25/08/2026
کیا Input Tax صرف کسی چیز کے نام یا مفروضے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ
📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کراچی
📍 مقدمہ: M/s Omyapack (Pvt.) Ltd. بمقابلہ DCIR, Zone-II, MTO Karachi
📍 حوالہ: 2026 SLD 3429
📍 متعلقہ قانون: Sales Tax Act, 1990
محکمہ نے مختلف خریداریوں، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر حاصل کیے گئے Input Tax کو ناقابلِ قبول قرار دے کر تقریباً 37.24 ملین روپے کی Sales Tax Demand قائم کی، جبکہ اس کے ساتھ Penalty اور Default Surcharge بھی عائد کیا گیا۔
Taxpayer کا مؤقف
Taxpayer نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ نے کئی خریداریوں کو صرف ان کی عمومی نوعیت یا نام کی بنیاد پر ناقابلِ قبول قرار دیا، جبکہ اصل سوال یہ تھا کہ یہ اشیاء حقیقتاً manufacturing process میں کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔
مثلاً Feeding Silo اور اس کا Structure محض تعمیراتی سامان نہیں تھا بلکہ coating machine کی تنصیب اور operation کے لیے استعمال ہونے والا mechanical structure تھا، جو manufacturing process سے براہِ راست منسلک تھا۔
ATIR نے کیا قرار دیا؟
ATIR نے واضح کیا کہ Input Tax کی admissibility صرف کسی چیز کے نام سے طے نہیں ہوگی بلکہ اس کے حقیقی استعمال کو دیکھا جائے گا۔
Tribunal نے قرار دیا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ:
کیا goods taxable business میں استعمال ہوئے؟
کیا Section 8 کے تحت ان پر کوئی statutory exclusion لاگو ہوتی ہے؟
کیا supporting tax invoices قانون کی شرائط پوری کرتی ہیں؟
اسی لیے متعدد disputed purchases کا معاملہ factual verification کے لیے DCIR کو واپس بھیج دیا گیا، تاکہ goods کی اصل نوعیت، actual use اور متعلقہ documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کیا جائے۔
بجلی کے Input Tax کا اہم نکتہ
محکمہ نے تقریباً 27.03 ملین روپے کا بجلی کا Input Tax اس بنیاد پر مسترد کیا کہ supplier کے پاس Taxpayer کو فراہم کرنے کے لیے surplus electricity موجود نہیں تھی اور transaction کا مقصد Input Tax بڑھانا تھا۔
Taxpayer نے valid tax invoices، banking channel کے ذریعے payment، supplier کی Sales Tax Returns میں Output Tax اور valid NEPRA licence کا ریکارڈ پیش کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ محکمہ نہ transaction کو fictitious ثابت کر سکا، نہ supplier کی قانونی اہلیت کو challenge کیا اور نہ ہی ایسی کوئی مخصوص قانونی ممانعت دکھائی جس کے تحت یہ Input Tax ناقابلِ قبول ہو۔
لہٰذا محض assumption یا conjecture کی بنیاد پر Input Tax disallow نہیں کیا جا سکتا۔ یہ Rs. 27.032 million کی disallowance ختم کر دی گئی۔
Petroleum Products کا Input Tax
محکمہ نے تقریباً Rs. 1.048 million کا Input Tax صرف ایک پرانے CBR Letter کی بنیاد پر مسترد کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ departmental clarification یا executive instruction، قانون کے تحت حاصل شدہ حق کو ختم نہیں کر سکتی۔
چونکہ محکمہ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ petroleum products manufacturing process میں استعمال نہیں ہوئے، اور نہ ہی Sales Tax Act میں کوئی مخصوص ممانعت دکھائی گئی، اس لیے یہ disallowance بھی ختم کر دی گئی۔
اہم قانونی اصول
Input Tax کو صرف کسی چیز کے نام، عمومی تاثر، مفروضے یا departmental clarification کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل اہمیت goods کے حقیقی استعمال، supporting documents اور Sales Tax Act میں موجود واضح قانونی ممانعت کی ہے۔
اور جہاں معاملہ factual verification کا ہو، وہاں Tax Authority کو مکمل حقائق اور documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کرنا ہوگا۔
نتیجہ
کچھ Input Tax claims verification کے لیے DCIR کو remand کیے گئے، جبکہ بجلی اور petroleum کے متعلق Input Tax disallowances Tribunal نے ختم کر دیں۔