ کو جڑ سے ختم کر دیا۔
انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں