31/08/2026
ایف بی آر کا موجودہ پورٹل IRIS 2.0 مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ IRIS 3.0 لایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں اس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے:
IRIS 3.0 میں کیا نیا ہوگا؟
• یہ صرف پورٹل اپ ڈیٹ نہیں، بلکہ ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سنٹرل ڈیٹا ہب ہے، جسے جدید، انٹیگریٹڈ اور ڈیٹا ڈریون بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات بھی لی گئی ہیں۔ • Pre-filled Returns: تنخواہ، بینکنگ، پراپرٹی اور گاڑیوں کا ڈیٹا خودکار طریقے سے سسٹم کھینچ لے گا، جس سے ریٹرن فائل کرنے میں گھنٹوں کے بجائے منٹ لگیں گے۔ • Single Integrated Account: ایک ہی IRIS ویو میں آپ کے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تمام واجبات، کریڈٹ اور ریفنڈز نظر آئیں گے۔ • Faceless System: آڈٹ اور اسسمنٹ اسلام آباد میں قائم دو الگ ونگز کریں گے - National Faceless Audit Wing (NFAW) اور **National Assessment Wing (NAW)**۔ فیلڈ افسران کے پاس نوٹس جاری کرنے یا آڈٹ کا اختیار نہیں رہے گا، تاکہ کرپشن اور ہراسانی ختم ہو۔ • کیس الاٹمنٹ الگورتھم سے ہوگی اور تمام رابطہ آن لائن پورٹل پر لاگ ہوگا۔
ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کے مطابق یہ اصلاحات 2024 میں شروع ہوئیں اور اسی کی بدولت ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.83% سے بڑھ کر 10.33% ہو گیا ہے۔ نئے سسٹم کا فیز وائز رول آؤٹ اکتوبر 2026 سے شروع کرنے کا پلان ہے۔
فنانس منسٹر کے مطابق IRIS 3.0 میں pre-filled data, automated workflows اور بہتر user experience پر فوکس ہے تاکہ عام ٹیکس دہندہ کے لیے فائلنگ آسان ہو جائے۔