Hamza Tax Consultant

Call Directions Contact the business

Hamza Tax Consultant Income Tax Consultant firm. We provide services of Company Registration, Income & Sales Tax

📢 𝐀𝐭𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐓𝐚𝐱𝐩𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬 & 𝐂𝐥𝐢𝐞𝐧𝐭𝐬!The deadline to submit your Income Tax Return for Tax Year 2026 is September 30th, 2026....
07/08/2026

📢 𝐀𝐭𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐓𝐚𝐱𝐩𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬 & 𝐂𝐥𝐢𝐞𝐧𝐭𝐬!
The deadline to submit your Income Tax Return for Tax Year 2026 is September 30th, 2026.

File on time to protect your Active Taxpayer status, avoid higher withholding tax rates, and prevent unnecessary penalties.

📩 Need help filing? Send us a message or call today to get your returns submitted smoothly before the deadline!
CONTACT:03013942008

30/06/2026

📢 انکم ٹیکس گوشوارہ برائے ٹیکس سال 2026 کی فائلنگ کا آغاز یکم جولائی 2026 سے ہو رہا ہے۔

اس سال انکم ٹیکس قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ غلط، نامکمل یا بروقت گوشوارہ جمع نہ کرانے کی صورت میں ایف بی آر کو جرمانوں، آڈٹ اور دیگر قانونی کارروائیوں کے مزید اختیارات بھی حاصل ہو چکے ہیں۔

لہٰذا اپنا ریٹرن ہمیشہ مکمل ریکارڈ اور درست معلومات کے ساتھ کسی مستند، تجربہ کار اور قابلِ اعتماد ٹیکس پروفیشنل سے ہی فائل کروائیں۔
ایسے شخص کا انتخاب کریں جسے آپ جانتے ہوں، جس سے بوقتِ ضرورت آسانی سے رابطہ کیا جا سکے اور جس کا باقاعدہ دفتر موجود ہو۔

صرف کم فیس یا آن لائن سہولت کی خاطر غیر ذمہ دار افراد سے ریٹرن فائل کروانا بعد میں مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رکھیں!
آج کی تھوڑی سی احتیاط اور ذمہ داری، کل کے بھاری جرمانوں، آڈٹ، قانونی پیچیدگیوں، ذہنی دباؤ اور مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔ درست ریٹرن آپ کے مالی تحفظ اور ذہنی اطمینان کی ضمانت ہے۔

28/06/2026

فائلر بننے کیلئے سرچارج کب سے ادا کرنا پڑ سکتا ہے. °
جو لوگ کہہ رہے کہ جلدی جلدی دو تین دن کے اندر فائلر بنو ہزار روپے جمع کراؤ وہ غلط بتا رہے ہیں ۔ 30 جون کو ٹیکس ائیر 2026 مکمل ہوگا۔ 30 ستمبر تک آپ 2026 کی اپنی ریٹرن فائل کریں آپ کو کوئی سرچارج ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہاں اگر تیس ستمبر کے بعد آپ اپنی ریٹرن فائل کرتے ہیں اس کے بعد سرچارج ادا کرنا ہوگا تاکہ آپ فائلر بنیں ( ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آئیں)

22/06/2026

🚨 ایف بی آر کا بڑا کریک ڈاؤن: نان فائلرز اور غلط ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے وارننگ! 🚨
اگر آپ نے بینک میں لاکھوں کروڑوں روپے رکھے ہوئے ہیں لیکن اپنے ٹیکس گوشواروں (Tax Returns) میں آمدن 'زیرو' ظاہر کی ہے، تو اب ہوشیار ہو جائیں! **یکم اکتوبر** سے وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) ایک بڑا اور سخت ایکشن شروع کرنے جا رہا ہے۔

# # # 📈 ویڈیو کے اہم اور سنسنی خیز حقائق:
* **8,697 افراد کا ڈیٹا تیار:** ایسے افراد جن کے بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر **750 ارب روپے** سے زائد موجود ہیں، لیکن انہوں نے ریٹرنز میں اپنی آمدن 'زیرو' دکھائی ہے۔

* **99% کا ڈیٹا مشکوک:** ہائی ڈپازٹس رکھنے والے 99 فیصد افراد کی مالی سرگرمیاں ان کے ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت ہی نہیں رکھتیں۔

* **چھوٹے ریٹیلرز پر بھی کڑی نظر:** فکسڈ ٹیکس سکیم سے باہر موجود چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

**یاد رکھیں!**
میٹرک فیل کچہری کے پھٹے والوں، پٹواریوں، بینک عملے یا غیر قانونی وثیقہ نویسوں سے سستے اور عارضی فائدے کے لیے ریٹرنز فائل کرانا اب آپ کو بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ غلط یا ادھوری معلومات کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ منجمد (Freeze) ہو سکتا ہے اور بھاری جرمانے بھی لگ سکتے ہیں۔
>
⚖️ اب وقت ہے ایک پروفیشنل اور تجربہ کار ٹیکس کنسلٹنٹ سے رجوع کرنے کا!

