M Bin Ali Tax Advisors

M Bin Ali Tax Advisors Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from M Bin Ali Tax Advisors, Tax preparation service, Shop No. 168, Gate No. 4, New Grain Market, By Pass Road, Rahim Yar Khan, Rahimyar Khan.

1-NTN/Sales Tax Registration.
2-Income Tax.
3-Sales Tax.
4-Corporate Law.
5-Business Registration.
6-Partnership Registration.
6-Import/Export(PSW) Registration.
7-Internal Audit services.

کیا Input Tax صرف کسی چیز کے نام یا مفروضے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیو...
25/08/2026

کیا Input Tax صرف کسی چیز کے نام یا مفروضے کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ
📍 فورم: اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو، کراچی
📍 مقدمہ: M/s Omyapack (Pvt.) Ltd. بمقابلہ DCIR, Zone-II, MTO Karachi
📍 حوالہ: 2026 SLD 3429
📍 متعلقہ قانون: Sales Tax Act, 1990
محکمہ نے مختلف خریداریوں، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات پر حاصل کیے گئے Input Tax کو ناقابلِ قبول قرار دے کر تقریباً 37.24 ملین روپے کی Sales Tax Demand قائم کی، جبکہ اس کے ساتھ Penalty اور Default Surcharge بھی عائد کیا گیا۔
Taxpayer کا مؤقف
Taxpayer نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ نے کئی خریداریوں کو صرف ان کی عمومی نوعیت یا نام کی بنیاد پر ناقابلِ قبول قرار دیا، جبکہ اصل سوال یہ تھا کہ یہ اشیاء حقیقتاً manufacturing process میں کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔
مثلاً Feeding Silo اور اس کا Structure محض تعمیراتی سامان نہیں تھا بلکہ coating machine کی تنصیب اور operation کے لیے استعمال ہونے والا mechanical structure تھا، جو manufacturing process سے براہِ راست منسلک تھا۔
ATIR نے کیا قرار دیا؟
ATIR نے واضح کیا کہ Input Tax کی admissibility صرف کسی چیز کے نام سے طے نہیں ہوگی بلکہ اس کے حقیقی استعمال کو دیکھا جائے گا۔
Tribunal نے قرار دیا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ:
کیا goods taxable business میں استعمال ہوئے؟
کیا Section 8 کے تحت ان پر کوئی statutory exclusion لاگو ہوتی ہے؟
کیا supporting tax invoices قانون کی شرائط پوری کرتی ہیں؟
اسی لیے متعدد disputed purchases کا معاملہ factual verification کے لیے DCIR کو واپس بھیج دیا گیا، تاکہ goods کی اصل نوعیت، actual use اور متعلقہ documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کیا جائے۔
بجلی کے Input Tax کا اہم نکتہ
محکمہ نے تقریباً 27.03 ملین روپے کا بجلی کا Input Tax اس بنیاد پر مسترد کیا کہ supplier کے پاس Taxpayer کو فراہم کرنے کے لیے surplus electricity موجود نہیں تھی اور transaction کا مقصد Input Tax بڑھانا تھا۔
Taxpayer نے valid tax invoices، banking channel کے ذریعے payment، supplier کی Sales Tax Returns میں Output Tax اور valid NEPRA licence کا ریکارڈ پیش کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ محکمہ نہ transaction کو fictitious ثابت کر سکا، نہ supplier کی قانونی اہلیت کو challenge کیا اور نہ ہی ایسی کوئی مخصوص قانونی ممانعت دکھائی جس کے تحت یہ Input Tax ناقابلِ قبول ہو۔
لہٰذا محض assumption یا conjecture کی بنیاد پر Input Tax disallow نہیں کیا جا سکتا۔ یہ Rs. 27.032 million کی disallowance ختم کر دی گئی۔
Petroleum Products کا Input Tax
محکمہ نے تقریباً Rs. 1.048 million کا Input Tax صرف ایک پرانے CBR Letter کی بنیاد پر مسترد کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ departmental clarification یا executive instruction، قانون کے تحت حاصل شدہ حق کو ختم نہیں کر سکتی۔
چونکہ محکمہ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ petroleum products manufacturing process میں استعمال نہیں ہوئے، اور نہ ہی Sales Tax Act میں کوئی مخصوص ممانعت دکھائی گئی، اس لیے یہ disallowance بھی ختم کر دی گئی۔
اہم قانونی اصول
Input Tax کو صرف کسی چیز کے نام، عمومی تاثر، مفروضے یا departmental clarification کی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل اہمیت goods کے حقیقی استعمال، supporting documents اور Sales Tax Act میں موجود واضح قانونی ممانعت کی ہے۔
اور جہاں معاملہ factual verification کا ہو، وہاں Tax Authority کو مکمل حقائق اور documents کا جائزہ لے کر speaking order جاری کرنا ہوگا۔
نتیجہ
کچھ Input Tax claims verification کے لیے DCIR کو remand کیے گئے، جبکہ بجلی اور petroleum کے متعلق Input Tax disallowances Tribunal نے ختم کر دیں۔

