Such Pakistan

Such Pakistan Unfiltered truth from Pakistan
News | Awareness | Reality Check 🇵🇰

Subscribe Our Youtube Chanal
https://www.youtube.com/
(2)

26/08/2026

مجرم / ملزم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا ارتکاب کیوں کرتے
ہیں ۔

رائے کمنٹ کیجئے!

آیت نور دس اگست کو گھر سے کھیلنے کے لئے نکلی تھی جسے ملزمان قاسم ، عثمان اور طلحہ نے ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا...
25/08/2026

آیت نور دس اگست کو گھر سے کھیلنے کے لئے نکلی تھی جسے ملزمان قاسم ، عثمان اور طلحہ نے ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے اندھے کنویں میں پھینک دیا۔

عوام نے مطالبہ کیا ہے ان درندوں کو سرے عام پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے ۔ عوامی مطالبہ

پوسٹ کو شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں 👌


25/08/2026

عطائی (جعلی ڈاکٹر) سے علاج کا کوئی ایک نقصان کمنٹ میں بتائیں۔

بابر اعظم کی واپسی کا امکان، پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلیاں متوقعانگلینڈ کے خلاف لارڈز میں 27 اگست سے شروع ہونے والے دوسرے...
24/08/2026

بابر اعظم کی واپسی کا امکان، پاکستان ٹیم میں بڑی تبدیلیاں متوقع

انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں 27 اگست سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان ٹیم میں اہم تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

فٹنس کلیئرنس ملنے کی صورت میں بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی متوقع ہے، جبکہ ان کی شمولیت پر اذان اویس کو پلیئنگ الیون سے باہر ہونا پڑ سکتا ہے۔ محمد رضوان کو بھی آرام دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

لارڈز کی پچ خشک اور اسپن کے لیے سازگار ہوئی تو پاکستان دو اسپنرز کے ساتھ میدان میں اتر سکتا ہے، جبکہ فاسٹ بولر عبید شاہ بھی پلیئنگ الیون کے امیدوار ہیں۔

پہلے ٹیسٹ میں اننگز سے شکست کے بعد پاکستان تین میچز کی سیریز میں 0-1 سے پیچھے ہے۔ سیریز برابر کرنے کے لیے لارڈز ٹیسٹ میں کامیابی لازمی ہے۔

کیا بابر اعظم کی واپسی پاکستان کو سیریز میں واپس لا سکے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں بتائیں۔

صوبہ ہزارہ: صرف مطالبہ نہیں، 62 لاکھ آبادی، قدرتی وسائل اور مضبوط انتظامی بنیاد رکھنے والا خطہ ہے۔  تحقیقی رپورٹہزارہ کو...
24/08/2026

صوبہ ہزارہ: صرف مطالبہ نہیں، 62 لاکھ آبادی، قدرتی وسائل اور مضبوط انتظامی بنیاد رکھنے والا خطہ ہے۔

تحقیقی رپورٹ

ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر سیاسی اور عوامی بحث کے مرکز میں آ رہا ہے، لیکن اس بار سوال صرف یہ نہیں کہ ’’صوبہ ہزارہ بننا چاہیے یا نہیں؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہزارہ آبادی، رقبے، انسانی وسائل، قدرتی دولت، صنعت، سیاحت اور انتظامی ضرورت کے اعتبار سے ایک الگ صوبے کی بنیاد بن سکتا ہے؟

سرکاری اعدادوشمار اور دستیاب آئینی دستاویزات کا جائزہ اس سوال کو محض سیاسی نعرہ نہیں رہنے دیتا۔

پاکستان بیوروِ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی آبادی 61 لاکھ 88 ہزار 736 ہے، جبکہ اس کا رقبہ 17 ہزار 64 مربع کلومیٹر ہے۔ ہزارہ کی آبادی خیبر پختونخوا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 15 فیصد بنتی ہے۔

یعنی آبادی کے لحاظ سے ہزارہ کوئی معمولی انتظامی خطہ نہیں بلکہ 60 لاکھ سے زائد انسانوں پر مشتمل ایک بڑا علاقہ ہے۔

تعلیم میں ہزارہ کی نمایاں پوزیشن

2023ء کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ ڈویژن کی شرحِ خواندگی تقریباً 61 فیصد ہے، جو خیبر پختونخوا کے ڈویژنوں میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔ تاہم ہزارہ کے اندر تعلیمی صورتحال یکساں نہیں؛ ایبٹ آباد اور ہری پور جیسے اضلاع کے مقابلے میں کوہستان، تورغر اور کولئی پالس میں تعلیمی پسماندگی نمایاں ہے۔

