Fearless Follows # Asad Jutt

Fearless Follows # Asad Jutt My Name Is Muhammad Asad & I am a Freelancer

26/05/2025

سومنات کا مندر ۔۔۔۔۔۔۔۔
سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ہندوستان کے سب راجے اس کے لیے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لیے وقف کرتے جوکہ ساری عمر کنواری رہتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا، ہر وقت 2000 برہمن پوجا پاٹ کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور 500 گانے بجانے خوبصورت عورتیں اور 300 قوال ملازم تھے، سومنات کے بت کی چھت 56 ستونوں پہ قائم تھی وہاں مصنوعی یا سورج کی روشنی کا بندوبست بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ہال کے قندیلوں میں جڑے اعلیٰ درجے کے جواہرات روشنی مہیا کرتے تھے،
ﷲ کے دلاور سلطان محمود غزنوی بت شکن نے سونے و چاندی کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندنے کے بعد بادشاہ بت کے سامنے جا کھڑے ہوئے، یہ بت 6 فٹ زمین کے اندر اور 9 فٹ زمین سے بلند تھا-
اسی دوران شہر کے معزز سمجھے جانے والے ہندوؤں نے منہ مانگی مال و دولت کی پیش کش کی کہ سومنات کے بادشاہ بت کو کچھ نا کہیں، تو سلطان محمود غزنوی کے دیسی دانشوروں نے مشورہ دیا کہ پتھر کو توڑنے کا کیا فائدہ جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا (یہی کنویں میں کتے والی سوچ ہمارے آجکل کے حکمرانوں کی بے کہ جہاد میں کیا فائدہ ہم اپنی معیشت مضبوط کرتے ہیں)
سلطان محمود غزنوی نے دیسی دانشوروں کی بات سُن کر کہا کہ "اگر میں نے تمھاری بات مان لی تو دنیا اور تاریخ مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میری چاہت یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں مجھے محمود بُت شکن کے نام سے پکارا جائے"
یہ کہتے ہی محمود بُت شکن کی توحیدی غیرت جوش میں آئی اور ہاتھ میں پکڑا ہوا گرز سومنات کے دے مارا، اس کا منہ ٹوٹ کر دور جا گرا، پھر سلطان کے حکم پہ اس کے دو ٹکڑے کیے گئے تو اس کے پیٹ سے اس قدر بیش بہا قیمتی ہیرے، جواہرات اور موتی نکلے کہ جو ہندو معززین اور راجوں کی پیش کردہ رقم سے 100 گنا زیادہ تھے

محمود غزنوی نے وہ بت توڑا جو فتح مکہ سے ایک رات قبل بنو اُمیہ کے سردار نے کعبہ سے ٹرانسفر کروایا تھا کہ اسے سنبھال کے رکھنا ، ہم لینے آئیں گے ، وہ تو نہ آسکے لیکن بنو ہاشم سے محمود غزنوی ضرور پہنچ گیا توڑنے ..

اسی لئے کافر مورخین سلطان کو ڈاکو کہتے ہیں .. جبکہ اسلام اسے مال غنیمت کہتا ہے ۔
یاد رکھیں غیرت مند مسلمان بت شکن ہے... بت فروش نہیں..

بت شکن سلطان محمود غزنوی رح وہ ہستی ہے، جب ظاہر شاہ کی
حکومت میں 1974 ء کو زلزلہ
آیا ،محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی۔ منتظمین نے قبر کو ٹھیک کرنے کیلئے پوری قبر کھول دی۔ اس کو مرے ہوئے 1000 سال ہو گئے تھے۔ ان کی قبر میں عجیب منظر تھا، اس کا کفن تک میلا نہیں ہوا تھا۔ 1000 سال بعد بھی اس کا کفن ویسے کا ویسا ہی تھا۔ اس کاہاتھ سینے پر تھا اور کفن سینے سے کھلا ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اسے آج ہی کوئی قبر میں اتار کر گیا ہے۔ اس کے ہاتھ کو ہاتھ لگایا گیا تو وہ نرم و نازک تھا۔ ساری دنیا میں اس بات کی خبر پھیل گئی۔

اللہ کے دین ، ملک و ملت کی حفاظت کرنے والوں کو اللہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بلند مقام عطا کرتا ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو عمل نیک کرنے کی توفیق دے آمین

26/05/2025

:

🕌✨ Zaheer-ud-din Babur – The Founder of the Glorious Mughal Empire ✨🕌

Did you know that the mighty Mughal Empire began with a young warrior from Central Asia?

👑 Born in 1483, Zaheer-ud-din Babur was a descendant of two legendary conquerors — Timur and Genghis Khan. At just 12 years old, he became king of a small kingdom called Fergana. But Babur dreamed of something far greater.

In 1526, Babur made history by defeating the Sultan of Delhi, Ibrahim Lodi, at the Battle of Panipat. With brilliant military tactics and the use of gunpowder cannons, he laid the foundation of what would become one of the most powerful and culturally rich empires in South Asia — the Mughal Empire.

📚 Babur wasn’t just a warrior — he was a poet, a nature lover, and the author of the Baburnama, one of the earliest autobiographies in Islamic literature.

Though he ruled India for only 4 years, his legacy lived on through great Mughal emperors like Akbar the Great and Shah Jahan, who built the Taj Mahal.