اپنے اثاثوں کو محفوظ بنائیں اور قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رہیں
🚨 ایف بی آر کا بڑا کریک ڈاؤن: نان فائلرز اور غلط ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے وارننگ! 🚨

09/06/2026

فنانس ایکٹ 2021 کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 122 میں کی گئی ترامیم کے نتیجے میں ایف بی آر افسران کے اختیارات میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں تمام اثاثے، اخراجات اور ذرائع آمدن درست اور مکمل طور پر ظاہر کریں۔ اگر انکم ٹیکس ریٹرن باقاعدگی سے فائل کی گئی ہو اور ٹیکس کنسلٹنٹ نے خصوصاً بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر مالی معاملات کا مکمل جائزہ لے کر ریٹرن تیار کی ہو تو عام حالات میں کسی بھی افسر کے لیے سیکشن 122 کے تحت ریٹرن میں ترمیم کرنا آسان نہیں رہا۔
سیکشن 122(5) کے تحت اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کو صرف اسی صورت میں ریٹرن میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے جب اس کے پاس ایسی Definite Information موجود ہو جو ٹیکس دہندہ کی جانب سے ظاہر نہ کی گئی آمدن، اثاثوں یا اخراجات کی نشاندہی کرتی ہو۔ عموماً ایسی صورت میں پہلے سیکشن 111 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور بعد ازاں، اگر قانوناً جواز موجود ہو، تو سیکشن 122 کے تحت ترمیمی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
اسی طرح سیکشن 122(5A) کے تحت ایڈیشنل کمشنر کے اختیارات انتہائی محدود ہیں۔ وہ صرف ایسی واضح غلطی کی اصلاح کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حکومتی ریونیو کم ہو رہا ہو۔ ایڈیشنل کمشنر کو سیکشن 122(5A) کے تحت انکوائری (Inquiry) کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ سیکشن 111 کے تحت نوٹس جاری کر سکتا ہے۔ مزید برآں، قانون میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ سیکشن 122 کے تحت جاری کیے گئے شوکاز نوٹس پر افسر کو ایک سال کے اندر اندر فیصلہ کرنا لازم ہے۔
اگر ٹیکس دہندہ نے اپنی آمدن، اخراجات اور اثاثے مکمل اور درست طور پر ظاہر کیے ہوں تو ایسی صورت میں ریٹرن کی مزید جانچ پڑتال کا مناسب قانونی راستہ سیکشن 177 کے تحت آڈٹ ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ افسر کو پہلے ڈیسک آڈٹ کرنا اور بعد ازاں کمشنر سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر ریٹرن، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینکنگ ٹرانزیکشنز اور دیگر مالی معلومات درست اور مکمل طور پر ظاہر کی گئی ہوں تو محض ڈیکلریشن کی بنیاد پر افسر کے پاس Definite Information کے تحت ٹیکس دہندہ کو نوٹس کرنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی عدالتوں کے لیئے اس بنیاد پر کی جانے والی ترمیمی کارروائی قانوناً قابلِ قبول ہیں۔ ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ، بینک ریکارڈ اور ٹیکس ریٹرن میں مکمل مطابقت رکھیں تاکہ غیر ضروری ٹیکس تنازعات سے بچا جا سکے۔

We provide online services all over Pakistan in; 1. NTN Registration 2. Return Filling 3. GST Registration 4. Company Re...
31/10/2025

We provide online services all over Pakistan in;
1. NTN Registration
2. Return Filling
3. GST Registration
4. Company Registration SECP
5. Firm Registration
6. Sole Proprietorship / AOP
7. NGO Registration
8. Private Limited
9. Chamber of Commerce Registration
10. Import Export License
11. Audit Closure within weeks
12. TR-1, POS installation and solution.
13.All types of Tax related issues other than mentioned above.
Feel free to contact us at;
Whatsapp:
0301 3942008

09/10/2025

کل ایک بزنس مین صاحب میرے دفتر آئے، بڑے مطمئن انداز میں کہنے لگے:
“سر! میں نے اپنے اکاؤنٹنٹ کو کہا ہے کہ ریٹرن میں زیادہ سے زیادہ خرچے ڈال دو تاکہ ٹیکس کم ہو جائے۔”

میں نے مسکرا کر پوچھا، “اچھا، یہ خرچے آپ کے ہیں یا اکاؤنٹنٹ کے؟”
وہ بولے، “بس ڈالنے سے کیا فرق پڑتا ہے، چیک تو کوئی نہیں کرتا!”