یہی تضاد صوبہ ہزارہ کے حامیوں کے لیے ایک اہم دلیل بھی ہے: اگر ایک ہی خطے کے نسبتاً ترقی یافتہ اور انتہائی پسماندہ علاقوں کو ایک ہی انتظامی مرکز سے چلانے کے بجائے مقامی سطح پر فیصلہ سازی دی جائے تو کیا ترقی کا عمل تیز ہوسکتا ہے؟

لسانی شناخت بھی اہم، مگر اسے درست انداز میں سمجھنا ہوگا

2023ء کی مردم شماری کے مطابق ہزارہ میں ہندکو سب سے بڑی مادری زبان ہے، جبکہ پشتو، کوہستانی اور شینا سمیت دیگر زبانیں بھی خطے کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔

اس لیے ہزارہ کی شناخت کو محض ’’ہندکو بمقابلہ پشتون‘‘ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ ہزارہ ایک کثیر لسانی خطہ ہے، جہاں مختلف برادریاں صدیوں سے آباد ہیں۔

صوبہ ہزارہ کے حامیوں کا بنیادی مقدمہ بھی نسلی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی اختیار، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی ترقی کے گرد تعمیر کیا جاسکتا ہے۔

قدرتی دولت: ہزارہ کے پاس کیا ہے؟

ہزارہ کے صوبائی مطالبے کی سب سے اہم معاشی بنیاد اس کے قدرتی وسائل ہیں۔

کوہستان میں داسو پن بجلی منصوبہ مکمل ہونے پر تقریباً 4 ہزار 320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی رکھتا ہے۔ پہلے مرحلے کی پیداواری صلاحیت 2 ہزار 160 میگاواٹ ہے، جبکہ مکمل منصوبے سے سالانہ تقریباً 21 ارب یونٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

یہ اعداد صرف بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ ہزارہ کے لیے مستقبل کی صنعتی اور معاشی صلاحیت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

تاہم یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا: داسو سے پیدا ہونے والی پوری بجلی کی مالی قدر صوبہ ہزارہ کی آمدن نہیں ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر پن بجلی کے خالص منافع اور دیگر متعلقہ مالی حقوق میں نئے صوبے کا حصہ کتنا ہوگا ؟۔

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صوبہ ہزارہ کے معاشی مقدمے کو مزید مضبوط یا کمزور کرسکتا ہے۔

معدنیات: پہاڑوں کے اندر چھپی دولت

مانسہرہ کے سرکاری سرمایہ کاری ریکارڈ میں گرینائٹ، سنگِ مرمر، کرومائٹ، چونا پتھر، ڈولومائٹ، فیلڈ اسپار اور صابونی پتھر سمیت متعدد معدنی وسائل درج ہیں۔

اسی سرکاری ریکارڈ میں مانسہرہ کے گرینائٹ کے ذخائر تقریباً 8 ارب ٹن اور سنگِ مرمر کے ذخائر تقریباً 46 کروڑ 80 لاکھ ٹن درج کیے گئے ہیں۔

لیکن ایک ذمہ دارانہ رپورٹ کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ اعداد قدیم معدنیاتی ریکارڈ پر مبنی ہیں؛ انہیں موجودہ قابلِ استخراج یا قابلِ فروخت ذخائر قرار دینے کے لیے تازہ ارضیاتی سروے درکار ہے (تاحال ایسا کوئی سروے یا سروے رپورٹ دستیاب نہیں ہو سکی)

اصل سوال یہ ہے کہ ہزارہ کے پہاڑوں سے نکلنے والا خام پتھر دوسرے علاقوں میں جا کر مہنگی مصنوعات کیوں بنتا ہے؟ اگر یہی خام مال ہزارہ میں ہی کاٹ، تراش اور تیار کرکے ملکی و عالمی منڈی تک پہنچایا جائے تو روزگار، صنعت اور صوبائی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ہری پور: ہزارہ کا صنعتی انجن

ہزارہ کے ممکنہ صوبے کا سب سے مضبوط صنعتی ستون ہری پور بن سکتا ہے۔

ہری پور میں سیمنٹ، کیمیکل، فولاد، ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات، سرامکس، خوردنی تیل، برقی آلات اور دیگر صنعتی شعبے موجود ہیں۔

یہ علاقہ صرف قدرتی وسائل نہیں رکھتا بلکہ صنعتی پیداوار اور روزگار پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اگر ہزارہ کو الگ صوبائی انتظام ملتا ہے تو ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے درمیان صنعت، تعلیم، خدمات، سیاحت اور تجارت کا ایک مربوط معاشی خطہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

