04/04/2026
ٹیکس نظام میں بڑی ہلچل
ایف بی آر کا نیا حکم جاری
اب ہر سیل ریئل ٹائم رپورٹ ہوگی اور ڈیجیٹل انوائس میں تبدیلی صرف 72 گھنٹوں کے اندر ممکن ہوگی!
یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس نظام کو مزید ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ 30 مارچ 2026 کو جاری ہونے والے Sales Tax General Order نمبر 01 آف 2026 کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اب سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ افراد کے لیے اپنی سیلز کو ریئل ٹائم میں رپورٹ کرنا لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہر سیل کی انوائس فوری طور پر FBR کے سسٹم میں رپورٹ ہوگی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی اور فراڈ کے امکانات کم ہوں گے۔
اس آرڈر کی بنیاد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی سیکشن 23 کی شق (5) اور (6) پر ہے، جو FBR کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی کاروبار کو اپنے سسٹم کو FBR کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک (integrate) کرنے کا پابند بنا سکے۔ پہلے SRO 1413(I)/2025 کے ذریعے یہ لازم کیا گیا تھا کہ تمام رجسٹرڈ افراد صرف ایک لائسنس یافتہ انٹیگریٹر کے ذریعے ڈیجیٹل انوائسز جاری کریں، مگر اس میں کچھ مشکلات سامنے آئیں، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو ایک سے زیادہ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔
اب نئے آرڈر میں اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے FBR نے اجازت دے دی ہے کہ کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق ایک سے زیادہ licensed integrators کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ FBR سے منظور شدہ ہوں۔ اس سے کاروباری افراد کو زیادہ flexibility ملے گی اور ان کے لیے سسٹم کو manage کرنا آسان ہو جائے گا۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سیلز ٹیکس انوائس غلطی سے بن جائے تو اسے صرف 72 گھنٹوں کے اندر FBR کے سسٹم کے ذریعے درست، delete یا cancel کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ مدت گزر جائے تو پھر کوئی بھی تبدیلی صرف متعلقہ Commissioner Inland Revenue کی پیشگی اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔ اس شرط کا مقصد یہ ہے کہ غیر ضروری رد و بدل کو روکا جائے اور ہر انوائس کی authenticity برقرار رہے۔
مجموعی طور پر، یہ آرڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں ہر لین دین ریکارڈ میں ہوگا اور نگرانی مزید سخت ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایماندار کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا، جبکہ دوسری طرف غیر شفاف طریقوں کے لیے گنجائش کم ہوتی جائے گی۔