میں نے آہستہ سے کہا، “فلحال تو شاید نہ کرے…
مگر جب FBR کرے گا، تو پھر یہ خرچے نہیں، دردِ سر بن جائیں گے۔”

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس بچانا چاہتے ہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ وہ غلط طریقے سے بچانا چاہتے ہیں۔

جعلی اخراجات، بوگس رسیدیں، اور جھوٹے کلیمز وقتی سکون دیتے ہیں،
لیکن کل کو ایک audit notice آ جائے تو سب سکون ہوا ہو جاتا ہے۔

دوستو!
ٹیکس ریٹرن میں “چالاکی” نہیں، “درستگی” کرو۔
جتنی سچائی سے کاروبار کرو، اتنی ہی سچائی سے گوشوارہ بھی فائل کرو۔

یاد رکھو

ایف بی آر سے زیادہ خطرناک وہ ریٹرن جو غلط فائل کرتے ہیں

ٹیکس سے بچنا نہیں،
سمجھداری سے فائل کرنا سیکھو۔

*🚨Taxpayers, Stay Safe Online!🚨*Filing your tax return means sharing sensitive details like CNIC, bank accounts & proper...
08/09/2025

*🚨Taxpayers, Stay Safe Online!🚨*
Filing your tax return means sharing sensitive details like CNIC, bank accounts & property records. Don’t risk identity theft by using unverified agents or social media ads.

✅ File through the FBR portal or licensed consultants
✅ Never share CNIC/bank details with strangers
✅ Remember: Be vigilant while filing with third parties
Don’t trade convenience for security—protect your identity and stay compliant.
For Detail please visit:
Lahore Office: Xinhua Mall 24-B/2, Mian Mehmood Ali Kasoori Road, Lahore.
Rahim Yar Khan Office: Main Road District Court, Rahim Yar Khan
Contact No: 0301 3942008

فائلر کے بارے میں خطرناک غلط فہمی 🚫مارکیٹ میں کچھ پراپرٹی رجسٹری ڈیلرز 🏠 یا گاڑی ٹرانسفر ایجنٹس 🚗 عوام کو یہ غلط مشورہ د...
18/08/2025

فائلر کے بارے میں خطرناک غلط فہمی 🚫
مارکیٹ میں کچھ پراپرٹی رجسٹری ڈیلرز 🏠 یا گاڑی ٹرانسفر ایجنٹس 🚗 عوام کو یہ غلط مشورہ دیتے ہیں:
"آپ فی الحال عارضی طور پر فائلر بن جائیں، اپنی رجسٹری یا گاڑی ٹرانسفر کروا لیں، اس کے بعد چاہیں تو سسٹم چلائیں یا چھوڑ دیں۔"
⚠️ یہ انتہائی غلط اور نقصان دہ سوچ ہے!
📌 حقیقت یہ ہے کہ:
ایک بار NTN یا فائلر اسٹیٹس لینے کے بعد، ہر سال بروقت انکم ٹیکس گوشوارہ u/s 114 اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ u/s 116 جمع کروانا زندگی بھر کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ ذمہ داری اس بات سے آزاد ہے کہ آپ کی آمدنی ہے یا نہیں، یا آپ کاروبار کرتے ہیں یا نہیں۔
📜 گوشوارہ جمع نہ کروانے پر قانونی سزائیں — سیکشن 182، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001
❌ تنخواہ دار افراد: ایک سال کا جرمانہ 10,000 روپے
❌ کاروباری افراد: ایک سال کا جرمانہ 50,000 روپے
❌ اضافی سزا: واجب الادا ٹیکس کا 📈 %200 تک جرمانہ
💡 یاد رکھیں:
"عارضی فائلر" بننے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس لیے وقتی فائدہ اور مستقل نقصان کا سودا نہ کریں۔
ہر سال بروقت ریٹرن فائل کریں تاکہ نہ صرف قانون کی پابندی ہو بلکہ غیر ضروری جرمانوں اور زیادہ ٹیکس
سے بچا جاسکے۔
0301-3942008