سیاحت: پہاڑ صرف نظارہ نہیں، معیشت بھی ہیں

کاغان، ناران، گلیات، ایوبیہ، تھنڈیانی، شوگران، سرن ویلی اور کوہستان کے وسیع علاقے ہزارہ کو پاکستان کے اہم ترین سیاحتی خطوں میں شامل کرتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہزارہ کے پہاڑ سالانہ کتنی معاشی سرگرمی پیدا کرتے ہیں؟

اگر سیاحت کو صرف ہوٹلوں تک محدود رکھنے کے بجائے سڑک، مقامی مصنوعات، دستکاری، خوراک، مہماتی سیاحت، سردیوں کی سیاحت، ماحولیاتی سیاحت اور مقامی روزگار کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ ایک مستقل معاشی شعبہ بن سکتا ہے۔

جنگلات بھی قومی دولت ہیں

مانسہرہ سمیت ہزارہ کے متعدد اضلاع میں وسیع جنگلات موجود ہیں۔

مستقبل کی معیشت میں ان جنگلات کو صرف لکڑی کے ذخیرے کے طور پر نہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ، کاربن کے منصوبوں، شہد، ادویاتی پودوں، جنگلاتی مصنوعات اور سیاحت کے ذریعے آمدن پیدا کرنے والے وسائل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اصل سوال: کیا ہزارہ خود کفیل صوبہ ہوسکتا ہے؟

اس سوال کا جواب ابھی جذبات سے نہیں دیا جاسکتا۔

ایک سنجیدہ مالیاتی جائزے کے لیے ہمیں تین چیزوں کا حساب کرنا ہوگا:

ہزارہ کی اپنی آمدن + وفاقی مالی حصہ + قدرتی وسائل سے قانونی حصہ

مقابلہ

تعلیم + صحت + پولیس + انتظامیہ + سڑکیں + ترقیاتی اخراجات + سرکاری ملازمین + پنشن

اگر آمدن اخراجات سے زیادہ ہو تو مالی خود کفالت کا مقدمہ مضبوط ہوگا، اور اگر فرق موجود ہو تو یہ دیکھنا ہوگا کہ وفاقی مالیاتی تقسیم سے اسے پورا کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ خیبر پختونخوا خود اپنی تمام مالی ضروریات صرف اپنے داخلی محصولات سے پوری نہیں کرتا اور وفاقی مالی منتقلیوں پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ اس لیے صوبہ ہزارہ کو صرف ’’اپنے ٹیکس سے چلنے‘‘ کی شرط پر پرکھنا مالیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔

آئینی راستہ موجود ہے، مگر آسان نہیں

صوبہ ہزارہ کا مطالبہ محض سڑکوں اور جلسوں تک محدود نہیں رہا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یکم دسمبر 2025ء کو صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے وفاقی حکومت سے آئینی عمل شروع کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

اس سے پہلے بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی ترامیم کے مسودے سینیٹ میں پیش کیے جاچکے ہیں۔ 2022ء میں سینٹ میں پیش کیے گئے آئینی ترمیمی بل میں واضح طور پر صوبہ ہزارہ کے قیام کی تجویز شامل تھی۔

یعنی یہ مطالبہ اب محض ایک علاقائی نعرہ نہیں بلکہ پارلیمانی اور آئینی سطح تک پہنچا ہوا مطالبہ ہے۔

تاہم صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مطلوبہ اکثریت، پارلیمانی منظوری، مالیاتی تقسیم، اثاثوں اور ملازمین کی تقسیم سمیت متعدد قانونی اور انتظامی مراحل طے کرنا ہوں گے۔

نتیجہ: ہزارہ سوال اب ’’صوبہ چاہیے یا نہیں؟‘‘ سے آگے بڑھ چکا ہے

اعدادوشمار یہ ضرور ثابت کرتے ہیں کہ ہزارہ کے پاس 61 لاکھ سے زائد آبادی، وسیع جغرافیہ، بلند تعلیمی صلاحیت، صنعتی مرکز، معدنی وسائل، پن بجلی کی غیر معمولی گنجائش، جنگلات، زراعت اور ملک کے اہم ترین سیاحتی مقامات موجود ہیں۔

یہ تمام چیزیں مل کر ایک سنجیدہ سوال ضرور پیدا کرتی ہیں:

«اگر اتنے بڑے خطے کو اس کے اپنے وسائل، مقامی ترجیحات اور مقامی انتظامی ضرورت کے مطابق چلانے کا موقع دیا جائے تو کیا ہزارہ پاکستان کا ایک مضبوط، منظم اور ترقی یافتہ صوبہ نہیں بن سکتا؟»

