13/04/2026
قانون کی نظر میں ایک ہی آمدن پر دو بار ٹیکس؟ ناممکن!
زرعی آمدن محفوظ ہے… بس ثبوت مضبوط ہونا چاہیے
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کا ہے، جس میں ایک نہایت اہم قانونی نکتہ زیرِ بحث آیا: کیا زرعی آمدن (Agricultural Income) کو فیڈرل انکم ٹیکس کے تحت ٹیکس کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
یہ کیس “Commissioner Inland Revenue vs. Dr. Abid Hussain” کے نام سے سامنے آیا، جہاں محکمہ ٹیکس کا مؤقف یہ تھا کہ ٹیکس دہندہ نے اپنی زرعی آمدن پر صوبائی زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا، اس لیے اس آمدن کو “other sources” کے تحت ٹیکس کیا جائے۔ دوسری طرف، ٹیکس دہندہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ زرعی آمدن حقیقت میں موجود تھی اور اس پر ٹیکس ادا بھی کیا جا چکا ہے۔
کہانی کا آغاز 2009 کے ٹیکس سال سے ہوتا ہے، جب ڈاکٹر عابد حسین نے اپنی آمدن میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار روپے زرعی آمدن ظاہر کی، جسے قانون کے مطابق مستثنیٰ (exempt) سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، محکمہ انکم ٹیکس نے اس پر اعتراض اٹھایا اور یہ کہا کہ چونکہ اس آمدن پر صوبائی زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، اس لیے اسے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ٹیکس کیا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر اسسمنٹ کو دوبارہ کھولا گیا اور بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیا۔
لیکن جیسے جیسے کیس آگے بڑھا، پہلے Commissioner Inland Revenue (Appeals) اور پھر Appellate Tribunal Inland Revenue نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان فورمز نے واضح کیا کہ اگر ایک ہی آمدن پر وفاق اور صوبہ دونوں ٹیکس لیں، تو یہ “double taxation” ہو جائے گا، جو کہ قانوناً درست نہیں۔
جب معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچا، تو ایک اہم موڑ آیا۔ ٹیکس دہندہ نے عدالت کے سامنے زرعی ٹیکس کی ادائیگی کا ثبوت (Challan Form) پیش کر دیا۔ عدالت نے اس ثبوت کو مضبوط اور ناقابلِ تردید قرار دیا۔ یہاں عدالت نے ایک بنیادی آئینی اصول کو دہراتے ہوئے کہا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا اختیار صرف صوبائی حکومت کے پاس ہے، نہ کہ وفاق کے پاس۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پہلے کے ایک اہم مقدمے “Tasneem Akhtar Case (2023 PTD 3012)” کا حوالہ بھی دیا، جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص زرعی آمدن کا دعویٰ کرے مگر اس کا ثبوت یا زرعی ٹیکس کی ادائیگی ثابت نہ کر سکے، تو ایسی رقم کو Income Tax Ordinance 2001 کے تحت سیکشن 111 کے مطابق “unexplained income” سمجھ کر ٹیکس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کیس میں چونکہ ادائیگی کا ثبوت موجود تھا، اس لیے یہ اصول لاگو نہیں ہوا۔
آخرکار، عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ٹیکس دہندہ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اور زرعی آمدن واقعی زرعی ہی ہے، جس پر وفاقی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ اس بنیاد پر محکمہ ٹیکس کی درخواست مسترد کر دی گئی اور فیصلہ ٹیکس دہندہ کے حق میں دے دیا گیا۔
یہ فیصلہ ایک اہم سبق دیتا ہے:
اگر آپ زرعی آمدن ظاہر کرتے ہیں، تو صرف دعویٰ کافی نہیں—اس کا ثبوت اور صوبائی ٹیکس کی ادائیگی لازمی ہے۔ ورنہ وہی آمدن آپ کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے اور اسے “other sources” کے تحت ٹیکس کیا جا سکتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، یہ کیس “ثبوت” کی طاقت اور “ڈبل ٹیکسیشن” کے خلاف قانون کی حفاظت کی ایک واضح مثال ہے۔