ٹیکس نوٹس: بچت کی کوشش اور بھاری نقصان!پاکستان میں ٹیکس فائلنگ کو اکثر لوگ ایک معمولی سا کام سمجھتے ہیں اور چند روپوں کی...
19/07/2025

ٹیکس نوٹس: بچت کی کوشش اور بھاری نقصان!
پاکستان میں ٹیکس فائلنگ کو اکثر لوگ ایک معمولی سا کام سمجھتے ہیں اور چند روپوں کی بچت کی خاطر غیر معیاری یا ناتجربہ کار افراد سے اپنی ٹیکس فائل جمع کروا لیتے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہی "بچت" مستقبل میں انہیں بھاری نقصان، ذہنی دباؤ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے نوٹسز کی صورت میں واپس مل سکتی ہے۔

سستی فائلنگ کے مہنگے نتائج: ٹیکس نوٹسز کیوں آتے ہیں؟

جب آپ کسی غیر معیاری کنسلٹنٹ سے ٹیکس فائل کرواتے ہیں تو درج ذیل غلطیاں عام ہوتی ہیں جو ایف بی آر کے نوٹس کا باعث بنتی ہیں:

غیر مطابقت شدہ معلومات: آپ کی آمدنی، اثاثوں اور بینک ٹرانزیکشنز کی معلومات کو ٹیکس ریٹرن میں صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کیا جاتا۔ ایف بی آر کے پاس مختلف ذرائع سے آپ کی مالی معلومات موجود ہوتی ہیں، اور جب وہ آپ کے فائل کردہ ریٹرن سے مطابقت نہیں کھاتیں تو نوٹس جاری ہوتا ہے۔

پروفائل میں غلطیاں: آپ کی ٹیکس پروفائل (NTN) میں بنیادی غلطیاں یا ادھوری معلومات، جیسے غلط پتہ، نام یا شناختی کارڈ نمبر، نوٹسز کا سبب بن سکتی ہیں۔

صفر یا کم آمدنی ظاہر کرنا: اگر آپ کی بینک ٹرانزیکشنز زیادہ ہیں یا آپ نے حالیہ پراپرٹی خریدی ہے، اور آپ ٹیکس ریٹرن میں صفر یا انتہائی کم آمدنی ظاہر کرتے ہیں، تو ایف بی آر آپ کو فوری نوٹس بھیج سکتا ہے اور وضاحت طلب کر سکتا ہے۔

اثاثوں کا عدم اظہار: آپ کی جائیدادیں، گاڑیاں، اور دیگر اثاثے اگر ٹیکس ریٹرن میں ظاہر نہیں کیے گئے، تو یہ بھی نوٹس اور جرمانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

لاپرواہی سے دی گئی معلومات: غیر معیاری کنسلٹنٹ اکثر آپ کی دی ہوئی معلومات کو بغیر تصدیق کے یا غلط طریقے سے درج کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایف بی آر کی جانب سے نوٹس موصول ہوتا ہے۔

پاسورڈ کا نہ ملنا: جب آپ کے پاس اپنی ٹیکس پروفائل کا پاسورڈ نہیں ہوتا، تو ایف بی آر سے آنے والے نوٹسز اور ان کا جواب دینے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ آپ کے نام پر کیا کچھ فائل کیا گیا ہے۔

چھوٹی بچت، بڑا پچھتاوا!

چند سو یا ہزار روپے کی بچت کی خاطر اپنی ٹیکس فائلنگ کو غیر سنجیدگی سے لینا آپ کو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کے جرمانے، بینک اکاؤنٹس کی فریزنگ اور دیگر قانونی کارروائیوں کی صورت میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک ٹیکس نوٹس کا جواب دینا اور اس کے بعد کی قانونی پیروی ایک طویل اور مہنگا عمل ہے۔

یاد رکھیں: ایف بی آر کے پاس اب جدید ڈیٹا تجزیاتی نظام موجود ہیں جو کسی بھی قسم کی غلطی یا عدم مطابقت کو فوری پکڑ لیتے ہیں۔

اپنی مالی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ہمیشہ ایک مستند اور تجربہ کار ٹیکس کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کریں۔ آپ کی چھوٹی سی لاپرواہی مستقبل میں بہت بڑا مسئلہ بن سکتی ہے

Address

Rahimyar Khan
64200

Telephone

+923013942008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamza Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hamza Tax Consultant:

Shortcuts

Share