صوبہ ہزارہ کے حامیوں کے لیے اصل جدوجہد صرف نعرہ لگانے کی نہیں بلکہ اعدادوشمار کے ساتھ اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی ہے۔

اور مخالفین کے لیے بھی چیلنج یہی ہے کہ وہ صرف ’’نیا صوبہ ناقابلِ عمل ہے‘‘ کہنے کے بجائے یہ ثابت کریں کہ 61 لاکھ سے زائد آبادی، پن بجلی، معدنیات، صنعت، سیاحت اور دیگر وسائل رکھنے والے خطے کو الگ انتظامی اکائی بنانے کی ضرورت کیوں نہیں ؟

ہزارہ کا سوال اب جذبات سے زیادہ اعدادوشمار کا سوال بن چکا ہے۔

23/08/2026

اپنے علاقے کے بڑے مسائل کی نشاندہی کمنٹ میں کریں۔ شکریہ

کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا وقت کی ضرورت ہے؟ 🤔کیا چھوٹے صوبوں سے ترقی، بہتر ...
22/08/2026

کیا پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا وقت کی ضرورت ہے؟ 🤔

کیا چھوٹے صوبوں سے ترقی، بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک ریاستی سہولیات کی رسائی بہتر ہو سکتی ہے؟ یا اس سے ملک میں مزید انتظامی اور سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی؟

آپ کے خیال میں پاکستان میں نئے اور چھوٹے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں؟

👇 اپنی رائے صرف ایک لفظ میں نہیں، دلیل کے ساتھ کمنٹ کریں۔

دیکھتے ہیں عوام کی اکثریت کس مؤقف کے ساتھ کھڑی ہے!

راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج تعینات، نوٹیفکیشن جاریوفاقی حکومت نے راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ض...
22/08/2026

راولپنڈی میں 6 ماہ کے لیے فوج تعینات، نوٹیفکیشن جاری

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت کے لیے 6 ماہ کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں پاک فوج کی 3 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی۔ فوج ضلعی انتظامیہ کی سیکیورٹی میں معاونت کرے گی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خدمات انجام دے گی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے راولپنڈی میں فوج تعینات کرنے کی درخواست وفاقی حکومت کو ارسال کی تھی، جس پر منظوری دی گئی۔

حکام کے مطابق فوج کی تعیناتی کا مقصد ضلعی انتظامیہ کو سیکیورٹی امور میں معاونت فراہم کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مدد دینا ہے۔

آئی فون کی ضد نے ماں باپ اور بیٹے کی جان لے لیبھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر کے علاقے تیس گاؤں کی ای...
22/08/2026

آئی فون کی ضد نے ماں باپ اور بیٹے کی جان لے لی

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر کے علاقے تیس گاؤں کی ایک پہاڑی پر آئی فون کی قسط کی ادائیگی کے معمولی تنازعے نے ایک ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 18 سالہ نوجوان کنال نے کچھ عرصہ قبل آئی فون خریدا تھا، تاہم ماہانہ قسط کی رقم ادا کرنے کے لیے اس کے پاس پیسے موجود نہیں تھے۔ قسط کی رقم کا مطالبہ کرنے پر نوجوان کا اپنے ڈرائیور والد مرلی دھر سے شدید جھگڑا ہوگیا۔

جھگڑے کے بعد کنال غصے میں قریبی خطرناک پہاڑی پر چڑھ گیا اور وہاں سے کودنے کی دھمکی دینے لگا۔ اطلاع ملنے پر والدین، مقامی افراد، پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور تقریباً تین گھنٹے تک نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔

بعد ازاں صورتحال نے انتہائی افسوسناک رخ اختیار کیا اور مبینہ طور پر اس واقعے میں خاندان کے تین افراد، ماں، باپ اور بیٹے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ واقعہ اس بات کی ایک افسوسناک مثال ہے کہ معمولی مالی تنازع، جذباتی اشتعال اور فوری فیصلے کس طرح ایک پورے خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں کرپشن، ادویات چوری اور کمیشن کلچر کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت مؤقف۔ کیا زمینی حقائ...
22/08/2026

سرکاری ہسپتالوں میں کرپشن، ادویات چوری اور کمیشن کلچر کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت مؤقف۔ کیا زمینی حقائق بدلنے کے لیے صرف سٹنگ آپریشن کافی ہیں؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Such Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Such Pakistan:

Shortcuts

Share