18/07/2026
یہ ہے انڈیا کے مایا ناز سائنس دان اور انجنئیر سونم وانگچوک ۔ان کی کہانی بڑے مزے کی ہے کہ کیسے وہ لداخ کے ایک چھوٹے گاؤں سے اپنا سائنسی ویژن لے کر نکلتے ہیں، پڑھ لکھ کر انجینئر بنتے ہیں اور پھر لداخ میں ایسے سائنسی پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں کہ جس سے آج بھی وہاں کے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
ان کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں سونم سر بتاتے ہیں کہ لداخ میں انھوں نے ایک ادارہ بنایا ہے جہاں پر صرف انھیں بچوں کو داخلہ ملتا ہے جو باقی سکولوں میں فیل کر دیے جائیں ۔ یعنی اگر ایک بچے کے نمبر 90 فیصد ہے اسے داخلہ نہیں ملتا لیکن 40 فیصد والے بچے کو ایڈمیشن مل جاتا ہے ۔
سونم وانگچوک کہتے ہیں جب میں نے دیکھا جن بچوں کو پڑھائی میں بیکار سمجھ کر نکال دیا جاتا کیوں نا انھیں اپنی طرز پر تیار کروں اور معاشرے میں نایاب نوجوان پیدا کیے جائیں ۔ یہ ایک اعلی دماغ کا بندہ ہی سوچ سکتا ہے ۔
تھری ایڈیٹس فلم میں عامر خان نے جس انسان کا کردار نبھایا اور پوری کہانی جس کے گرد گھومتی رہی وہ یہی سونم وانگچوک ہے ۔ انڈیا کا قومی ہیرو جس نے ملک کے لیے بہت کچھ دیا لیکن آج وہ سونم وانگچو جنتر منتر دہلی میں اٹھارہ دنوں سے بھوکے ہیں ۔ انھوں نے انڈیا کی تعلیمی نظام میں بدلاؤ لانے کے لیے دھرنا دیا ہے اور بھوک ہڑتال کر رکھی ہے ۔ ان کی جسمانی حالت دن بدن بگڑ رہی ہیں اور مسلز پگھل رہے ہیں ۔ ڈاکٹر کے مطابق ان کا تقریباً 9 کلو وزن کم ہوچکا اور نقاہت طاری ہے ۔
اصل دھرنا تب شروع ہوا جب پچھلے عرصے انڈیا میں نیٹ کے پرچے لیک ہوئے جس سے بچوں کی محنت کے ساتھ کھلواڑ ہوا اور کوئی بیس کے قریب بچوں نے اپنے ہاتھوں سے جان لے لی ۔ تب جین زی کی کاکروچ جنتا پارٹی اس کے خلاف آواز اٹھاتی اور سونم وانگچوک اس احتجاج میں شامل ہوتے ہیں اور بھوک ہڑتال کرتے ہیں ۔
مطالبہ ان کا ایک ہی ہے وزیر تعلیم استعفیٰ دے ورنہ یہ احتجاج جاری رہے گا، لیکن مودی سرکار کے کان پر جو تک نہیں رینگتی وہ سوچ رہی ہے 2018 میں ایک پروفیسر جی ڈی اگروال نے بھی 101 دن بھوک ہڑتال کر رکھی تھی پھر مر گیا، ویسے ہی یہ انجینئر بھی راستے سے ہٹ جائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے ہمارے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے ایسے سٹینڈ کیوں نہیں لیے جاتے، وجہ ایک ہی ہے کہ کرپٹ لوگوں کا راج اور زیادہ پیسے بٹورنے کا چکر ۔
محمود الحسن