26/05/2025

Mughal Empire Begins: The Heroic Story of Babur

22/04/2025

ٹپُو سلطان: مائیسور کا شیر​

ٹپُو سلطان، جنہیں "مائیسور کا شیر" بھی کہا جاتا ہے، 1 دسمبر 1751 کو دیونہلی (موجودہ بنگلور) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، حیدر علی، مائیسور کے طاقتور حکمران تھے، اور ٹپُو نے بچپن سے ہی فوجی تربیت اور حکومتی امور میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔​

1782 میں اپنے والد کی وفات کے بعد، ٹپُو سلطان مائیسور کے حکمران بنے اور برطانوی سامراج کے خلاف جنگوں کی قیادت کی۔ انہوں نے چار انگریز-مائیسور جنگوں میں حصہ لیا اور انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی۔ ان کی فوجی حکمت عملیوں میں راکٹوں کا استعمال اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی اپنانا شامل تھا، جس نے ان کی جنگی صلاحیتوں کو منفرد بنا دیا۔​

ٹپُو سلطان نے اپنی حکومت میں اصلاحات کیں، زراعت، تجارت اور صنعت کو فروغ دیا، اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے والدین کی قبروں کے لیے 1782-84 میں گمبز، سری رنگا پٹنا میں ایک عظیم مقبرہ تعمیر کیا۔ ان کی حکمت عملیوں اور قربانیوں کی بدولت، وہ آج بھی ہندوستان کی تاریخ میں ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔​

یہ تصویر ٹپُو سلطان کی ایک تاریخی پینٹنگ ہے، جو ان کی عظمت اور جنگی حکمت عملیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

14/04/2025

Never Give Up

The Tiny Ant That Could

One hot summer day, a little ant was carrying a grain of rice back to its anthill. The journey was long, and the grain was heavy. Halfway there, the ant slipped and dropped the rice. Tired and sore, it looked at the grain, then at the path ahead. It could have given up.

But it didn’t.

The ant picked up the grain again and started walking. It stumbled a second time. And a third. Each time, it stood up, picked up the grain, and tried again.

Finally, after many attempts, the ant reached the anthill and placed the grain inside. The other ants cheered, not because the grain was big, but because the little ant never gave up.

Moral of the story:
Success doesn’t always come to the strongest, but to those who refuse to quit.

01/04/2025

The Wise Farmer and His Son

Once upon a time, there was a farmer who lived with his young son. One day, the farmer fell ill and could no longer work in the fields. Seeing his father in pain, the son decided to take over the work. He worked hard every day but struggled to keep up with the demands of the farm.

One evening, the son sat beside his father and said, "I’ve worked so hard, but it seems like the more I do, the more I fall behind. What should I do?"

The father, with a gentle smile, said, “My son, remember this: The work you do doesn’t define your success. It’s the patience, perseverance, and belief in yourself that will get you through.”

The son thought about his father’s words. Over time, he learned to work smarter, not harder, and never gave up. Eventually, the farm flourished, and the son was able to take care of the land with ease.

Moral of the Story: Success isn’t just about hard work. It’s about patience, perseverance, and having faith in your abilities.

26/03/2025

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جادوئی جنگل میں سیمی نام کی ایک عجیب سی گلہری رہتی تھی۔ سیمی کے پاس سب سے خوبصورت چمکدار فر کوٹ تھا اور پورے جنگل میں سب سے بڑی، سب سے تیز دم تھی۔ اسے اپنے دوستوں، پرندوں اور خرگوشوں کے ساتھ تلاش کرنا اور کھیلنا پسند تھا۔

ایک دن، جنگل کے ایک نئے حصے کی تلاش کے دوران، سیمی ایک پراسرار غار سے ٹھوکر کھا گیا۔ تجسس نے اسے سب سے بہتر محسوس کیا، اور وہ بہادری سے تاریک غار میں داخل ہو گیا۔ اندر، اسے ایک چمکتا ہوا کرسٹل ملا جو اندردخش کے تمام رنگوں میں چمک رہا تھا۔ اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو کر سیمی اسے چھونے کے لیے آگے بڑھی۔

اچانک، غار کے اندر سے ایک زوردار گڑگڑاہٹ گونجی، اور کرسٹل مزید روشن اور چمکنے لگا۔ اس سے پہلے کہ سیمی یہ جانتا، وہ روشنی کے بھنور میں گھرا ہوا تھا اور خود کو ہوا میں تیرتا ہوا پایا۔ کرسٹل نے اسے پرواز کی طاقت عطا کی تھی!

پرجوش اور تھوڑا سا خوف زدہ، سیمی جنگل میں بڑھتا ہوا نئی بلندیوں اور مہم جوئیوں کو دریافت کرتا رہا۔ اس دن سے، سیمی کو فلائنگ اسکوائرل کے نام سے جانا جانے لگا، اور اس کے دوستوں نے اس کی خوشی منائی جب وہ آسمان پر اڑ رہا تھا، وہ جہاں بھی گیا خوشی اور حیرت پھیلاتا تھا۔ اور وہ سب جادوئی جنگل میں خوشی سے رہتے تھے۔ آخر۔

Address

Manga Mandi
Lahore
10840

Telephone

+923044790147

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fearless Follows # Asad Jutt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fearless Follows # Asad Jutt:

Share

Category