The Faceless Tax Operating Model introduced through finance Act 2026, represents a paradigm shift and there was an urgen...
14/08/2026

The Faceless Tax Operating Model introduced through finance Act 2026, represents a paradigm shift and there was an urgent need to create awareness about it.
Hence a seminar spread over four sessions, was arranged on the 12th and 13th of August. IRS officers from all field formations, directorates and sub offices of FBR were invited and were divided in four sub groups for the sessions, to allow ample time for queries and interaction.
The session was conducted by Mr. Zain ul Abidin Sahi, Chief Domain Officer, PRAL, and Mr. Javed Iqbal Tarar, Director, Program Management Unit, who provided a comprehensive overview of the new operating model, its underlying framework and its implementation roadmap.
The discussion focused on the transition towards a technology-driven tax administration, with greater functional separation, algorithm-based allocation of cases, digital proceedings and reduced direct interaction between taxpayers and assessing officers.
The participants raised queries regarding the practical functioning and implementation of the model, which were addressed in detail by the guest speakers.

What a wonderful orderGift to all advocates tax consultants. Uploading order on iris is not suffient service.
12/08/2026

What a wonderful order
Gift to all advocates tax consultants. Uploading order on iris is not suffient service.

 # **کیا صرف Third-Party Purchase Data کی بنیاد پر پوری Purchases کو Income قرار دیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ...
12/08/2026

# **کیا صرف Third-Party Purchase Data کی بنیاد پر پوری Purchases کو Income قرار دیا جا سکتا ہے؟ ATIR کراچی کا اہم فیصلہ**

