28/01/2026
📢 ٹیکس دہندگان کے لیے اہم خوشخبری: ایف بی آر کے "شوکاز نوٹس" پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️🏛️
📍 کیس ریفرنس: کمشنر IR بنام عمر طارق خان | بتاریخ 27 جنوری 2026
آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو معزز سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف بی آر (FBR) کی بے جا قانونی کارروائیوں اور تاخیری حربوں کے خلاف ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن حکم جاری کیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب صاحب نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے، چاہے وہ سرکاری ادارہ ہی کیوں نہ ہو۔
بطور کارپوریٹ کنسلٹنٹ، اس فیصلے کے جو اہم نکات میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہیں:
سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر فیصلہ کرنا لازمی (Mandatory) ہے۔ اگر FBR اس مقررہ مدت کے بعد کوئی بھی آرڈر پاس کرے گا تو وہ غیر قانونی اور کالعدم تصور ہوگا، جیسا کہ اس حالیہ کیس میں ہوا۔
عدالتِ عالیہ نے سرکاری محکموں کی جانب سے طے شدہ قانونی اصولوں (Article 189) کو نظر انداز کر کے بار بار عدالتوں میں آنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یہ نہ صرف عدالتی وقت کا ضیاع ہے بلکہ ٹیکس دہندگان کو انصاف ملنے میں غیر ضروری تاخیر کا سبب بھی ہے۔
سرکاری افسران اپنی انا یا ضد کی خاطر عوامی ٹیکس کے پیسے سے مہنگے وکیلوں اور عدالتی فیسوں پر جو لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں، عدالت نے اس پر سخت گرفت کی ہے اور اسے روکنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے چیئرمین FBR کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دیں (جس میں ریٹائرڈ ججز اور ٹیکس ماہرین شامل ہوں) جو اپیل دائر کرنے سے پہلے یہ جانچ کرے کہ آیا کیس میں کوئی قانونی جان ہے بھی یا نہیں۔
اگر آپ کو ایف بی آر کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہوا ہے اور 120 دن گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا، تو اب قانون مکمل طور پر آپ کی پشت پر کھڑا ہے۔ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور قانونی تحفظ حاصل کریں۔
قانون کی آگاہی ہی آپ کے کاروبار کی اصل طاقت ہے