📍 **Forum:** Appellate Tribunal Inland Revenue, Karachi
📍 **Citation:** **2026 SLD 3371**
**ITA No. 659/KB/2026 — Tax Year 2021**
**Sections:** 122(1), 122(8), 111(1)(d)(i) & 127(5)(6), Income Tax Ordinance, 2001
# # # **Case کیا تھا؟**
Taxpayer ایک **Ghee Dealer** تھا۔ Department کو **definite information** موصول ہوئی کہ Taxpayer نے M/s Dalda Foods Limited اور M/s Wazir Ali Industries Limited سے تقریباً **Rs. 25.58 million** کی purchases کیں جو Return میں declare نہیں کی گئیں۔
اس بنیاد پر Section **122(1) read with Section 111(1)(d)(i)** کے تحت پوری purchase amount کو **Income from Other Sources** قرار دے کر addition کی گئی۔
**Taxpayer کے اہم Arguments**
Taxpayer نے مؤقف اختیار کیا کہ:
صرف **Third-Party Purchase Data** بذاتِ خود "Definite Information" نہیں، جب تک اسے concealment یا under-declaration of income سے properly link نہ کیا جائے۔
یہ purchases اس کے **declared business activity** یعنی Ghee Dealership کا حصہ تھیں اور purchases کو sales، turnover اور gross profit کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔
اگر purchase figure کو income سے relate کرنا بھی ہو تو **entire purchase amount income نہیں ہو سکتی**؛ زیادہ سے زیادہ business کا **profit element / Gross Profit** taxable ہو سکتا ہے۔
Taxpayer نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ اس نے detailed reply جمع کروایا لیکن **ADCR نے اس reply کو properly confront یا discuss نہیں کیا**۔
**ایک اہم Procedural Issue — Delay in Appeal**
Commissioner (Appeals) نے appeal کو **time-barred** قرار دے کر merits پر فیصلہ نہیں کیا۔
Taxpayer نے **condonation of delay** کی application بھی دی اور non-service of assessment order کا مؤقف اختیار کیا۔
ATIR نے قرار دیا کہ Commissioner (Appeals) کو صرف Department کے rebuttal پر rely کرنے کے بجائے **service of order کے evidence کو properly examine** کرنا چاہیے تھا۔
Tribunal نے یہ بھی اہم observation دی کہ **fiscal matters میں delay condonation کو taxpayer کے حق میں empathetically consider کیا جانا چاہیے، خصوصاً جب assessment order کی fitness اور propriety خود doubtful ہو۔**
# # # **ATIR نے Merits پر کیا کہا؟**
ATIR نے واضح کیا کہ Taxpayer **Ghee Dealer** ہے اور purchases اس کی regular trading activity کا حصہ ہیں۔
**Entire Purchase Amount = Income نہیں ہے۔**
Tribunal کے مطابق ایسی صورت میں Tax Officer کو business کے **Gross Profit percentage** کو Cost of Goods Sold کے تناظر میں دیکھنا چاہیے تھا۔ صرف اس بنیاد پر کہ purchases کی information Department کے علم میں آئی، پوری purchase amount کو income قرار دینا درست approach نہیں تھی۔
Tribunal نے یہ بھی قرار دیا کہ Commissioner (Appeals) کا order **non-speaking** تھا کیونکہ اس نے Taxpayer کے اہم arguments، خصوصاً پوری purchase amount کو income قرار دینے کے اعتراض، کو properly address نہیں کیا۔

12/08/2026
07/08/2026

کیا Double Taxation Treaty (DTT) ملکی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہے؟ سپریم کورٹ پاکستان کا اہم فیصلہ
فورم: سپریم کورٹ آف پاکستان
مقدمہ: Commissioner Inland Revenue v. M/s MSC Switzerland Geneva & Others
حوالہ: 2023 SCMR 1011 | 2023 SLD 1398
محکمہ کا مؤقف تھا کہ Section 4B کے تحت عائد کیا گیا Super Tax ایک علیحدہ اور خصوصی ٹیکس ہے، جسے تمام متعلقہ کمپنیوں کو ادا کرنا ہوگا۔ محکمہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ Double Taxation Treaties (DTTs) اس Super Tax پر لاگو نہیں ہوتیں، اس لیے Treaty کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب Taxpayers نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ Double Taxation Treaties واضح طور پر Taxes on Income پر لاگو ہوتی ہیں، اور Section 107 کے تحت اگر Treaty کی کوئی شق مقامی قانون سے مختلف ہو تو Treaty کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ متعلقہ Treaties مستقبل میں عائد ہونے والے identical یا substantially similar taxes کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کرتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے Taxpayers کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ Double Taxation Treaty ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، اور Section 107 کے تحت اس کی واضح شقیں مقامی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہیں۔ اگر Treaty میں کوئی واضح رعایت یا کم شرح مقرر ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ Super Tax بھی Treaty کے Article 2 کے تحت ایسے Taxes میں شامل ہو سکتی ہے جو identical یا substantially similar ہوں، لہٰذا متعلقہ Treaty کے مستحق Taxpayers کو Treaty کے مطابق ہی ٹیکس دینا ہوگا۔
FBR نے اس فیصلے کے خلاف Review Petitions دائر کیں، تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Review، Appeal کا متبادل نہیں۔ جب تک فیصلے میں کوئی ظاہر اور نمایاں قانونی غلطی (Error Apparent on the Face of Record) موجود نہ ہو، صرف پہلے والے دلائل دہرا کر Review نہیں مانگی جا سکتی۔ اسی بنیاد پر تمام Review Petitions مسترد کر دی گئیں۔
اہم قانونی اصول
Section 107 کے تحت Double Taxation Treaty کی واضح شقیں مقامی ٹیکس قانون پر فوقیت رکھتی ہیں۔
Treaty مستقبل میں عائد ہونے والے identical یا substantially similar taxes پر بھی لاگو ہو سکتی ہے، اگر Treaty میں ایسی شق موجود ہو۔
Review Petition دوبارہ سماعت (Re-hearing) کا ذریعہ نہیں؛ یہ صرف واضح قانونی یا ریکارڈ کی نمایاں غلطی کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔

07/08/2026

📢 ایف بی آر کی اہم اپ ڈیٹ: تھرڈ شیڈول اشیاء کے لیے کمیٹیوں کا قیام
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 5 اگست 2026 کو تھرڈ شیڈول میں شامل اشیاء سے متعلق مسائل کے حل کے لیے کمیٹیوں کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
🔹 دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں:
1️⃣ FBR ہیڈکوارٹرز کمیٹی، مقامی اشیاء کے لیے
کمیٹی درج ذیل امور کا جائزہ لے گی:
کاروباری اداروں کو درپیش عملی مشکلات
فیلڈ سے موصول ہونے والی سفارشات
ضروری ریگولیٹری اقدامات، بشمول STGOs
2️⃣ فیلڈ لیول کمیٹی، LTO کراچی، درآمدی اشیاء کے لیے
یہ کمیٹی درج ذیل معاملات پر توجہ دے گی:
درآمد شدہ اشیاء پر قیمت درج کرنے کے عملی طریقہ کار
پیکیجنگ اور مقدار سے متعلق امور
قیمت درج کرنے کے قانونی تقاضے
زرمبادلہ کی شرح اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت مقرر کرنے کا فارمولہ
💡 یہ اپ ڈیٹ کیوں اہم ہے؟
یہ اقدام تھرڈ شیڈول کی کمپلائنس سے متعلق طویل عرصے سے موجود مسائل، خصوصاً قیمت کے تعین اور دستاویزی تقاضوں کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ FBR پالیسی اور فیلڈ لیول دونوں پر کاروباری مسائل کو سمجھنے اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کو مزید واضح اور مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
📌 تھرڈ شیڈول اشیاء سے متعلق کاروبار کرنے والے افراد اور اداروں کو آئندہ پیش رفت اور کمیٹیوں کی سفارشات پر نظر رکھنی چاہیے۔

ایف بی آر کا اہم نیا اقدام — سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کریڈٹایف بی آر نے 20 جولائی 2026 کے سرکلر کے ذریعے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ک...
06/08/2026

ایف بی آر کا اہم نیا اقدام — سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کریڈٹ
ایف بی آر نے 20 جولائی 2026 کے سرکلر کے ذریعے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے ایک نیا خودکار طریقۂ کار متعارف کرایا ہے، جس کے تحت FTN ہولڈرز کی جانب سے منبع پر منہا کیے گئے سیلز ٹیکس کے کریڈٹ کا دعویٰ اب IRIS پورٹل کے ذریعے کیا جا سکے گا۔
🔹 ٹیکس دہندہ IRIS ڈیش بورڈ سے سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کے کریڈٹ کی درخواست جمع کرا سکے گا۔
🔹 درخواست کے ساتھ CPR یا ودہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا۔
🔹 الیکٹرانک تصدیق کے بعد منظور شدہ رقم ٹیکس دہندہ کے الیکٹرانک لیجر میں خودکار طور پر کریڈٹ ہوگی۔
🔹 یہ کریڈٹ ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔
یہ اقدام کاروباری افراد کے لیے نہ صرف ٹیکس کریڈٹ کے حصول کو آسان بنائے گا بلکہ غیر ضروری ریفنڈز اور ریکنسیلی ایشن کے مسائل میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
⚖️ ٹیکس قوانین میں بروقت تبدیلیوں سے باخبر رہیں اور اپنے جائز ٹیکس کریڈٹس کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

Address

Shop No. 168, Gate No. 4, New Grain Market, By Pass Road, Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200

Opening Hours

Monday 10:00 - 20:00
Tuesday 10:00 - 20:00
Wednesday 10:00 - 20:00
Thursday 10:00 - 20:00
Saturday 10:00 - 20:00
Sunday 10:00 - 20:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Bin Ali Tax Advisors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share